خاموشی
2026-07-09
تحریر ۔ شاہد شکیل
طلاق یا علیحدگی کو اکثر بڑے لوگ اپنے اختلاف، اپنی تکلیف، اپنی انا، اپنے غصے یا اپنے حالات کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب ساتھ رہنا مشکل ہو گیا ہے تو جدا ہو جانا شاید بہتر ہے۔ بعض حالات میں واقعی زندگی اتنی پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ علیحدگی ایک مجبوری بن جاتی ہے۔ مگر اس پورے عمل میں سب سے کم جس وجود سے پوچھا جاتا ہے، سب سے کم جس کے دل کو سمجھا جاتا ہے، اور سب سے کم جس کی خاموشی کو سنا جاتا ہے، وہ بچہ ہوتا ہے۔بچے کے لیے ماں اور باپ صرف دو انسان نہیں ہوتے، بلکہ اس کی پوری دنیا کے دو ستون ہوتے ہیں۔ وہ انہی کے درمیان اپنی حفاظت، محبت، شناخت اور سکون تلاش کرتا ہے۔ جب یہ دونوں ستون ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں تو بچہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ وہ صرف یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی دنیا بدل رہی ہے، گھر کی فضا بدل رہی ہے، لہجے بدل رہے ہیں، معمولات بدل رہے ہیں، اور وہ سکون جسے وہ اپنا حق سمجھتا تھا، آہستہ آہستہ اس سے چھن رہا ہے۔بڑے لوگ دلیل دیتے ہیں، وضاحت کرتے ہیں، الزام لگاتے ہیں، اپنے فیصلے کو درست ثابت کرتے ہیں، مگر بچہ ان باتوں کو اس طرح نہیں سمجھتا۔ اس کے لیے سوال بہت سادہ مگر بہت دردناک ہوتے ہیں۔ میرے والدین ایک ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے؟ کیا میری وجہ سے یہ سب ہوا؟ کیا میں نے کچھ غلط کیا؟ اب میں کس کے ساتھ رہوں گا؟ کیا مجھے چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا ماں مجھ سے دور ہو جائے گی؟ کیا باپ مجھے بھول جائے گا؟ یہ سوالات بچے کے دل میں طوفان بن کر اٹھتے ہیں، مگر وہ ہمیشہ زبان تک نہیں آتے۔بچوں کی تکلیف اکثر خاموش ہوتی ہے۔ وہ ہر درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے۔ کچھ بچے اچانک چپ ہو جاتے ہیں، کچھ ضدی دکھائی دینے لگتے ہیں، کچھ غصے میں رہتے ہیں، کچھ پڑھائی سے دور ہونے لگتے ہیں، کچھ رات کو ڈرنے لگتے ہیں، کچھ بار بار ماں یا باپ کے قریب رہنا چاہتے ہیں، کچھ اپنے اندر ایک عجیب سی بے چینی لے کر گھومتے ہیں۔ بڑوں کو یہ رویے بدتمیزی، ضد یا کمزوری لگ سکتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ بچے کے اندرونی خوف کی زبان ہوتے ہیں۔والدین کے درمیان کشیدگی بچے کے ذہن پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ وہ گھر کو محفوظ جگہ سمجھتا ہے، مگر جب اسی گھر میں آوازیں بلند ہوں، چہرے سخت ہوں، خاموشی بوجھل ہو، دروازے زور سے بند ہوں، اور ماں باپ ایک دوسرے سے دور دکھائی دیں تو بچے کا اعتماد ہل جاتا ہے۔ وہ باہر کی دنیا سے پہلے گھر سے ڈرنے لگتا ہے۔ اور جس بچے کا گھر ہی اس کے لیے اطمینان کا مرکز نہ رہے، اس کے دل میں عدم تحفظ کی جڑیں بہت گہری ہو جاتی ہیں۔اس تکلیف کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ بچے اکثر خود کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ شاید میری وجہ سے جھگڑا ہوا، شاید میری کسی بات سے ماں ناراض ہوئی، شاید میری غلطی سے باپ چلا گیا، شاید اگر میں بہتر بچہ ہوتا تو گھر نہ ٹوٹتا۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ بچہ اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ والدین کا اختلاف بڑوں کا معاملہ ہوتا ہے، مگر بچہ اسے اپنے وجود سے جوڑ لیتا ہے۔یہاں والدین کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اگر علیحدگی ناگزیر ہو بھی جائے تو سب سے پہلے بچے کے دل سے یہ بوجھ اتارنا ضروری ہے کہ وہ قصوروار نہیں۔ اسے صاف، نرم اور محبت بھرے انداز میں سمجھانا ہوگا کہ ماں باپ کے درمیان جو بھی مسئلہ ہے، اس کی ذمہ داری بچے پر نہیں۔ بچہ نہ فیصلہ کرنے والا ہے، نہ مجرم، نہ وجہ، نہ گواہ۔ وہ صرف محبت، حفاظت اور سکون کا حق دار ہے۔بدقسمتی سے کئی والدین اپنے اختلافات میں بچوں کو غیر محسوس طریقے سے شامل کر لیتے ہیں۔ کبھی بچے کے سامنے دوسرے والدین کی برائی کی جاتی ہے، کبھی بچے سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، کبھی اسے پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کبھی اسے ایک طرف کھڑا ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ سب بچے کے دل کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ بچہ ماں سے بھی محبت کرتا ہے، باپ سے بھی۔ اسے کسی ایک کو چننے پر مجبور کرنا اس کی معصومیت پر ظلم ہے۔بچہ عدالت نہیں ہوتا کہ وہ فیصلہ کرے کون درست ہے اور کون غلط۔ بچہ ہتھیار نہیں ہوتا کہ اسے دوسرے کے خلاف استعمال کیا جائے۔ بچہ ڈھال نہیں ہوتا کہ اسے اپنے غصے، انتقام یا شکایت کے سامنے رکھ دیا جائے۔ بچہ ایک مکمل انسان ہے، جس کا دل ہے، خوف ہے، محبت ہے، ضرورت ہے، اور ایک مستقبل ہے۔ والدین اگر اپنے دکھ میں یہ بات بھول جائیں تو نقصان صرف وقتی نہیں رہتا، بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔طلاق یا علیحدگی کے بعد بچے کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کبھی گھر بدلتا ہے، کبھی اسکول بدلتا ہے، کبھی معمولات بدلتے ہیں، کبھی ملاقاتوں کا وقت مقرر ہوتا ہے، کبھی ماں یا باپ میں سے کوئی ایک روزمرہ زندگی سے دور ہو جاتا ہے۔ بڑے لوگ ان تبدیلیوں کو انتظامی مسئلہ سمجھتے ہیں، مگر بچے کے لیے یہ جذباتی زلزلہ ہوتا ہے۔ اس کی دنیا کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ اسے دوبارہ سمجھنا پڑتا ہے کہ اب اس کی جگہ کہاں ہے۔ایسے وقت میں بچے کو سب سے زیادہ مستقل محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے یہ یقین چاہیے کہ حالات بدلے ہیں، مگر محبت ختم نہیں ہوئی۔ ماں اور باپ کے راستے جدا ہو سکتے ہیں، مگر بچہ دونوں کی ذمہ داری رہتا ہے۔ والدین کو یہ بات اپنے الفاظ سے بھی اور عمل سے بھی ثابت کرنی ہوگی۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم تم سے محبت کرتے ہیں۔ بچے کو یہ محبت وقت، توجہ، رابطے، احترام اور مستقل موجودگی میں محسوس ہونی چاہیے۔بچے کے سامنے دوسرے والدین کی توہین کرنا بہت نقصان دہ ہے۔ وقتی غصے میں کہا گیا ایک جملہ بچے کے دل میں برسوں تک رہ سکتا ہے۔ اگر ماں باپ ایک دوسرے کی عزت ختم کر دیں تو بچے کے دل میں اپنے ہی خاندان کے بارے میں ٹوٹ پھوٹ پیدا ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس انسان سے میں محبت کرتا ہوں، دوسرا اسے برا کیوں کہتا ہے؟ اس کشمکش میں بچہ اندر سے الجھ جاتا ہے۔ اس کے لیے دونوں والدین کی جگہ اہم ہوتی ہے، اس لیے ایک کو گرانا دراصل بچے کے اندر کے ایک حصے کو زخمی کرنا ہے۔والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بچے کے ردعمل فوراً سامنے نہیں آتے۔ بعض بچے شروع میں بالکل نارمل دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے وہ ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ بچے وقت کے ساتھ اپنا درد ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ بڑے ہو کر رشتوں سے خوف کھانے لگتے ہیں۔ کچھ اعتماد کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ کچھ ہر اختلاف کو ترک کیے جانے کے خوف سے جوڑ دیتے ہیں۔ بچپن کے زخم ہمیشہ بچپن میں ختم نہیں ہو جاتے، وہ کئی بار جوانی تک انسان کے ساتھ چلتے ہیں۔اس لیے علیحدگی کے عمل میں بچے کی ذہنی کیفیت پر خاص نظر رکھنی چاہیے۔ اگر بچہ بہت خاموش ہو رہا ہے، غیر معمولی غصہ دکھا رہا ہے، پڑھائی میں اچانک کمزور ہو رہا ہے، خوف زدہ رہتا ہے، نیند خراب ہے، کھانے پینے میں تبدیلی ہے، یا مسلسل اداس دکھائی دیتا ہے، تو اسے صرف ڈانٹنے یا سمجھانے سے کام نہیں چلے گا۔ ایسے وقت میں نرمی، گفتگو، توجہ اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات کی مدد بہت ضروری ہو سکتی ہے۔ بچے کا ذہنی زخم بھی زخم ہی ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ نظر نہیں آتا۔والدین کو اپنے اختلافات کے باوجود بچے کے سامنے ایک بنیادی احترام برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر ساتھ رہنا ممکن نہیں، تب بھی باوقار رابطہ ممکن ہونا چاہیے۔ ملاقات کے اوقات، اسکول کے معاملات، بیماری، ضروری فیصلے، تربیت اور جذباتی ضروریات کے حوالے سے دونوں کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔ بچے کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک بوجھ ہے یا والدین کی لڑائی کا حصہ ہے۔ اسے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ اب بھی دونوں کے لیے اہم ہے۔کئی بار والدین اپنی تکلیف میں اتنے ڈوب جاتے ہیں کہ بچے کی تکلیف کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔ وہ اپنے زخم بیان کرتے رہتے ہیں، مگر بچے کے دل کا زخم خاموش رہتا ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ بڑے انسان کے پاس الفاظ ہوتے ہیں، دوست ہوتے ہیں، رشتے دار ہوتے ہیں، کبھی قانونی راستے ہوتے ہیں، مگر بچہ اکثر اپنی تکلیف کے ساتھ اکیلا رہ جاتا ہے۔ وہ نہ مکمل سمجھ سکتا ہے، نہ مکمل بیان کر سکتا ہے، نہ حالات بدل سکتا ہے۔طلاق یا علیحدگی کے بعد بچوں کو جھوٹی امیدیں دینا بھی درست نہیں۔ اگر حالات بدل چکے ہیں تو انہیں عمر اور سمجھ کے مطابق سچ بتایا جانا چاہیے۔ مگر سچ کا انداز بہت اہم ہے۔ سخت، تلخ، الزام بھرا اور نفرت سے بھرا سچ بچے کو زخمی کر سکتا ہے۔ نرمی، حکمت اور محبت سے بتایا گیا سچ اسے حالات سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بچے کو حقیقت سے بے خبر رکھنا بھی نقصان دہ ہے، اور اسے بڑوں کی تلخ جنگ میں دھکیل دینا بھی نقصان دہ ہے۔بچے کو یہ حق ہے کہ وہ دونوں والدین سے محبت کر سکے، بغیر جرم کے احساس کے۔ اسے یہ حق ہے کہ وہ ماں سے ملے تو باپ سے بے وفائی محسوس نہ کرے، باپ سے ملے تو ماں سے غداری محسوس نہ کرے۔ یہ حق والدین کو دینا ہوگا۔ اگر وہ بچے کی محبت کو اپنی ذاتی جنگ کا حصہ بنا دیں گے تو بچہ محبت سے بھی ڈرنے لگے گا۔ محبت اس کے لیے سکون کے بجائے دباؤ بن جائے گی۔بعض گھروں میں علیحدگی کے بعد نیا رشتہ یا نیا خاندانی نظام بھی بچے کے لیے ایک نیا امتحان بن جاتا ہے۔ سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ کے ساتھ رہنا ہر بچے کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ہر نیا رشتہ برا نہیں، مگر ہر نیا رشتہ خود بخود محفوظ بھی نہیں ہوتا۔ بچے کو وقت، تحفظ، احترام اور اپنی جگہ کا احساس چاہیے۔ اسے یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی اصل جگہ چھن گئی ہے یا اب اسے کسی نئے انسان کی مرضی کے مطابق اپنی شخصیت بدلنی ہوگی۔والدین کو اپنی غیر موجودگی میں بھی یہ جاننے کی ذمہ داری ہے کہ بچہ کس ماحول میں رہ رہا ہے، اس کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے، وہ خوش ہے یا خوف زدہ، وہ کھل کر بات کر سکتا ہے یا نہیں۔ بچے کو صرف کھانا، کپڑا اور اسکول دے دینا کافی نہیں۔ اسے جذباتی حفاظت بھی چاہیے۔ اگر وہ کسی گھر میں جسمانی طور پر موجود مگر جذباتی طور پر اکیلا ہے، تو اس کی پرورش ادھوری ہے۔آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے والدین کے فیصلوں کی قیمت ادا نہ کریں۔ بڑوں کے اختلافات، ناکامیاں، ضد، انا، غلط فہمیاں یا مجبوریوں کا بوجھ بچوں کے کندھوں پر نہیں رکھا جانا چاہیے۔ بچہ پہلے ہی بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس کا دل بھی چھوٹا ہوتا ہے، اس کی سمجھ بھی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔ اس پر ایسی دنیا کا بوجھ ڈال دینا جسے بڑے خود نہیں سنبھال سکے، ناانصافی ہے۔طلاق یا علیحدگی کبھی کبھی زندگی کی حقیقت بن سکتی ہے، مگر بچوں کی تباہی اس کا لازمی نتیجہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر والدین سنجیدگی، احترام، نرمی، سچائی اور ذمہ داری سے کام لیں تو نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ بچے کا اعتماد بچایا جا سکتا ہے۔ اس کا مستقبل محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے دل میں یہ روشنی باقی رکھی جا سکتی ہے کہ حالات مشکل ضرور ہیں، مگر میں اکیلا نہیں ہوں۔بچے کو سب سے زیادہ یہ سننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ تم قصوروار نہیں ہو، تم اکیلے نہیں ہو، ہم تم سے محبت کرتے ہیں، اور تمہارا مستقبل ہمارے لیے اہم ہے۔ اگر والدین یہ بات صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کر دیں تو بہت سے ٹوٹے ہوئے حالات میں بھی بچے کے اندر امید باقی رہ سکتی ہے۔ ورنہ علیحدگی صرف دو بڑوں کے راستے جدا نہیں کرتی، کئی بار ایک بچے کے دل میں زندگی بھر کے لیے خاموش خلا چھوڑ جاتی ہے۔