جِلد کی حِفاظت
2026-07-23
تحریر ۔ شاہد شکیل
ذیابیطس صرف خون میں شکر کی مقدار کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے اثرات جسم کے مختلف حصوں، خصوصاً جلد پر بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔ بہت سے افراد میں جلد کا غیر معمولی طور پر خشک، حساس یا خارش زدہ ہونا اس بیماری سے وابستہ ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات مسلسل پیاس، بار بار پیشاب اور دیگر علامات کے ساتھ جلد کی خشکی ذیابیطس کی ابتدائی علامتوں میں شامل ہوسکتی ہے، تاہم صرف خشک جلد کی بنیاد پر بیماری کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔جب خون میں شکر کی مقدار بڑھ جائے تو جسم اضافی شکر کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران جسم سے پانی بھی زیادہ خارج ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد اپنی قدرتی نمی کھونے لگتی ہے۔ طویل عرصے سے ذیابیطس میں مبتلا افراد کی جلد بعض اوقات زیادہ خشک، باریک اور حساس ہوجاتی ہے، جس پر خراشیں، دراڑیں اور انفیکشن نسبتاً آسانی سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ذیابیطس کے باعث جلد کے مسائل کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ خون میں شکر کی مسلسل بلند سطح اعصاب کو متاثر کرسکتی ہے، جس کی وجہ سے پسینہ اور قدرتی روغن پیدا کرنے والے غدود اپنی معمول کی کارکردگی برقرار نہیں رکھ پاتے۔ جلد تک خون کی روانی کم ہونے سے بھی اسے مناسب غذا، آکسیجن اور نمی نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ جسم کی دفاعی صلاحیت کمزور پڑنے سے جراثیم اور پھپھوندی سے ہونے والے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سب سے اہم احتیاط خون میں شکر کی سطح کو مناسب حد میں رکھنا ہے۔ جلد کی بیرونی نگہداشت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اگر بنیادی بیماری قابو میں نہ ہو تو صرف کریم یا لوشن سے مکمل فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ مناسب خوراک، تجویز کردہ علاج، جسمانی سرگرمی اور باقاعدہ طبی معائنہ جلد کی صحت کو بہتر رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔نہانے کا طریقہ جلد کی خشکی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بہت گرم پانی جلد کی قدرتی چکنائی کو ختم کرکے اسے مزید خشک بنا سکتا ہے، اس لیے نہانے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کرنا اور غسل کو مختصر رکھنا بہتر ہے۔ سخت صابن یا تیز خوشبو والے مواد کے بجائے ایسے نرم اور جلد کے موافق صفائی کے ذرائع استعمال کرنے چاہییں جو جلد کی قدرتی نمی کو مکمل طور پر ختم نہ کریں۔نہانے کے بعد جلد کو زور سے رگڑنے کے بجائے نرم تولیے سے آہستگی کے ساتھ خشک کرنا چاہیے۔ جسم کے ان حصوں پر خاص توجہ ضروری ہے جہاں جلد کی تہیں آپس میں ملتی ہیں، مثلاً انگلیوں کے درمیان، بغلوں اور کہنیوں یا گھٹنوں کی شکنوں میں۔ ان جگہوں پر نمی باقی رہنے سے جراثیم اور پھپھوندی کو بڑھنے کا سازگار ماحول مل سکتا ہے۔جلد خشک کرنے کے فوراً بعد مناسب موئسچرائزنگ کریم، لوشن یا بام لگانا فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایسی مصنوعات بہتر رہتی ہیں جو جلد میں نمی برقرار رکھنے، خشکی کم کرنے اور خارش سے سکون پہنچانے میں مدد دیں۔ صرف بہت زیادہ چکنائی والے مواد ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہوتے، کیونکہ وہ جلد پر تہہ تو بنا دیتے ہیں مگر بعض اوقات مطلوبہ نمی فراہم نہیں کرتے۔ حساس جلد کے لیے غیر خوشبودار اور نرم مصنوعات کو ترجیح دینی چاہیے۔ہاتھ بار بار دھونے سے بھی خشک ہوسکتے ہیں۔ ہر مرتبہ ہاتھ دھونے کے بعد ہلکی موئسچرائزنگ کریم لگانے سے جلد کو پھٹنے اور کھردرا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ گھر کی صفائی، برتن دھونے یا کیمیائی مواد کے استعمال کے دوران مناسب دستانے پہننا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ذیابیطس میں پاؤں کی دیکھ بھال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اعصابی کمزوری کے باعث بعض افراد کو معمولی زخم، چھالا، گرمی یا جلن کا احساس بروقت نہیں ہوتا۔ روزانہ پاؤں کا معائنہ کرنا چاہیے تاکہ سرخی، دراڑ، سوجن، چھالا یا زخم کی فوری نشان دہی ہوسکے۔ پاؤں کو روزانہ نیم گرم پانی سے مختصر وقت کے لیے دھونا اور بعد میں انگلیوں کے درمیان اچھی طرح خشک کرنا ضروری ہے۔پاؤں کو بہت گرم پانی میں دیر تک بھگونے سے گریز کرنا چاہیے۔ پانی کا درجہ حرارت ہاتھ کے بجائے کسی محفوظ ذریعے سے جانچنا بہتر ہوتا ہے، خصوصاً جب پاؤں کی حس کم ہو۔ پاؤں کی جلد پر موئسچرائزنگ کریم لگائی جاسکتی ہے، لیکن انگلیوں کے درمیان زیادہ کریم لگانے سے نمی جمع ہوسکتی ہے، اس لیے وہاں احتیاط ضروری ہے۔عوامی سوئمنگ پول، غسل خانے یا ایسی جگہوں پر جہاں بہت سے لوگ ننگے پاؤں چلتے ہوں، حفاظتی چپل پہننی چاہیے۔ ذیابیطس کے مریض پھپھوندی اور ناخنوں کے انفیکشن کا نسبتاً آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں۔ جن افراد کے پاؤں کے اعصاب پہلے ہی متاثر ہوں، انہیں گھر میں بھی ننگے پاؤں چلنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ کانٹا، شیشہ، گرم فرش یا کوئی دوسری چیز خاموشی سے زخم پیدا نہ کردے۔گرمیوں میں دھوپ، پسینہ اور جسم سے پانی کا اخراج جلد کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا، دھوپ سے بچنا اور جلد کے لیے موزوں سن اسکرین استعمال کرنا ضروری ہے۔ دھوپ سے تحفظ دینے والی چیز باہر نکلنے سے کچھ دیر پہلے لگانی چاہیے اور ضرورت کے مطابق دوبارہ استعمال کرنی چاہیے۔ شدید گرمی میں مختصر نیم گرم غسل کے بعد موئسچرائزر لگانے سے جلد کی نمی برقرار رہ سکتی ہے۔سردیوں میں ٹھنڈی ہوا اور کمروں کی خشک حرارت جلد سے نمی کھینچ لیتی ہے۔ اس موسم میں نسبتاً زیادہ نمی اور مناسب چکنائی فراہم کرنے والی کریم استعمال کی جاسکتی ہے۔ کمروں کو روزانہ کچھ دیر کے لیے کھول کر تازہ ہوا داخل کرنا بھی فائدہ مند ہے۔ سرد موسم میں باہر نکلتے وقت جلد کو ڈھانپنا اور دھوپ کی شعاعوں سے تحفظ برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ سردیوں کی دھوپ بھی جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔اگر جلد پر مسلسل خارش، سرخی، پیپ، سوجن، پھٹنے، زخم یا رنگ میں تبدیلی نظر آئے تو اسے معمولی خشکی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصاً پاؤں کا کوئی زخم چند دن میں بہتر نہ ہو، گرم محسوس ہو یا اس سے رطوبت خارج ہو تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔ ذیابیطس میں معمولی زخم بھی بروقت توجہ نہ ملنے پر سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔اس تحریر کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ یاد دلانا ہے کہ ذیابیطس کے ساتھ صحت مند زندگی ممکن ہے، بشرطیکہ جسم کی معمولی تبدیلیوں کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔ خون میں شکر کی مناسب سطح، روزانہ جلد اور پاؤں کا معائنہ، نرم صفائی، مکمل خشکی اور باقاعدہ نمی—یہ چند سادہ عادتیں جلد کو بڑی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔