دیواریں
2026-07-09
تحریر ۔ شاہد شکیل
انسان جب ایک ملک سے دوسرے ملک جاتا ہے تو صرف اپنا سامان ساتھ نہیں لے جاتا۔ وہ اپنے ساتھ اپنی زبان، یادیں، عادتیں، خوف، رشتے، تربیت، مذہبی تصورات، خاندانی دباؤ، روایت، عزت کا تصور، عورت اور مرد کے بارے میں سوچ، اور اولاد کے بارے میں اپنا نظریہ بھی لے جاتا ہے۔ سفر صرف ہوائی جہاز سے نہیں ہوتا؛ اصل سفر ذہن کا ہوتا ہے۔ اگر جسم نئی زمین پر پہنچ جائے مگر ذہن پرانی دیواروں کے اندر بند رہے تو انسان باہر سے بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اندر سے نہیں۔یہی مسئلہ بہت سے گھروں میں نظر آتا ہے۔ باہر نیا ملک، نیا قانون، نیا سکول، نیا دفتر، نیا پاسپورٹ، نیا اسپتال، نئی زبان، نئی سڑکیں اور نئی زندگی ہوتی ہے۔ مگر گھر کے اندر وہی پرانا خوف، وہی خاندانی حکم، وہی برادری کا دباؤ، وہی لڑکی پر نگرانی، وہی لڑکے سے توقع، وہی شادی کا پرانا طریقہ، وہی “لوگ کیا کہیں گے”، اور وہی سوچ کہ اولاد والدین کی مرضی سے چلے گی۔ باہر انسان یورپ میں رہتا ہے، مگر گھر کے اندر ایک چھوٹا سا بند معاشرہ بنا لیتا ہے۔یہ دوہری زندگی دیر تک سکون نہیں دیتی۔ایک طرف والدین چاہتے ہیں کہ بچے اس ملک کی تعلیم حاصل کریں، اچھا روزگار پائیں، مضبوط قانونی نظام سے فائدہ اٹھائیں، علاج کی سہولت لیں، محفوظ ماحول میں رہیں، زبان سیکھیں، آگے بڑھیں اور کامیاب ہوں۔ دوسری طرف وہی والدین بعض معاملات میں چاہتے ہیں کہ بچے سوچیں پرانے طریقے سے، شادی کریں خاندان کی مرضی سے، لڑکی اپنی حدود گھر کے خوف سے سمجھے، لڑکا خاندان کی توقعات کا بوجھ اٹھائے، اور گھر کے اندر وہی نظام چلے جو والدین اپنے ساتھ لائے تھے۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ پوری نہیں چل سکتیں۔بچہ اگر اس ملک کے سکول میں پڑھتا ہے، وہاں سوال کرنا سیکھتا ہے، اپنی رائے رکھنا سیکھتا ہے، قانون کے سامنے خود کو فرد سمجھتا ہے، تو پھر گھر آ کر وہ اچانک خاموش فرمانبردار مخلوق نہیں بن سکتا۔ وہ والدین کا احترام کر سکتا ہے، مگر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا بھی چاہتا ہے۔ وہ اپنی جڑوں سے جڑ سکتا ہے، مگر اپنے پرانے خاندان کی تمام توقعات کا بوجھ اٹھانے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ اسے زبان دی جا سکتی ہے، شناخت دی جا سکتی ہے، خاندان سے تعلق دیا جا سکتا ہے، مگر اس کی سوچ پر تالا نہیں لگایا جا سکتا۔مسئلہ یہ نہیں کہ والدین اپنی روایت بچانا چاہتے ہیں۔ ہر انسان اپنی جڑوں، زبان، کھانے، خاندان اور یادوں سے محبت کر سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب روایت کو مستقبل پر مسلط کیا جاتا ہے۔ جب والدین یہ سمجھتے ہیں کہ جو زندگی انہوں نے دیکھی، اولاد بھی وہی دیکھے۔ جو خوف انہیں ملا، اولاد بھی وہی اٹھائے۔ جو فیصلے خاندان نے ان پر کیے، وہ بھی اپنی اولاد پر کریں۔ یہ سلسلہ پھر نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ ملک بدل جاتا ہے، مگر گھر کے اندر فیصلہ کرنے کا طریقہ نہیں بدلتا۔یہاں مذہب، روایت اور برادری تینوں اکثر ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر خوف پیدا کیا جاتا ہے، کبھی روایت کے نام پر دباؤ، کبھی خاندان کی عزت کے نام پر خاموشی، کبھی برادری کے نام پر فیصلہ۔ انسان کو یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ اس کی اپنی سوچ کہاں ہے اور دوسروں کی آواز کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر فیصلہ اس کا اکیلے کا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ماں، باپ، بہن، بھائی، چچا، ماموں، خالہ، برادری، مذہبی جملے، خاندان کی شرم، اور “لوگ کیا کہیں گے” کھڑے ہوتے ہیں۔ایسے ماحول میں چھوٹا مسئلہ بھی پہاڑ بن جاتا ہے۔بیٹی نے کہا کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے؛ مسئلہ بن گیا۔ بیٹے نے کہا کہ وہ خاندان میں شادی نہیں کرنا چاہتا؛ مسئلہ بن گیا۔ لڑکی نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے گی؛ مسئلہ بن گیا۔ لڑکے نے کہا کہ وہ والدین کی عزت کرتا ہے مگر اپنی شادی خود سوچے گا؛ مسئلہ بن گیا۔ گھر میں گفتگو نہیں ہوتی، مقدمہ شروع ہو جاتا ہے۔ دلیل نہیں آتی، الزام آتا ہے۔ محبت نہیں بولتی، اختیار بولتا ہے۔پھر والدین حیران ہوتے ہیں کہ بچے دور کیوں ہو گئے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بچے ایک دن میں دور نہیں ہوتے۔ وہ آہستہ آہستہ دور ہوتے ہیں، جب ان کی بات نہیں سنی جاتی، جب ان کی زندگی کو خاندان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے، جب ان کی آزادی کو بدتمیزی کہا جاتا ہے، جب ان کے سوال کو نافرمانی سمجھا جاتا ہے، جب ان کے مستقبل پر والدین کے خوف کا سایہ ڈال دیا جاتا ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ نئی نسل بدل گئی ہے۔ مشکل یہ ماننا ہے کہ پرانی نسل نے بھی نئی زندگی کو پوری طرح نہیں سمجھا۔یورپ میں رہنے کا مطلب صرف وہاں کی سڑکوں پر چلنا نہیں۔ وہاں رہنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اس معاشرے کے بنیادی اصولوں کو سمجھے۔ قانون کیا کہتا ہے؟ بالغ انسان کا حق کیا ہے؟ عورت اور مرد کی برابری کا مطلب کیا ہے؟ بچے کو شخصیت بنانے کا حق کیا ہے؟ شادی میں رضامندی کی اہمیت کیا ہے؟ ذاتی زندگی اور خاندانی دباؤ کے درمیان حد کہاں ہے؟ اگر انسان ان سوالوں سے بچتا رہے تو وہ نئے ملک میں رہتے ہوئے بھی اندر سے پرانی قید میں رہتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی تہذیب بچانی ہے۔ تہذیب اگر احترام، زبان، خاندانی محبت، بزرگوں کی عزت، مہمان نوازی اور اخلاق دیتی ہے تو اسے ضرور بچانا چاہیے۔ مگر اگر تہذیب کے نام پر اولاد کی مرضی ختم ہو، عورت کی آواز دبے، بیٹی کو خوف میں رکھا جائے، بیٹے کو خاندانی حکم کا وارث بنایا جائے، شادی کو انسانوں کے بجائے خاندانوں کی ملکیت سمجھا جائے، تو پھر یہ تہذیب نہیں، بند نظام ہے۔انسان کو اپنی جڑوں سے کٹنا نہیں چاہیے، مگر جڑوں کے نام پر اپنے بچوں کو زمین میں گاڑ دینا بھی درست نہیں۔ جڑیں درخت کو مضبوط کرتی ہیں، مگر شاخوں کو بڑھنے بھی دیتی ہیں۔ اگر جڑیں ہی شاخوں کو پکڑ کر نیچے کھینچنے لگیں تو درخت پھیلتا نہیں، بونسا رہ جاتا ہے۔ خاندان بھی ایسا ہی ہے۔ وہ انسان کو سہارا دے تو نعمت ہے، اس کی سانس روک دے تو بوجھ ہے۔یہاں سب سے بڑی ضرورت ایماندارانہ خود احتسابی کی ہے۔ جو لوگ نئے ملک میں رہتے ہیں انہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: کیا ہم نے واقعی نئی زندگی کو سمجھا ہے؟ یا ہم نے صرف اس کی سہولتیں لی ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو انسان مانتے ہیں یا اپنی عزت کا پہرے دار؟ کیا ہم شادی کو دو بالغ انسانوں کا فیصلہ سمجھتے ہیں یا خاندان کا حکم؟ کیا ہم مذہب، روایت اور برادری کو انسان کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں یا انسان کو قابو میں رکھنے کے لیے؟یہ سوال سخت ہیں، مگر ضروری ہیں۔ملک بدلنے سے پہلے انسان کو اپنی سوچ کا سامان بھی دیکھنا چاہیے۔ ہر چیز ساتھ لے جانا ضروری نہیں ہوتا۔ زبان لے جائیں، محبت لے جائیں، کھانے کی خوشبو لے جائیں، بزرگوں کی اچھی باتیں لے جائیں، محنت لے جائیں، رشتوں کی گرمی لے جائیں۔ مگر خوف، زبردستی، تنگ نظری، برادری کا دباؤ، بیٹی پر ملکیت، بیٹے پر بوجھ، اور “لوگ کیا کہیں گے” کی زنجیر ساتھ لے جائیں گے تو نئی زمین پر بھی پرانی دیواریں کھڑی ہو جائیں گی۔اور جب گھر کے اندر دیواریں بہت زیادہ ہو جائیں تو بچے کھڑکیاں ڈھونڈتے ہیں۔ اگر کھڑکی نہ ملے تو وہ دیوار توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ پھر والدین کہتے ہیں کہ بچے بدل گئے۔ شاید بچے نہیں بدلے؛ شاید وہ صرف سانس لینا چاہتے تھے۔نئی زمین پر رہنا ہے تو نئی حقیقت کو بھی ماننا ہوگا۔ ورنہ انسان دو ملکوں کے درمیان نہیں، دو سوچوں کے درمیان پھنسا رہتا ہے۔ باہر آزاد، اندر قید۔ باہر شہری، اندر ملکیت۔ باہر مستقبل، اندر ماضی۔ اور ایسی زندگی آخرکار کسی نہ کسی رشتے کو توڑ دیتی ہے۔