مغرور
2026-07-31
تحریر ۔ شاہد شکیل
انسانی نفسیات، رویوں کے مطالعے اور سماجی علوم میں غرور اور تکبر کو ایک ایسا پیچیدہ اور شدید منفی رویہ قرار دیا گیا ہے جو فرد کی شخصیت، اس کے باہمی تعلقات، فیصلے کرنے کی صلاحیت اور عمومی معاشرتی توازن کو گہرے طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ جب کسی انسان کو زندگی کے مختلف شعبوں میں فتح، کامرانی، تحسین، اجتماعی مقام یا کوئی غیر معمولی کامیابی حاصل ہوتی ہے، تو بعض اوقات وہ شدید غیر متوازن اور غیر منطقی رویے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بالاتر، ممتاز اور یکتا سمجھنے لگتا ہے، جبکہ دیگر افراد اور ان کے جذبات کو حقیر، کم تر اور بے وقعت گرداننے لگتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین اور اعصابی علوم کے تجزئیوں کے مطابق غرور اور تکبر کا یہ رویہ اکثر انسان کی اندرونی کمزوری، احساسِ کمتری، یا شدید ذہنی عدم تحفظ کو چھپانے کی ایک غیر شعوری اور مدافعتی کوشش ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر خود کو برتر اور عقلِ کل دکھانے والا شخص اندرونی طور پر سخت بے چینی، اعصابی کھنچاؤ اور حقیقی ذہنی تسکین کی عدم موجودگی کا شکار ہوتا ہے۔علمِ نفسیات اور رویاتی علوم کے مطابق غرور اور فخر کے درمیان ایک بہت واضح، منطقی اور بنیادی فرق موجود ہے۔ فخر ایک مثبت، متوازن اور تحریکی جذبہ ہے جو انسان کو اپنی مسلسل محنت، علمی قابلیت، سائنسی ایجاد، یا کسی اجتماعی و قومی کامیابی پر حاصل ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی مثبت کارنامے، سائنسی دریافت یا سماجی خدمت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتا ہے، اور اس کا مقصد دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا یا اپنی محنت کی قدر کو تسلیم کرنا ہوتا ہے، تو اسے فخر کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، غرور اور تکبر ایک ایسا نفسیاتی عارضہ ہے جس میں انسان اپنی ذات کی پرستش میں مبتلا ہو کر دوسروں کی تحقیر اور ان کی صلاحیتوں کا انکار کرنے لگتا ہے۔ مغرور شخص اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے، اس میں صرف اور صرف اس کی اپنی ذات کا دخل ہے اور اس میں کسی دوسرے فرد، ماحول یا نظام کا کوئی کردار نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی دوسرا انسان اس کے معیار یا مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی خود پسندانہ سوچ اسے وقت کے ساتھ ساتھ ایک شدید نفسیاتی الجھن کی طرف دھکیل دیتی ہے۔سماجی ماہرین کا سائنسی مشاہدات کی روشنی میں کہنا ہے کہ تکبر اور غرور کی عادت انسان کے سماجی تعلقات، باہمی ارتباط اور پیشہ ورانہ زندگی کو مکمل طور پر برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ جب کوئی فرد اپنے ارد گرد موجود لوگوں، رفقائے کار یا زیرِ دست افراد کے ساتھ تحقیر آمیز، سخت اور نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے، تو معاشرتی سطح پر کشیدگی، بد اعتمادی، خوف اور نفرت جنم لیتی ہے۔ مغرور فرد اپنی ہٹ دھرمی، خود پسندی اور دوسروں کے صائب مشوروں و حقائق کو یکسر نظر انداز کرنے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ شدید سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی مطالعوں سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوئی ہے کہ ایسا نامناسب رویہ طویل عرصے تک قائم رہنے کی صورت میں انسان کے اندر چڑچڑا پن، بے جا غصہ، اعصابی تناؤ اور ذہنی ناموافقت کو جنم دیتا ہے، کیونکہ وہ شخص مسلسل اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں اس کا قائم کردہ وہمی برتری کا معیار اور جھوٹا وقار ختم نہ ہو جائے۔صحت مند انسانی رویوں، سماجی اصولوں، سائنسی قوانین اور اعلیٰ اخلاقیات کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان کامیابی، مقام یا اقتدار حاصل ہونے پر عاجزی، انکسار، شائستگی اور مساوات کا مظاہرہ کرے۔ تاریخ، عمرانیات اور علمِ اجتماع کے اصول واضح طور پر بتاتے ہیں کہ جو افراد اپنے اعلیٰ علم، غیر معمولی صلاحیت یا طاقت کے باوجود عاجزی، اخلاق اور دیگر انسانوں کی عزتِ نفس کو ترجیح دیتے ہیں، وہی معاشرے میں پائیدار احترام، حقیقی مقام اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ عاجزی اور انکسار انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں، اس کے اعصابی نظام اور ذہنی توازن کو برقرار رکھتے ہیں اور اسے سماجی طور پر مقبول اور قابلِ اعتماد بناتے ہیں۔ اس کے برعکس غرور، تکبر اور خود بینی انسان کے درست فیصلے کرنے کی عقلی صلاحیت کو سلب کر دیتے ہیں اور اسے مسلسل زوال اور ناکامی کی طرف لے جاتے ہیں۔غرور اور تکبر کسی بھی سائنسی، نفسیاتی، طبی یا سماجی نقطۂ نظر سے انسان کے لیے مفید یا فائدے کا باعث نہیں بن سکتے۔ انسان کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر کتنی ہی کامیابی، اقتدار، علم یا معاشی طاقت حاصل ہو جائے، اسے چاہیے کہ وہ دیگر انسانوں کے ساتھ شائستگی، احترام، انصاف اور عاجزی کے ساتھ پیش آئے۔ اپنے رویوں کا مسلسل سائنسی و نفسیاتی جائزہ لینا، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا اور دیگر افراد کی محنت و خدمات کا احترام کرنا ہی وہ بنیادی سائنسی و سماجی اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان ایک متوازن، پرسکون، صحت مند اور حقیقی معنوں میں کامیاب زندگی بسر کرسکتا ہے۔