ڈرٹی مائنڈز
2026-07-06
تحریر ۔ شاہد شکیل
کچھ معاشرے غلطی سے خراب نہیں ہوتے، اپنی بے حسی سے گندے ہوتے ہیں۔ وہاں سچائی مر نہیں جاتی، اسے روزانہ دفن کیا جاتا ہے۔ وہاں شرم ختم نہیں ہوتی، اسے جان بوجھ کر اتارا جاتا ہے۔ وہاں ضمیر کمزور نہیں ہوتا، اسے بار بار بیچا جاتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو اپنی بدبو بھی خوشبو لگنے لگتی ہے۔ایسے ماحول میں جھوٹ صرف زبان پر نہیں ہوتا، چہروں پر بھی ہوتا ہے۔ لوگ اندر سے کھوکھلے، اوپر سے سمجھ دار بنے پھرتے ہیں۔ بدزبانی کو دلیری سمجھتے ہیں، بد اخلاقی کو عقل مندی کہتے ہیں، بے غیرتی کو مصلحت بنا دیتے ہیں، اور بے حسی کو صبر کا نام دے کر اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔ یہ خرابی نہیں، گراوٹ ہے۔ یہ کمزوری نہیں، اندرونی سڑاند ہے۔جہاں انسان غلط کام پر شرمندہ نہ ہو، وہاں نصیحت فضول ہے۔ جہاں بے شرمی عادت بن جائے، وہاں دلیل مذاق بن جاتی ہے۔ جہاں سچ سن کر چہرہ سرخ نہ ہو بلکہ زبان اور گندی ہو جائے، وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ دماغ کا نہیں، پورے مزاج کا ہے۔ ایسے لوگ بات نہیں سنتے، صرف اپنے اندر کی غلاظت کو نئے الفاظ دے دیتے ہیں۔کچھ جگہوں پر جھوٹ بولنے والا ہوشیار، بدتمیز آدمی مضبوط، دھوکہ دینے والا چالاک، اور سیدھا آدمی بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ جب معیار اتنے گندے ہو جائیں تو پھر معاشرہ اصلاح کے قابل نہیں رہتا، صرف بے نقاب کرنے کے قابل رہ جاتا ہے۔ وہاں نرم لفظ ضائع ہوتے ہیں۔ وہاں شرافت کی زبان کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ وہاں صاف بات کو برداشت کرنے کی تربیت ہی نہیں ہوتی۔سب سے بڑی گندگی یہ ہے کہ ایسے ماحول میں لوگ اپنی حالت کو حالت نہیں سمجھتے۔ انہیں اپنی بدزبانی نظر نہیں آتی، اپنی بے شرمی نظر نہیں آتی، اپنی بے حسی نظر نہیں آتی، اپنی دوغلی طبیعت نظر نہیں آتی۔ ہر آدمی دوسرے کو خراب سمجھتا ہے، مگر اپنے اندر جھانکنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ جو اپنے اندر کی گندگی دیکھنا ہی نہ چاہے، اسے دنیا کا کوئی آئینہ صاف نہیں دکھا سکتا۔ایسے معاشرے میں سچ بولنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ سچ بولنے والا دشمن لگتا ہے، کیونکہ وہ ان چہروں سے پردہ ہٹا دیتا ہے جن پر برسوں سے بناوٹ، جھوٹ اور بے شرمی کی تہیں چڑھی ہوتی ہیں۔ لوگ بات سے نہیں ڈرتے، اپنی اصلی شکل سے ڈرتے ہیں۔ انہیں تکلیف سچ سے نہیں ہوتی، اس بات سے ہوتی ہے کہ سچ ان پر پورا اترتا ہے۔جہاں بے حسی نسل در نسل چلنے لگے، وہاں انسان پیدا تو ہوتے رہتے ہیں، مگر انسانیت کم ہوتی جاتی ہے۔ زبان رہ جاتی ہے، تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ چہرے رہ جاتے ہیں، شرم ختم ہو جاتی ہے۔ رشتے رہ جاتے ہیں، لحاظ ختم ہو جاتا ہے۔ باتیں رہ جاتی ہیں، کردار ختم ہو جاتا ہے۔ پھر سب کچھ چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے سب کچھ گل چکا ہوتا ہے۔ایسے ماحول کو نرم الفاظ سے نہیں بدلا جا سکتا۔ گندگی کو گندگی کہنا پڑتا ہے۔ بے شرمی کو بے شرمی، بے حسی کو بے حسی، بد اخلاقی کو بد اخلاقی، اور دوغلے پن کو دوغلا پن کہنا پڑتا ہے۔ جو معاشرہ اپنی خرابی کا نام بھی برداشت نہ کر سکے، وہ بدلنے کی بات کرنے کے قابل نہیں رہتا۔یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ نہیں جانتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جان کر بھی انجان بنتے ہیں۔ دیکھ کر بھی آنکھ پھیر لیتے ہیں۔ سن کر بھی بے حس رہتے ہیں۔ شرم کی جگہ ضد لے لیتی ہے، عقل کی جگہ چالاکی، کردار کی جگہ بناوٹ، اور انسانیت کی جگہ صرف اپنی ذات۔ یہی وہآخری گراوٹ ہے جہاں معاشرہ زندہ نہیں رہتا، صرف عادت سے چلتا رہتا ہے۔ایسے ماحول میں سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی اصل حالت سے بے خبر نہیں ہوتا، بلکہ باخبر ہو کر بھی بے خبر بن جاتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط ہے، مگر وہ مانتا نہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رویہ گرا ہوا ہے، مگر وہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ سچ سامنے کھڑا ہے، مگر وہ اس کے خلاف اپنی زبان، اپنی ضد اور اپنی بے شرمی کو ڈھال بنا لیتا ہے۔جہاں انسان اپنی خرابی کو چھپانے کے لیے الفاظ بدلنے لگے، وہاں خرابی اور گہری ہو چکی ہوتی ہے۔ جھوٹ کو مصلحت، بے حسی کو صبر، بدزبانی کو سچائی، دھوکے کو سمجھ داری، اور بے شرمی کو زمانے کا تقاضا کہہ دینا اصلاح نہیں، خود فریبی ہے۔ نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ سڑاند کو خوشبو کہہ دینے سے ماحول صاف نہیں ہو جاتا۔کچھ لوگ ظاہری شکل، لباس، لہجہ، انداز یا چند سیکھے ہوئے الفاظ کو کردار سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصل پہچان اس کے چہرے، لباس یا زبان سے نہیں، اس کے عمل، رویے، سچائی، شرم، دیانت ،سوچ اور انسانیت سے ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی زبان سیکھ لینے سے انسان عالم نہیں بن جاتا۔ چہرے کی بناوٹ بدل لینے سے کردار نہیں بدلتا۔ لباس بدل لینے سے سوچ صاف نہیں ہوتی۔ نقل کر لینے سے اصل مقام حاصل نہیں ہوتا۔نعرے لگانےسے کوئی رہنما نہیں بن جاتا۔ کسی جگہ کھڑے ہو جانے سے انسان اس جگہ کا حق دار نہیں ہو جاتا۔ کسی کا انداز اپنا لینے سے اس کی گہرائی نہیں ملتی۔ ظاہری نقل ہمیشہ آسان ہوتی ہے، اندرونی تبدیلی ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔ اسی مشکل سے بچنے کے لیے کمزور لوگ باہر کو سجاتے رہتے ہیں اور اندر کو گلنے دیتے ہیں۔جو انسان اندر سے خالی ہو، وہ باہر سے جتنا بھی مکمل دکھائی دے، اس کی کھوکھلاہٹ ایک دن ظاہر ہو جاتی ہے۔ جو آدمی کردار سے محروم ہو، وہ الفاظ کے پیچھے چھپتا ہے۔ جو سچ سے بھاگتا ہو، وہ شور کا سہارا لیتا ہے۔ جو اپنی کمزوری ماننے کی ہمت نہ رکھتا ہو، وہ دوسروں پر انگلی اٹھا کر خود کو مضبوط سمجھنے لگتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سچ بولنے والا سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ سچ اس آرام دہ جھوٹ کو توڑ دیتا ہے جس میں لوگ برسوں سے لیٹے ہوتے ہیں۔ سچ انہیں جگاتا نہیں، پہلے بے چین کرتا ہے۔ اور جو انسان بے چینی سے ڈرتا ہو، وہ سچ سے نفرت کرنے لگتا ہے۔سچ سننے والا آدمی فوراً شور نہیں مچاتا۔ وہ پہلے رک کر سوچتا ہے۔ اگر کوئی اسے برا کہے تو وہ پہلے اپنے اندر دیکھتا ہے کہ شاید واقعی کوئی خرابی موجود ہو۔ یہی شعور ہے۔ یہی انسان ہونے کی پہلی نشانی ہے۔ مگر جہاں انسان اپنے اندر دیکھنے کے بجائے فوراً حملہ شروع کر دے، وہاں مسئلہ بات کا نہیں، مزاج کا ہوتا ہے۔کچھ ماحول ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان کو اپنی غلطی ماننے سے زیادہ دوسروں کو غلط ثابت کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ وہاں اصلاح نہیں ہوتی، صرف بحث ہوتی ہے۔ وہاں سوچ نہیں ہوتی، صرف ضد ہوتی ہے۔ وہاں حقیقت نہیں دیکھی جاتی، صرف اپنی مرضی کا پردہ تان دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ زندگی بھر اپنے آپ سے بھاگتے رہتے ہیں، مگر اپنے آپ کو سمجھ دار سمجھتے ہیں۔کسی معاشرے کی بربادی ہمیشہ ایک بڑے حادثے سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی وہ چھوٹی چھوٹی بے شرمیوں سے شروع ہوتی ہے۔ ایک جھوٹ، ایک دھوکہ، ایک خاموشی، ایک غلطی پر پردہ، ایک سچ سے فرار، ایک کمزور کے ساتھ بے مروتی، ایک غلط آدمی کی حمایت۔ پھر یہی چیزیں مل کر عادت بنتی ہیں، عادت مزاج بنتی ہے، اور مزاج معاشرے کی پہچان بن جاتا ہے۔جب پہچان ہی گراوٹ بن جائے تو پھر اچھے الفاظ کافی نہیں رہتے۔ وہاں بات کو صاف، سخت اور ننگا کہنا پڑتا ہے۔ جو چیز گلی سڑی ہو اسے تازہ نہیں کہا جا سکتا۔ جو رویہ بے شرم ہو اسے معصوم نہیں کہا جا سکتا۔ جو مزاج بے حس ہو اسے صابر نہیں کہا جا سکتا۔ جو معاشرہ اپنی حالت کو پہچاننے سے انکار کرے، اسے آئینہ دکھانا بدتمیزی نہیں، ضرورت ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ سچ کڑوا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ جھوٹ کی مٹھاس کے عادی ہو چکے ہیں۔ انہیں سچ کا ذائقہ زہر لگتا ہے، کیونکہ وہ زبان سے پہلے ضمیر کو چھوتا ہے۔ اور جس ضمیر نے برسوں سے حرکت نہ کی ہو، اسے ہلکی سی سچائی بھی زلزلہ محسوس ہوتی ہے۔ایسے معاشرے کو بدلنے سے پہلے اسے اس کی حالت بتانا ضروری ہے۔ جو اپنی بیماری کا نام سننے سے گھبرا جائے، وہ علاج کے قابل کیسے ہوگا؟ جو اپنی بدبو کو خوشبو سمجھتا رہے، وہ صفائی کی ضرورت کیوں محسوس کرے گا؟ جو اپنی بے حسی کو برداشت، اپنی بے شرمی کو اعتماد، اور اپنی دوغلی طبیعت کو ہوشیاری سمجھتا رہے، وہ اپنے زوال کو بھی کامیابی سمجھ کر گلے لگائے گا۔آخر میں بات اتنی ہی ہے کہ ہر معاشرہ اپنی سچائی سے پہچانا جاتا ہے۔ جو سچ کا سامنا کرتا ہے، وہ مشکل سے سہی مگر زندہ رہتا ہے۔ جو سچ سے منہ موڑتا ہے، وہ چلتا پھرتا رہتا ہے مگر اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔ انسان اور معاشرے کی اصل موت اسی وقت شروع ہوتی ہے جب اسے اپنی خرابی خرابی نہ لگے۔جس دن بے حسی شرم پر غالب آ جائے، جس دن جھوٹ سچ سے زیادہ آرام دہ لگنے لگے، جس دن بد اخلاقی کو دلیری اور دوغلے پن کو سمجھ داری کہا جانے لگے، اس دن سمجھ لینا چاہیے کہ خرابی سطح پر نہیں رہی۔ وہ اندر اتر چکی ہے۔اور جو خرابی اندر اتر جائے، اسے نرم لفظوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔