خاموش وباء

2026-07-30

تحریر ۔ شاہد شکیل

طعام و قیام انسان کی بنیادی ترین ضروریات میں شمار ہوتے ہیں۔ ہر ذی روح اپنے وجود کو برقرار رکھنے، توانائی حاصل کرنے اور روزمرہ کی دوڑ دھوپ کے لیے خوراک کا محتاج ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ صبح و شام اپنی پسند کے مطابق طرح طرح کے کھانے رغبت اور شوق کے ساتھ تناول کرتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کیا ہے کہ جو لقمہ ہم اتنی رغبت سے اپنے حلق سے نیچے اتار رہے ہیں، وہ ہمارے جسم کے اندر جا کر کیا کر رہا ہے؟ کیا وہ ہمارے وجود کو توانائی اور شفا بخش رہا ہے یا پھر خاموشی سے بیماریوں کے بیج بو رہا ہے؟ ہماری روزمرہ خوراک میں نشاستہ، حیاتین، پروٹین، چکنائی اور متعدد اہم معدنیات موجود ہوتے ہیں، جو جسم کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن جدید دور کے فاسٹ فوڈ، بازاری کھانوں اور مصنوعی اشیاء نے ذائقے کو تو بڑھا دیا ہے، مگر ان کے نتائج ہمارے جسم کے لیے انتہائی ہلاکت خیز ثابت ہو رہے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کھانا کھانے کا مقصد صرف اور صرف بھوک مٹانا یا پھر نفس کی تسکین اور عارضی چٹخارہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہم غذائیت پر توجہ دینے کے بجائے محض پیٹ بھرنے کو ہی اصل کام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ صحت بخش اور متوازن خوراک کے بنیادی اصولوں سے ہم مکمل طور پر ناآشنا ہو چکے ہیں۔ اس لاپرواہی کا سیدھا اثر ہمارے اندرونی اعضاء پر پڑتا ہے۔ غیر متوازن اور پروسیس شدہ بازاری کھانوں کے متواتر استعمال کی وجہ سے ہمارے جگر، گردے، قلب اور دماغ کے بنیادی افعال سست پڑنے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہماری مشینری یعنی ہمارا جسم اندر سے درست نہیں رہے گا، تو ہم ظاہری طور پر کتنے ہی فعال نظر آنے کی کوشش کریں، بالآخر تھک ہار کر بستر سے جا لگیں گے۔بازار کی تلی ہوئی اشیاء، حد سے زیادہ سرخ گوشت کا استعمال اور تیز تند مصالحوں کی فراوانی ہمارے معدے کا نظام درہم برہم کر دیتی ہے۔ بدہضمی، تیزابیت اور معدے کی جلن وہ ابتدائی علامات ہیں جنہیں ہم اکثر ایک دو گولیاں کھا کر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ چھوٹی چھوٹی تکالیف دراصل کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ انہی غیر متوازن کھانوں کی وجہ سے آگے چل کر بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کے عوارض جیسے موذی امراض جنم لیتے ہیں۔ خون کی نالیوں میں چکنائی کا جمنا اور شریانوں کا تنگ ہونا کوئی یکلخت ہونے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ سالہا سال کی غیر محتاط خوراک کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سرسوں کے تیل کا بے جا استعمال، الکحل، بے تحاشا چائے نوشی اور دیگر بوجھل اشیاء بھی انسانی جگر اور گردوں پر غیر معمولی بوجھ ڈالتی ہیں اور انہیں وقت سے پہلے ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ایک توانا، فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ خوراک کی محض مقدار نہیں بلکہ اس کا معیار اہم ہوتا ہے۔ صرف پیٹ بھر لینا تندرستی کی ضمانت نہیں ہے۔ قدرت نے ہمارے لیے نباتات، پھل، سبزیوں، اناج اور دودھ کی شکل میں شفا اور توانائی کے انمول خزانے رکھے ہیں۔ ان فطری اشیاء کا متوازن استعمال انسان کی قوتِ مدافعت کو جلا بخشتا ہے اور جسم کو بیماریوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ خوراک میں قدرتی اجزاء کا تناسب درست رکھیں، تو ہم نہ صرف متعدد بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ ادویات کے بھاری اخراجات اور ذہنی تناؤ سے بھی بچ سکتے ہیں۔اگر ہم دنیا کی ان اقوام کا جائزہ لیں جہاں لوگ طویل اور صحت مند زندگی بسر کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ان کی لمبی عمر کا راز صرف سادہ اور متوازن خوراک تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کے طرزِ زندگی میں تحرک اور جسمانی مشقت بھی شامل ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ لوگ خوراک کو توانائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں نہ کہ وقت گزاری کا مشغلہ۔ اس کے برعکس ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ کاہلی، سستی اور چکنائی سے بھرپور کھانوں کے رجحان نے ہمارے ہاں چالیس اور پچاس سال کی عمر کے افراد کو ہی بزرگ بنا دیا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ کم عمری میں ہی امراضِ قلب، جوڑوں کے درد اور ذیابیطس کا شکار ہو کر ادویات کے مرہونِ منت ہو جاتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اس طرزِ عمل پر ازسرِ نو غور کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ بازاری کھانوں کا سحر، تیز مصالحوں کی چٹک اور غیر متوازن خوراک درحقیقت ایک خاموش وباء ہے جو ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہمیں مصنوعی اشیاء، ملاوٹ شدہ کھانوں اور بلا ضرورت ادویات پر انحصار ختم کر کے دوبارہ فطرت کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اپنی اور اپنے بچوں کی خوراک میں سادہ، قدرتی اور متوازن اشیاء کو شامل کرنا ہو گا تاکہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بیماریوں کی اس وباء سے بچ کر ایک صحت مند اور توانا زندگی بسر کر سکیں۔