اِلزام

2026-07-12

تحریر ۔ شاہد شکیل

ہمارے معاشرے کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں، خرابیوں اور اخلاقی زوال کا سبب اکثر دوسروں میں تلاش کرتے ہیں۔ جب بھی معاشرتی بگاڑ کی بات آتی ہے تو ہماری انگلی فوراً مغرب، میڈیا، زمانے، نئی نسل یا بیرونی اثرات کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ ہم یہ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ سب کچھ باہر سے آیا ہے، سب خرابی دوسروں نے پیدا کی ہے، ہماری اصل تہذیب تو بہت پاکیزہ تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر خرابی صرف باہر سے آئی ہے تو پھر ہمارے اندر اسے قبول کرنے کی جگہ کس نے پیدا کی؟مغرب کو الزام دینا آسان ہے، اپنے کردار کو دیکھنا مشکل ہے۔ ہم مغرب کی بے حیائی، آزادی، فحاشی، خاندانی نظام کی کمزوری اور اخلاقی مسائل پر لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں، مگر اپنے معاشرے میں موجود جھوٹ، دھوکا، ناانصافی، بددیانتی، ظلم، منافقت، قانون شکنی اور کمزوروں کے استحصال پر اتنی سختی سے بات نہیں کرتے۔ ہم دوسروں کی برائی دور سے دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے گھر کی خرابی سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ یہی ہماری فکری کمزوری ہے۔یہ بات درست ہے کہ مغربی معاشروں میں بھی بہت سی خامیاں ہیں۔ وہاں بھی خاندانی نظام کے مسائل ہیں، وہاں بھی مادہ پرستی ہے، وہاں بھی اخلاقی بحران ہیں، وہاں بھی انسان اندر سے تنہا اور بے سکون ہے۔ مگر کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ مغرب خراب ہے؟ اگر مغرب خراب ہے تو ہم اچھے کیوں نہیں بنے؟ اگر ہمارے پاس دین، اخلاق، تربیت، خاندانی اقدار اور روحانی رہنمائی موجود تھی تو پھر ہم اپنے معاشرے کو بہتر کیوں نہ بنا سکے؟اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب کیا کر رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اگر ہمارے بازاروں میں دھوکا ہے، ہمارے دفاتر میں سفارش ہے، ہمارے اداروں میں ناانصافی ہے، ہمارے گھروں میں رشتے کمزور ہیں، ہمارے معاشرے میں عورت، بچہ اور کمزور محفوظ نہیں، ہمارے رویوں میں برداشت نہیں، ہماری زبان میں نرمی نہیں، ہمارے معاملات میں دیانت نہیں، تو پھر ہم صرف مغرب کو برا کہہ کر خود کو پاک کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟اسلام نے انسان کو جو اصول دیے وہ نہایت واضح تھے۔ سچ بولنا، امانت ادا کرنا، وعدہ پورا کرنا، کمزور کا حق دینا، ظلم سے بچنا، انصاف قائم کرنا، پڑوسی کا خیال رکھنا، عورت کی عزت کرنا، بچے پر شفقت کرنا، والدین کا احترام کرنا، مزدور کا حق دینا، تجارت میں دیانت رکھنا، اور انسان کے ساتھ انسان جیسا سلوک کرنا۔ یہ سب اصول صرف عبادت گاہوں کے لیے نہیں تھے، زندگی کے ہر میدان کے لیے تھے۔ مگر ہم نے ان اصولوں کو کتابوں، خطبوں، نعروں اور تقریروں میں تو رکھا، اپنی روزمرہ زندگی میں کم اتارا۔ہم نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور مذہبی شناخت پر فخر کرتے ہیں، اور یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ایک انسان نماز پڑھ کر بھی جھوٹ بولتا ہے، روزہ رکھ کر بھی دوسروں کا حق مارتا ہے، مذہب کا نام لے کر بھی کمزور پر ظلم کرتا ہے، اور دین کی بات کر کے بھی اپنے عمل میں انصاف نہیں رکھتا، تو پھر مسئلہ دین میں نہیں، اس انسان کے کردار میں ہے۔ دین انسان کو بہتر بنانے آیا تھا، اگر انسان دین کے نام پر بھی بدتر رہ جائے تو یہ اس کی اپنی ناکامی ہے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مذہب کی آڑ میں ظلم، جبر، دھوکا، مفاد پرستی اور طاقت کا غلط استعمال سب سے خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کیونکہ جب کوئی انسان اپنی خواہش کو مذہبی رنگ دے دیتا ہے تو پھر وہ اپنی غلطی کو غلط ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنے نفس، اپنی انا اور اپنے مفاد کا پیروکار ہوتا ہے۔ ایسے رویے معاشرے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتے ہیں۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ مغرب نے ہماری نسل کو خراب کیا، مگر کیا ہم نے اپنی نسل کو مضبوط تربیت دی؟ کیا ہم نے بچوں کو سچ، دیانت، احترام، برداشت، ذمہ داری اور انسانیت سکھائی؟ کیا ہم نے انہیں یہ بتایا کہ کامیابی صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے؟ کیا ہم نے اپنے گھروں میں وہ ماحول دیا جہاں بچہ اخلاق کو عمل میں دیکھ سکے؟ اگر نہیں، تو پھر صرف باہر کو الزام دینا اپنی ذمہ داری سے بھاگنا ہے۔کسی بھی قوم کا زوال صرف بیرونی حملوں سے نہیں ہوتا۔ قومیں اندر سے کمزور ہوں تو باہر کے اثرات انہیں زیادہ آسانی سے متاثر کرتے ہیں۔ اگر گھر کی بنیاد مضبوط ہو تو ہوا کا جھونکا اسے نہیں گراتا۔ لیکن اگر بنیاد ہی کمزور ہو، دیواریں اندر سے کھوکھلی ہوں، اور چھت صرف دکھاوے کے لیے قائم ہو، تو پھر معمولی دباؤ بھی اسے گرا سکتا ہے۔ ہماری اخلاقی بنیادیں کمزور ہوئیں، اسی لیے باہر کے اثرات نے ہمیں زیادہ تیزی سے متاثر کیا۔مغربی ممالک میں خامیاں اپنی جگہ، مگر کچھ اصول ایسے ہیں جن پر انہوں نے عمل کیا اور آگے بڑھے۔ وقت کی پابندی، قانون کا احترام، اداروں کا تسلسل، شہری ذمہ داری، انسانی حقوق، کام میں نظم، صفائی، ٹیکس کا نظام، وعدے کی اہمیت، اور اجتماعی مفاد کا شعور۔ یہ سب اصول ہمارے دین، ہماری تہذیب اور ہماری اخلاقی تعلیمات سے اجنبی نہیں تھے۔ بلکہ ان میں سے بہت سے اصول وہ ہیں جن کی تعلیم ہمیں بہت پہلے دی جا چکی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے عمل کیا، ہم نے دعویٰ کیا۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دعوے میں بہت مضبوط ہیں، مگر عمل میں کمزور۔ ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، مگر چھوٹے چھوٹے معاملات میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہم قوم، دین، غیرت، عزت اور تہذیب کے نام پر جذباتی ہو جاتے ہیں، مگر روزمرہ زندگی میں کسی کا حق مارنے سے نہیں ہچکچاتے۔ ہم بیرونی سازشوں کی بات کرتے ہیں، مگر اپنی اندرونی بددیانتی پر خاموش رہتے ہیں۔ یہی تضاد ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتا۔اگر ہم واقعی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ خرابی صرف باہر نہیں، ہمارے اندر بھی ہے۔ جب تک انسان اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا، اصلاح شروع نہیں ہوتی۔ جو شخص ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا رہے، وہ کبھی خود کو نہیں بدلتا۔ اور جو معاشرہ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ صرف شکایت کر سکتا ہے، ترقی نہیں کر سکتا۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ خود احتسابی کا مطلب خود سے نفرت نہیں۔ اپنی کمزوریوں کو ماننا قوم دشمنی نہیں، بلکہ قوم کی بہتری کا پہلا قدم ہے۔ جو قوم اپنی بیماری کو بیماری مان لے، وہ علاج کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ مگر جو قوم اپنی بیماری کو بھی فخر سمجھنے لگے، اس کا علاج بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کی خرابیوں کو چھپانے کے بجائے انہیں پہچاننا ہوگا۔مغرب کو الزام دینے سے پہلے ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ ہمارے اپنے گھروں میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے رشتوں میں کتنی سچائی ہے؟ ہمارے کاروبار میں کتنی دیانت ہے؟ ہمارے اداروں میں کتنا انصاف ہے؟ ہمارے بچوں کی تربیت میں کتنی سنجیدگی ہے؟ ہمارے مذہبی دعووں میں کتنا عمل ہے؟ ہماری زبان میں کتنی نرمی ہے؟ ہمارے دل میں کمزور کے لیے کتنی جگہ ہے؟اگر ہم ان سوالوں سے بھاگتے رہیں گے تو پھر ہر بحث کا انجام ایک ہی ہوگا: الزام، شور، غصہ اور پھر خاموشی۔ معاشرہ الزام سے نہیں بدلتا، کردار سے بدلتا ہے۔ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، عمل سے بنتی ہیں۔ دین صرف شناخت سے زندہ نہیں رہتا، عمل سے روشن ہوتا ہے۔ اور انسان صرف لباس، زبان یا دعوے سے اچھا نہیں بنتا، اپنے رویے سے پہچانا جاتا ہے۔ہمیں مغرب کی اندھی تقلید بھی نہیں کرنی چاہیے اور مغرب کو ہر خرابی کا بہانہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ جو اچھا ہے، اسے سمجھنا چاہیے؛ جو برا ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ مگر سب سے اہم یہ ہے کہ اپنی بنیاد مضبوط کی جائے۔ اگر ہماری سوچ صاف ہو، کردار مضبوط ہو، قانون منصفانہ ہو، تربیت بہتر ہو، اور انسانیت زندہ ہو، تو کوئی بیرونی اثر ہمیں آسانی سے تباہ نہیں کر سکتا۔اصل احتساب یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کے جھوٹ کو جھوٹ کہیں، اپنی بے ایمانی کو بے ایمانی کہیں، اپنی خودغرضی کو خودغرضی کہیں، اپنی کمزوری کو کمزوری مانیں۔ جب تک ہم ہر غلطی کو مجبوری، ہر ظلم کو روایت، ہر بے ایمانی کو چالاکی، ہر دکھاوے کو عزت، اور ہر ضد کو اصول کہتے رہیں گے، تب تک اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔مغرب اپنی جگہ ہے، زمانہ اپنی جگہ ہے، میڈیا اپنی جگہ ہے، مگر ہمارا کردار ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم خود اپنے اندر سچ، انصاف، دیانت، حیا، احترام اور انسانیت کو جگہ نہیں دیں گے تو کوئی دوسرا آ کر ہمیں باوقار نہیں بنا سکتا۔ زوال کا الزام دوسروں پر ڈالنے سے زوال ختم نہیں ہوتا۔ زوال تب ختم ہوتا ہے جب انسان اپنے اندر جھانک کر کہے: خرابی میں بھی شریک ہوں، اور اصلاح کا آغاز بھی مجھے ہی کرنا ہے۔