خاندان
2026-07-21
تحریر ۔ شاہد شکیل
خاندان انسان کی زندگی میں سب سے مضبوط سہارا بھی بن سکتا ہے اور سب سے بھاری بوجھ بھی۔ یہ سہارا اس وقت بنتا ہے جب رشتوں میں محبت، انصاف، سچائی، احترام اور ایک دوسرے کا خیال موجود ہو۔ لیکن جب خاندان کے نام پر کسی ایک شخص کو بار بار ذمہ داریوں، مالی مطالبات اور جذباتی دباؤ کے نیچے رکھا جائے تو یہی رشتے سکون کے بجائے اذیت کا سبب بن جاتے ہیں۔استعمال ہمیشہ کھلی بدتمیزی سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بہت نرم اور معصوم دکھائی دینے والے جملے بھی دباؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے: تم تو اپنے ہو، تمہارے سوا ہمارا کون ہے، بس اس بار مدد کر دو، گھر کی مجبوری ہے، بہن بھائیوں کے لیے انسان اتنا بھی نہیں کر سکتا؟ اگر یہ الفاظ حقیقی ضرورت اور سچی محبت کے ساتھ کہے جائیں تو ان میں درد ہوتا ہے، لیکن اگر ان کے پیچھے ہر بار فائدہ، پیسہ یا سہولت حاصل کرنے کی خواہش ہو تو یہی جملے جذباتی ہتھیار بن جاتے ہیں۔کچھ خاندانوں میں ایک فرد کو شروع ہی سے ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ وہ بڑا ہے تو اسی نے سب کچھ کرنا ہے، وہ کماتا ہے تو اسی نے دینا ہے، وہ بیرونِ ملک رہتا ہے تو یقیناً اس کے پاس بہت پیسہ ہوگا، وہ نرم دل ہے تو اسی سے مانگو، اور چونکہ وہ انکار نہیں کرتا اس لیے اسی پر مزید بوجھ ڈالتے رہو۔ آہستہ آہستہ اس کی محبت کو فرض، اس کی خاموشی کو رضامندی اور اس کے اچھے پن کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ حقیقت اکثر بھلا دی جاتی ہے کہ دینے والا بھی ایک انسان ہے۔ اس کی اپنی زندگی، اپنا گھر، اپنے خرچ، اپنی صحت، اپنی پریشانیاں، اپنے بچے اور اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ لیکن جو لوگ صرف لینے کے عادی ہو جائیں، انہیں سامنے والے کی حالت دکھائی نہیں دیتی۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ تم کیسے ہو، تم پر کیا گزر رہی ہے یا تمہارا اپنا گھر کس حال میں ہے۔ انہیں صرف اتنا یاد رہتا ہے کہ اس شخص سے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔خاندان کے نام پر استعمال کی سب سے عام شکل مالی ہوتی ہے۔ کبھی گھر کی مرمت، کبھی علاج، کبھی بچوں کی فیس، کبھی قرض، کبھی ٹیکس اور کبھی کسی اچانک ضرورت کے نام پر پیسے مانگے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر درخواست غلط ہو، کیونکہ حقیقی مجبوری کسی پر بھی آ سکتی ہے۔ لیکن جب ہر بار ایک ہی شخص سے مانگا جائے، حساب واضح نہ ہو، سچ چھپایا جائے، وعدے پورے نہ کیے جائیں اور مدد کو مستقل حق سمجھ لیا جائے تو یہ تعاون نہیں رہتا، بلکہ استعمال بن جاتا ہے۔استعمال کی ایک اور خطرناک شکل جذباتی دباؤ ہے۔ کسی کو یہ احساس دلانا کہ اگر اس نے مدد نہ کی تو وہ اچھا بھائی یا اچھی بہن نہیں، اگر اس نے پیسے نہ دیے تو اسے خاندان کی فکر نہیں، اور اگر اس نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا تو وہ خود غرض ہے۔ اس قسم کا دباؤ انسان کو اپنی خوشی سے نہیں بلکہ شرمندگی، خوف اور احساسِ جرم کے تحت فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔خاندان میں ایک بڑی ناانصافی یہ بھی ہے کہ مشترکہ ذمہ داریوں کو بانٹنے کے بجائے کسی ایک فرد کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ والدین کی دیکھ بھال، گھر کا خرچ، بہن بھائیوں کی مدد اور خاندان کے مسائل سب ایک ہی شخص کی ذمہ داری بنا دیے جاتے ہیں، جبکہ باقی لوگ صرف مشورے، توقعات اور شکایات کرتے رہتے ہیں۔ کسی ایک انسان کا اچھا ہونا پورے خاندان کی بے ذمہ داری کا جواز نہیں بن سکتا۔خاص طور پر بیرونِ ملک رہنے والے افراد کو اکثر صرف کمائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ پردیس میں رہنے والا ضرور امیر ہوگا، حالانکہ وہاں بھی کرایہ، بل، ٹیکس، بیماری، تنہائی، سخت محنت اور اپنی اولاد کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ہر بھیجی جانے والی رقم کے پیچھے کئی گھنٹوں کی محنت، جسمانی تھکن اور بہت سی قربانیاں چھپی ہوتی ہیں۔ جب خاندان ایک انسان کے بجائے صرف اس کی کمائی کو دیکھنے لگے تو وہ شخص آہستہ آہستہ رشتے میں اپنی انسانی حیثیت کھو دیتا ہے۔مسلسل استعمال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دینے والا اندر سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ پہلے فوراً فون اٹھاتا ہے، پھر سوچ کر اٹھاتا ہے اور آخرکار بچنے لگتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بدل گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ مسلسل دباؤ، مطالبات اور بے قدری نے اسے بدلنے پر مجبور کر دیا۔ بعض اوقات فاصلے نفرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی عزت، ذہنی سکون اور گھر کو بچانے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔اچھا خاندان وہ ہے جہاں دینے والے کی قدر بھی ہو۔ اگر آج وہ مدد نہیں کر سکتا تو اس کے انکار کو عزت دی جائے۔ اگر وہ حساب پوچھے تو اسے برا نہ کہا جائے۔ اگر واقعی ضرورت کے لیے پیسے لیے گئے ہیں تو حساب دینے میں شرم نہیں ہونی چاہیے۔ صاف رشتوں میں صاف بات سے خوف نہیں ہوتا۔ جہاں سوال پوچھنا جرم بن جائے، وہاں یقیناً کچھ نہ کچھ غلط موجود ہوتا ہے۔اصل رشتہ وہ ہے جہاں انسان کو اس کے دینے سے زیادہ اس کے ہونے کی وجہ سے چاہا جائے۔ اگر وہ مدد کر سکے تو بھی اپنا، اور اگر نہ کر سکے تو بھی اپنا۔ خاندان کا مطلب کسی ایک انسان کو نچوڑنا نہیں، بلکہ بوجھ بانٹنا ہے۔ جہاں رشتے صرف فائدے کے وقت یاد آئیں، وہاں محبت نہیں بلکہ حساب باقی رہ جاتا ہے، اور جہاں حساب محبت کی جگہ لے لے وہاں خاندان کا نام تو رہ جاتا ہے، مگر اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔