فریب
2026-08-02
تحریر ۔ شاہد شکیل
خوشبو کا لفظ زبان پر آتے ہی ذہن کی وادیوں میں ایک معطر، لطیف اور سکون بخش احساس جاگ اٹھتا ہے۔ قدرتی پھولوں کی مہک، بارش کے بعد مٹی کی سوندھی بو، ہری بھری وادیوں کی تازہ ہوا اور جڑی بوٹیوں کی قدرتی خوشبو انسان کے دل و دماغ کو عجیب تر و تازگی اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ فطرت نے خوشبو کو انسان کے لیے تسکین اور ذہنی شادابی کا ذریعہ بنایا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی انسان خوشبو کا شیدائی رہا ہے اور اس نے ہمیشہ پھولوں اور قدرتی ذرائع سے عطر اور خوشبوئیں حاصل کر کے اپنی زندگی کو معطر کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم، جدید دور کی سائنسی اور صنعتی پیش رفت نے جہاں انسان کو بے شمار آسانیاں دی ہیں، وہاں اس نے خوشبو کے اس پاکیزہ اور لطیف روپ کو بھی ایک کاروباری کیمیائی مصنوعات میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہمارے ارد گرد جو خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں سے اکثریت کا تعلق قدرتی پھولوں یا جڑی بوٹیوں سے نہیں، بلکہ لیبارٹریوں میں تیار کردہ مصنوعی کیمیکلز اور جانوروں کی چربی سے ہے۔ صابن، پرفیومز، باڈی اسپرے، ایئر فریشنرز، ڈٹرجنٹس، واشنگ پاؤڈرز اور یہاں تک کہ برتن دھونے والے صابنوں میں بھی مصنوعی خوشبوؤں کا بے دریغ اور بے تحاشا استعمال کیا جا رہا ہے۔بظاہر تو یہ مصنوعی خوشبوئیں انسان کے حواس کو بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اسے ایک جھوٹی تازگی کا احساس دلاتی ہیں، لیکن حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ کیمیائی خوشبوئیں انسان کے لیے فائدے سے زیادہ تباہی کا سامان لے کر آ رہی ہیں۔ طبی ماہرین اور ماہرینِ امراضِ جلد کی جدید تحقیقات کے مطابق، مصنوعی خوشبوؤں اور ڈٹرجنٹس کا یہ اندھا دھند استعمال انسان کے نظامِ مدافعت کو شدید ترین نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جلدی اور تنفسی بیماریاں، خصوصاً مختلف قسم کی الرجی، دنیا بھر میں ایک وبائی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔جب ہم صابن، شیمپو یا ڈٹرجنٹ استعمال کرتے ہیں، تو ان میں موجود زہریلے کیمیکلز ہماری جلد کی اوپری حفاظتی تہہ کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جلد خشک ہو جاتی ہے، اس پر شدید خارش شروع ہو جاتی ہے اور جسم پر سرخ دھبے یا دانے بن جاتے ہیں، جسے طبی زبان میں کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس یا الرجی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایئر فریشنرز اور پرفیومز میں استعمال ہونے والے سانس کے ذریعے اندر جانے والے باریک کیمیکلز انسان کے پھیپھڑوں اور تنفسی نالیوں میں سوزش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلسل نزلہ زکام، چھینکیں آنا، سر درد، اور بعض اوقات دمہ جیسی موذی اور دائمی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔اس المیے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام انسان کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے گھر میں موجود خوبصورت شیشیوں میں بند پرفیومز، واشنگ پاؤڈرز اور روم فریشنرز ہی اس کی اور اس کے بچوں کی بیماری کا اصل سبب ہیں۔ لوگ الرجی کا شکار ہوتے ہیں، ڈاکٹروں کے چکر کاٹتے ہیں اور مہنگی سے مہنگی ادویات استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ اس بنیادی وجہ پر غور ہی نہیں کرتے جو ہر وقت ان کے گھروں اور استعمال کی چیزوں میں موجود ہوتی ہے۔صنعتی کمپنیاں اور تاجر اپنے منافع کے لیے مصنوعی کیمیکلز کا استعمال اس لیے کرتے ہیں کیونکہ قدرتی پھولوں سے عطر یا خوشبو حاصل کرنا ایک انتہائی گراں قدر اور مشکل کام ہے، جبکہ لیبارٹری میں کیمیکلز کو ملا کر سستی مصنوعی خوشبو بنانا انتہائی آسان اور منافع بخش ہے۔ اس کاروباری مفاد کی قیمت عام انسان کو اپنی صحت اور سکون کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ قدرتی صفائی اور لطافت کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ گھروں کو معطر رکھنے کے لیے مصنوعی کیمیکلز پر مبنی ایئر فریشنرز کے بجائے قدرتی ہوا کی آمد و رفت کو یقینی بنانا چاہیے، اور ایسے صابن و واشنگ پاؤڈرز کا انتخاب کرنا چاہیے جو مصنوعی کیمیکلز اور تیز خوشبوؤں سے پاک ہوں۔ اگر جسم پر یا جلد پر الرجی کی علامات ظاہر ہونے لگیں، تو فورا ً ایسی کیمیائی مصنوعات کا استعمال بند کر دینا چاہیے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔اگر ہم اپنی زندگیوں کو الرجی، سانس کی بیماریوں اور دیگر جلدی مسائل سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مصنوعات کی ظاہری اور مصنوعی دلکشی کے فریب سے باہر نکلنا ہوگا۔ قدرتی طرزِ زندگی، اعتدال اور احتیاط ہی وہ راستے ہیں جن پر چل کر ہم ایک صحت مند اور پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔