حفاظتی اِنجیکشن

2026-07-22

تحریر ۔ شاہد شکیل

بچوں کو کب اور کن بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگوانے چاہییں؟حفاظتی ٹیکے بیماریوں سے بچاؤ کے قابلِ اعتماد ترین طریقوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن بہت سے والدین ان کے ممکنہ ضمنی اثرات سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔والدین کبھی نہیں چاہتے کہ ان کے ننھے بچے کو تکلیف پہنچے۔ لیکن جب بچہ صرف آٹھ ہفتے کا ہوتا ہے تو انہیں حفاظتی ٹیکے لگوانے کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ عمومی حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کے مطابق اس عمر میں بچے کو پہلا انجیکشن دیا جاتا ہے: چھ بیماریوں کے خلاف مشترکہ حفاظتی ٹیکا، جو خناق، ہیپاٹائٹس بی، ہِب جراثیم سے ہونے والی بیماری، کالی کھانسی، پولیو اور تشنج سے بچاؤ کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ روٹا وائرس کے خلاف منہ کے ذریعے دی جانے والی حفاظتی خوراک اور نیوموکوکس نامی جراثیم کے خلاف حفاظتی ٹیکا بھی شامل ہوتے ہیں۔اگرچہ سوئی چبھنے سے بچہ رو پڑتا ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والا فائدہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حفاظتی ٹیکے بچوں اور خاندانوں کو بہت سی تکلیفوں سے بچاتے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کے باعث وہ بیماریاں، جن میں تقریباً ساٹھ سال پہلے ہزاروں بچے مبتلا ہوتے تھے، آج بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔حفاظتی ٹیکا کیسے اثر کرتا ہے؟مثال کے طور پر خناق سانس لینے میں شدید دشواری پیدا کر سکتا ہے اور بدترین صورت میں دم گھٹنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ کالی کھانسی سے دورے پڑ سکتے ہیں، جبکہ خسرہ ہونے کے بعد دماغ میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے، جس سے مستقل نقصانات کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ بچوں کی بیماریاں سننے میں اکثر معمولی لگتی ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں شامل ٹیکے بعض نہایت شدید اور متعدی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، جو عمر بھر کے نقصانات کا باعث بن سکتی ہیں۔یہ بیماریاں وائرس اور بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ حفاظتی ٹیکا لگاتے وقت بچے کے جسم میں جراثیم کے مخصوص اجزا یا کمزور کیے گئے بیماری پیدا کرنے والے جراثیم داخل کیے جاتے ہیں۔ اس سے جسم کو حفاظتی اینٹی باڈیز بنانے کی ترغیب ملتی ہے اور ساتھ ہی مدافعتی نظام بیماری کو یاد رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ بعد میں جب وہ وائرس یا بیکٹیریا جسم پر حملہ کرتے ہیں تو پہلے سے موجود اینٹی باڈیز انہیں روک لیتی ہیں اور انفیکشن کے پھیلاؤ کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ جب جسم میں مناسب مقدار میں اینٹی باڈیز موجود ہوں تو بچہ اس بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔