جُرم اور قانون
2026-08-03
تحریر ۔ شاہد شکیل
معاشرتی امن اور شہریوں کی سلامتی کسی بھی قائم اور متوازن سوسائٹی کا بنیادی ترین مقصد ہوتی ہے۔ تاریخِ انسانی اور جدید سماجی سائنس کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کوئی بھی انسانی اجتماع اس وقت تک محفوظ اور پائیدار نہیں بن سکتا جب تک اس کے اندر شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کا ایک ٹھوس اور بے لچک نظام موجود نہ ہو۔ لیکن جب ہم دنیا کے مختلف خطوں میں سیکیورٹی اور معاشرتی تحفظ کے اندازِ فکر کا جائزہ لیتے ہیں، تو دو بالکل متضاد طرزِ عمل سامنے آتے ہیں۔ایک طرزِ عمل وہ ہے جو محض جذباتیت، اخلاقی تقریروں اور زبانی نصیحتوں پر تکیہ کرتا ہے، جبکہ دوسرا طرزِ عمل وہ ہے جو عمل، سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور قانون کے بے لچک خوف کو بنیاد بناتا ہے۔ ان دونوں سوچوں کا فرق ہی یہ طے کرتا ہے کہ کون سا معاشرہ اپنے شہریوں کو پرامن اور محفوظ ماحول دینے میں کامیاب ہوا اور کون سا معاشرہ مسلسل خوف اور بدحالی کا شکار رہا۔اگر ان خطوں اور ریاستوں کا مطالعہ کیا جائے جنھوں نے اپنے شہریوں، بالخصوص خواتین اور کمزور طبقات کو ایک محفوظ اور باوقار زندگی فراہم کی ہے، تو وہاں ایک بات بہت واضح نظر آتی ہے۔ ان معاشروں کی کامیابی کا راز اس بات میں نہیں ہے کہ وہاں کے لوگ پیدا ئشی طور پر فرشتے ہیں یا ان کے اندر کوئی مافوق الفطرت اخلاقیات موجود ہے، بلکہ ان کی کامیابی کا اصل راز یہ ہے کہ انھوں نے جرم کی گنجائش کو ختم کرنے کے لیے ایک سائنسی اور فنی نظام قائم کر رکھا ہے۔ان نظاموں میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمروں کا جال بچھا ہوتا ہے، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی فوری رسائی کو ممکن بنایا جاتا ہے، اور جدید ترین فرانزک اور تکنیکی ذرائع کا سہارا لیا جاتا ہے۔ وہاں کوئی بھی شخص جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جدید نظام کی موجودگی میں اس کا بچ نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔ اور اگر کوئی جرم سرزد ہو بھی جائے، تو عدالتی اور قانونی نظام بغیر کسی تاخیر، سیاسی اثر و رسوخ یا سفارش کے مجرم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیتا ہے۔اس سائنسی اور قانونی نظام کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہاں ایک تنہا عورت ہو یا کوئی کمزور انسان، وہ رات کے کسی بھی پہر کسی بھی خوف کے بغیر آزادانہ اور باوقار طریقے سے سفر کر سکتا ہے۔ یہ تحفظ کسی زبانی تحریض یا پند و نصائح سے حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ سخت قانون کے خوف، شفاف نظام اور جدید سیکیورٹی تدابیر کا براہِ راست نتیجہ ہے۔اس کے بالکل برعکس، جن خطوں میں سیکیورٹی اور تحفظ کو صرف اخلاقی نعروں، روایتی پابندیوں اور زبانی دعوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، وہاں کی حالت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہاں اکثر جرم کے اسباب پر سائنسی نقطہ نظر سے غور کرنے کے بجائے تمام تر ذمہ داری مظلوم پر ڈال دی جاتی ہے یا محض زبانی طور پر اخلاقیات کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ان معاشروں میں نہ تو ٹیکنالوجی کی مدد سے جرم کی روک تھام کا کوئی منظم ڈھانچہ موجود ہوتا ہے اور نہ ہی انصاف فراہم کرنے والا ادارہ اتنا فعال ہوتا ہے کہ مجرم کو فوری سزا دے سکے۔ اس کے نتیجے میں مجرم کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ، رشوت یا نظام کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر آسانی سے بچ نکلے گا۔ جب قانون کا خوف دلوں سے نکل جاتا ہے، تو پھر اخلاقیات کی تمام تر تقریریں اور نعرے بے اثر ہو جاتے ہیں، اور پورا سماج خوف، گھٹن اوربدامنی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔یہاں یہ بنیادی اور سائنسی حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کا رویہ اور اس کا کردار بڑی حد تک اس کے ماحول اور قانون کے خوف کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ صرف نصیحتوں کے زور پر جرائم کو ختم نہیں کر سکا۔ جرم کو روکنے کے لیے جدید ترین طرزِ حکمرانی، شفاف قانون، سخت سزاؤں کی یقین دہانی اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔جو معاشرے سائنسی تدبیر کو چھوڑ کر صرف جذباتی بیانیوں اور روایتی سوچ پر تکیہ کیے رہتے ہیں، وہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید غیر محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہاں خواتین اور عام شہریوں کی آزادی سلب ہو جاتی ہے اور پورا معاشرہ ایک دائمی بے یقینی کا شکار رہتا ہے۔حقیقی پیشرفت اور حقیقی تحفظ صرف اس وقت ممکن ہے جب زبانی جمع خرچ کو بلا جھجھک ترک کیا جائے، اور جدید دنیا کے سائنسی، قانونی اور سیکیورٹی ماڈل کو اپنایا جائے۔ جب تک قانون کا خوف بے لچک انداز میں قائم نہیں ہوگا، تب تک سوسائٹی میں نہ تو سچا امن آ سکتا ہے اور نہ ہی شہریوں کو وہ تحفظ مل سکتا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ سچی اور عقل پر مبنی بات یہی ہے، اور اسی کو تسلیم کیے بغیر سوسائٹی کی اصلاح ممکن نہیں۔