انصاف کی تلاش

2026-07-07

تحریر ۔ شاہد شکیل

معاشرہ صرف عوام سے نہیں بنتا۔ معاشرہ اوپر بیٹھے ہوئے لوگوں، اداروں، فیصلوں، قانون، انتظام، تعلیم، عدالت، پولیس، حکمرانوں اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے مل کر بنتا ہے۔ اگر اوپر بیٹھا ہوا طبقہ زمین سے کٹ جائے تو نیچے رہنے والے لوگ آہستہ آہستہ پستے چلے جاتے ہیں۔ پھر ملک کا نام رہ جاتا ہے، جھنڈا رہ جاتا ہے، تقریریں رہ جاتی ہیں، مگر انسان کی زندگی اندر سے ٹوٹتی رہتی ہے۔حکمرانی صرف کرسی پر بیٹھنے کا نام نہیں۔ حکمرانی ذمہ داری کا نام ہے۔ ایک حکمران کے فیصلے کا اثر لاکھوں لوگوں کی روٹی، علاج، تعلیم، عزت، حفاظت اور مستقبل پر پڑتا ہے۔ اگر حکمران کو عام آدمی کی زندگی کا درد محسوس نہ ہو تو اس کی طاقت خطرناک ہو جاتی ہے۔ وہ ملک کو کاغذ، نقشے، اعداد، دوروں، تصویروں اور تقریروں میں دیکھتا ہے، مگر گلی میں کھڑے ہوئے مزدور، تھانے میں ذلیل ہوتے شہری، اسپتال کے باہر روتی ماں، اسکول سے باہر بچہ، اور گھر میں پٹتی عورت اسے نظر نہیں آتی۔سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اوپر عیاشی ہو اور نیچے بھوک۔ اوپر حفاظتی گاڑیاں ہوں، نیچے عام آدمی کو ایمبولینس نہ ملے۔ اوپر بڑے بڑے کمرے، ٹھنڈی ہوا، نرم کرسیاں اور لمبی میزیں ہوں، نیچے مزدور دھوپ میں کھڑا ہو۔ اوپر علاج بیرونِ ملک ہو، نیچے غریب دوا خریدنے سے پہلے قیمت دیکھے۔ اوپر بچوں کے لیے بہترین اسکول ہوں، نیچے بچے ٹوٹی ہوئی چھت کے نیچے بیٹھیں یا سرے سے اسکول ہی نہ جائیں۔ یہ فرق صرف معاشی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔حکمران اگر عوام سے دور ہو جائے تو اس کی زبان بھی بدل جاتی ہے۔ وہ مسئلے کو مسئلہ نہیں کہتا، چیلنج کہتا ہے۔ بھوک کو اعداد میں بدل دیتا ہے۔ بے روزگاری کو رپورٹ بنا دیتا ہے۔ عورت کے خوف کو پالیسی کے لفظ میں چھپا دیتا ہے۔ بچے کے عدم تحفظ کو کمیٹی کے حوالے کر دیتا ہے۔ مزدور کی موت کو حادثہ کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ زبان عام آدمی کے زخم پر مرہم نہیں، نمک بن جاتی ہے۔ایک ملک میں ادارے اس لیے ہوتے ہیں کہ حکمران کی مرضی کو حد میں رکھیں اور عوام کے حق کو محفوظ کریں۔ عدالت ہو تو انصاف دے۔ پولیس ہو تو حفاظت کرے۔ اسکول ہو تو انسان بنائے۔ اسپتال ہو تو علاج دے۔ دفتر ہو تو کام کرے۔ انتظامیہ ہو تو سہولت دے۔ اگر یہ ادارے اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ دیں تو پھر عام آدمی کس دروازے پر جائے؟ جب ہر دروازہ اسے دھکا دے، ہر دفتر اسے انتظار دے، ہر افسر اسے نیچا دکھائے، ہر کاغذ اسے تھکائے، تو اس کا ریاست پر اعتماد مرنے لگتا ہے۔ادارے جب کمزور ہوتے ہیں تو طاقتور لوگ قانون سے اوپر ہو جاتے ہیں۔ پھر غریب کے لیے قانون فوری آتا ہے، امیر کے لیے نرم ہو جاتا ہے۔ کمزور کی غلطی جرم بن جاتی ہے، طاقتور کا جرم غلط فہمی۔ غریب کے لیے تھانہ، امیر کے لیے فون کال۔ عام آدمی کے لیے لائن، بڑے آدمی کے لیے دروازہ کھلا۔ یہی دوہرا معیار معاشرے کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ کیونکہ انصاف اگر برابر نہ ہو تو وہ انصاف نہیں، انتظامی دھوکہ ہے۔نیچے پستا ہوا معاشرہ صرف معاشی طور پر نہیں پستا۔ وہ ذہنی طور پر بھی پستا ہے۔ جب آدمی ہر روز فکر میں اٹھے کہ آج خرچ کیسے نکلے گا، بچے کی فیس کہاں سے آئے گی، دوائی کیسے ملے گی، کام بچا رہے گا یا نہیں، بجلی کا بل کیسے ادا ہوگا، تو اس کی روح تھک جاتی ہے۔ تھکا ہوا آدمی ہمیشہ برا نہیں ہوتا، مگر وہ کمزور ضرور ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر صبر کم ہوتا ہے، غصہ بڑھتا ہے، خوف بڑھتا ہے، اور کبھی کبھی وہی غصہ گھر کے کمزور لوگوں پر اترتا ہے۔اس لیے اوپر کی بے حسی نیچے کے گھروں میں بھی زہر بن کر اترتی ہے۔ جب ریاست شہری کو عزت نہیں دیتی، شہری بھی اپنے گھر میں عزت دینا بھول سکتا ہے۔ جب ادارہ اسے ذلیل کرتا ہے، وہ کسی اور کو ذلیل کر کے اپنے اندر کی شکست چھپاتا ہے۔ جب حکمران اسے نظر انداز کرتا ہے، وہ اپنے سے کمزور کو نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ یہ جواز نہیں، مگر حقیقت ہے کہ اوپر کی خرابی نیچے کی زبان، رویے اور کردار کو متاثر کرتی ہے۔حکمرانوں کی سب سے بڑی ناکامی یہ نہیں کہ ملک غریب ہے۔ اصل ناکامی یہ ہے کہ غریب کی تکلیف کو معمول سمجھ لیا جائے۔ غربت سے لڑنا مشکل ہے، مگر غربت کو نظر انداز کرنا جرم ہے۔ اگر حکمران کو معلوم ہی نہ ہو کہ عام آدمی کس طرح بس میں سفر کرتا ہے، کیسے لائن میں کھڑا ہوتا ہے، کیسے سرکاری دفتر میں چکر لگاتا ہے، کیسے اسپتال کے باہر انتظار کرتا ہے، کیسے تھانے سے ڈرتا ہے، تو وہ حکومت نہیں کر رہا، صرف کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔اداروں کا کام عام آدمی کو بھکاری بنانا نہیں، شہری بنانا ہے۔ شہری وہ ہوتا ہے جس کا حق ہو، آواز ہو، عزت ہو، شکایت کا راستہ ہو، قانون کے سامنے مقام ہو۔ بھکاری وہ ہے جو ہر کام کے لیے کسی کی مہربانی کا محتاج ہو۔ خراب نظام عام آدمی کو شہری سے بھکاری بنا دیتا ہے۔ اسے اپنے حق کے لیے بھی سفارش چاہیے، علاج کے لیے بھی سفارش، نوکری کے لیے بھی سفارش، انصاف کے لیے بھی سفارش۔ جہاں حق سفارش سے ملے، وہاں ریاست بیمار ہے۔اوپر بیٹھے لوگ اکثر کہتے ہیں کہ عوام کو صبر کرنا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمیشہ نیچے والا ہی صبر کیوں کرے؟ بھوکا صبر کرے، مزدور صبر کرے، عورت صبر کرے، بچہ صبر کرے، مریض صبر کرے، بے روزگار صبر کرے، بوڑھا صبر کرے، مگر طاقتور اپنے آرام، خرچ، پروٹوکول، سہولت، سفر، عیاشی، مراعات اور غرور پر صبر کیوں نہیں کرتا؟ صبر اگر صرف کمزور کے حصے میں آئے تو وہ اخلاق نہیں، ظلم کا دوسرا نام ہے۔حکمران اور ادارے جب عوام سے جواب دہ نہ رہیں تو معاشرے میں بے شرمی پیدا ہوتی ہے۔ اوپر والا غلطی کر کے بھی مسکراتا ہے۔ ادارہ ناکام ہو کر بھی وضاحت دیتا ہے۔ افسر کام نہ کر کے بھی عزت لیتا ہے۔ طاقتور ظلم کر کے بھی قانون سے بچتا ہے۔ پھر عام آدمی یہ سب دیکھ کر کیا سیکھے گا؟ وہ سیکھے گا کہ ذمہ داری صرف کمزور پر ہے۔ طاقتور کے لیے بہانہ ہے، کمزور کے لیے سزا۔حکمران اگر واقعی حکمران ہے تو اسے نیچے دیکھنا ہوگا۔ نیچے صرف ووٹ نہیں ہیں، انسان ہیں۔ نیچے صرف عوام نہیں، زندگیاں ہیں۔ نیچے صرف اعداد نہیں، چہرے ہیں۔ ہر چہرے کے پیچھے گھر ہے، بھوک ہے، امید ہے، خوف ہے، عزت ہے، تکلیف ہے۔ جو حکمران نیچے نہیں دیکھتا، وہ ملک نہیں دیکھتا۔ وہ صرف اپنا دائرہ دیکھتا ہے، اپنی حفاظت دیکھتا ہے، اپنی تصویر دیکھتا ہے، اپنی طاقت دیکھتا ہے۔نیچے پستا ہوا معاشرہ آخر میں صرف شکایت نہیں کرتا، ٹوٹنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ جرم کی طرف جاتے ہیں۔ کچھ نشے کی طرف۔ کچھ خاموشی کی طرف۔ کچھ گھر کے اندر ظالم بن جاتے ہیں۔ کچھ مکمل بے حس ہو جاتے ہیں۔ کچھ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ کچھ اپنے بچوں کو صرف یہ سکھاتے ہیں کہ یہاں سیدھا رہ کر کچھ نہیں ملتا۔ جب ایک نسل اپنے بچوں کو امید کے بجائے بداعتمادی دے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ اوپر کی ناکامی نیچے کی تربیت میں داخل ہو چکی ہے۔حکمرانوں اور اداروں کی ذمہ داری صرف جرم کے بعد بیان دینے کی نہیں۔ اصل ذمہ داری جرم سے پہلے ایسا ماحول بنانے کی ہے جہاں ظلم مشکل ہو، انصاف آسان ہو، اور کمزور اکیلا نہ رہے۔ اگر ہر سانحے کے بعد صرف افسوس ہو، کمیٹی ہو، بیان ہو، تصویر ہو، اور پھر سب کچھ ویسا ہی رہے، تو یہ حکمرانی نہیں، تماشا ہے۔ عوام کا درد تماشا نہیں ہوتا۔ کسی بچے کی لاش، کسی عورت کی چیخ، کسی مزدور کی بھوک، کسی بزرگ کی ذلت، یہ سب تقریر کا سامان نہیں، نظام کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔اداروں کو انسان کے لیے ہونا چاہیے، انسان اداروں کے لیے نہیں۔ اگر شہری کو اپنے ہی ملک کے دفتر میں داخل ہوتے ہوئے خوف آئے، اگر اسے اپنی بات کہتے ہوئے شرم دلائی جائے، اگر اسے کام کے لیے رشوت، سفارش یا ذلت میں سے کوئی راستہ چننا پڑے، تو ادارہ اپنی اصل روح کھو چکا ہے۔ ادارہ وہ ہے جو انسان کو سیدھا کھڑا کرے، نہ کہ اسے جھکا جھکا کر کام دے۔اوپر بیٹھے ہوئے لوگ اکثر نیچے کے غصے کو بدتمیزی سمجھتے ہیں۔ مگر کبھی یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ غصہ آیا کہاں سے۔ سالوں کی ذلت، بھوک، بے انصافی، دھکے، وعدہ خلافی، بے روزگاری، خوف، اور بار بار ٹوٹنے والی امید انسان کے اندر آگ بناتے ہیں۔ یہ آگ اگر راستہ نہ پائے تو کبھی گھر جلاتی ہے، کبھی گلی، کبھی رشتہ، کبھی خود انسان کو اندر سے جلا دیتی ہے۔ حکمرانی کا کام اس آگ کو سمجھنا ہے، صرف اسے دبانا نہیں۔ایک معاشرے کی اصلاح اوپر سے بھی شروع ہوتی ہے اور نیچے سے بھی۔ مگر اوپر والا اگر خود کو آئینے میں نہ دیکھے تو نیچے والے کو صرف نصیحت دینے سے کچھ نہیں بدلتا۔ جب حکمران سادگی کی بات کرے اور خود عیاشی میں رہے، جب ادارہ قانون کی بات کرے اور خود قانون توڑے، جب افسر خدمت کی بات کرے اور عوام کو دھکے دے، جب لیڈر اخلاق کی بات کرے اور اپنے عمل میں بے شرمی دکھائے، تو عوام لفظوں پر نہیں، عمل پر یقین کرتے ہیں۔ اور عمل اگر گندا ہو تو تقریر کتنی بھی صاف ہو، اثر نہیں کرتی۔اصل بات یہ ہے کہ حکمرانی تخت نہیں، امانت ہے۔ ادارہ عمارت نہیں، ذمہ داری ہے۔ قانون کتاب نہیں، شہری کا سہارا ہے۔ اگر یہ سب اپنی اصل روح کھو دیں تو نیچے معاشرہ پستا ہے، ٹوٹتا ہے، بگڑتا ہے، اور پھر اسی بگاڑ کو اگلی نسل میں منتقل کرتا ہے۔ اوپر کی بے حسی نیچے کی خرابی کو جنم دیتی ہے، اور نیچے کی خرابی پھر پورے ملک کا چہرہ بن جاتی ہے۔جب تک حکمران زمین پر چلنے والے انسان کو نہیں دیکھے گا، جب تک ادارہ شہری کو فائل نہیں بلکہ انسان سمجھے گا نہیں، جب تک طاقتور کو حساب اور کمزور کو سہارا نہیں ملے گا، تب تک معاشرہ صرف چلتا رہے گا، سنورتا نہیں۔ اور جو معاشرہ صرف چلتا رہے مگر سنورے نہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتا ہے۔