بے آسرا
2026-07-03
تحریر ۔ شاہد شکیل
دنیا کا ہر معاشرہ اپنے آپ کو مہذب کہتا ہے۔ ہر ملک اپنے قانون، اپنے نظام، اپنی ترقی، اپنی عمارتوں، اپنی سڑکوں، اپنی تعلیم اور اپنی تہذیب پر فخر کرتا ہے۔ مگر کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کے بڑے دعووں سے نہیں ہوتی۔ اصل پہچان وہاں ہوتی ہے جہاں ایک عورت اکیلی کھڑی ہو، جہاں ایک بچہ ڈر سے خاموش رہے، جہاں کمزور انسان کسی طاقت ور کے سامنے بے بس ہو، اور جہاں یہ دیکھا جائے کہ معاشرہ کس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے: مظلوم کے ساتھ یا ظالم کے ساتھ۔عورت اور بچہ دنیا کے ہر معاشرے میں محبت، حفاظت اور احترام کے حق دار ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر یہی دونوں سب سے آسان نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ عورت کو اس لیے دبایا جاتا ہے کہ اسے گھر، عزت، رشتے، بچوں، معاشی مجبوری، بدنامی اور تنہائی کے خوف سے باندھا جا سکتا ہے۔ بچے کو اس لیے مارا، ڈرایا، دبایا اور خاموش کرایا جاتا ہے کہ وہ چھوٹا ہے، کمزور ہے، بڑوں پر منحصر ہے، اپنی بات مکمل طاقت سے بیان نہیں کر سکتا۔یہی ظلم کی پہلی سیڑھی ہے: ظالم ہمیشہ وہاں ہاتھ ڈالتا ہے جہاں اسے جواب کمزور نظر آئے۔دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ ایسے مرد بھی ہیں جو عورت کو انسان سمجھتے ہیں، ملکیت نہیں۔ ایسی عورتیں بھی ہیں جو بچوں کو خوف سے نہیں، محبت اور شعور سے سنبھالتی ہیں۔ ایسے باپ بھی ہیں جو بچے کی آنکھ میں خوف نہیں، اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ ایسے گھر بھی ہیں جہاں بیٹی کو بوجھ نہیں سمجھا جاتا، بیٹے کو وحشی نہیں بنایا جاتا، بچے کو مار کر نہیں توڑ دیا جاتا۔ ایسے معاشرے بھی ہیں جہاں قانون حرکت کرتا ہے، ادارے سنتے ہیں، استاد رپورٹ کرتا ہے، ڈاکٹر نشانی دیکھ کر سوال کرتا ہے، پولیس شکایت کو کاغذ پر لاتی ہے، عدالت وقت لیتی ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتی۔مگر دنیا میں بے رحم لوگ بھی ہیں۔ بے حس لوگ بھی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو عورت کی خاموشی کو اپنی جیت سمجھتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو بچے کے خوف کو تربیت کا نام دیتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو گھر کے اندر بادشاہ بن جاتے ہیں اور باہر جا کر معزز کہلاتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو عورت کو دن بھر الفاظ سے کاٹتے ہیں، رات کو حکم دیتے ہیں، صبح اسے خاندان کی عزت کا سبق پڑھاتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو بچے کو مارتے ہیں، پھر کہتے ہیں ہم اسے انسان بنا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ انسان نہیں بنا رہے ہوتے، وہ ایک اندر سے ٹوٹا ہوا وجود تیار کر رہے ہوتے ہیں۔عورت پر ظلم صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں۔ ہر وہ لفظ بھی ظلم ہے جو اسے روز چھوٹا کرے۔ ہر وہ شک بھی ظلم ہے جو اس کی سانس تنگ کرے۔ ہر وہ حکم بھی ظلم ہے جو اسے انسان نہیں، چیز بنا دے۔ ہر وہ رشتہ بھی ظلم ہے جس میں عورت کی رائے، تھکن، بیماری، خواہش، عزت اور خوف کی کوئی قیمت نہ ہو۔ کوئی عورت اگر ہر وقت ڈر کر بولتی ہے، اجازت لے کر جیتی ہے، وضاحتیں دے دے کر تھک گئی ہے، اپنی ہی زندگی میں مہمان بن گئی ہے، تو یہ بھی ظلم ہے۔ صرف زخم نظر آنا ضروری نہیں؛ کئی زخم اندر لگتے ہیں، اور وہ باہر کے زخموں سے زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔بچے پر ظلم بھی صرف مار کا نام نہیں۔ بچے کو مسلسل ڈرانا، اس کا مذاق اڑانا، اسے دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا، اس کی بات نہ سننا، اس کی غلطی کو اس کی پوری شخصیت بنا دینا، اسے محبت کے بجائے خوف سے چلانا، اسے ہر وقت یہ احساس دینا کہ وہ ناکام، کمزور، بے وقوف یا ناپسندیدہ ہے، یہ سب ظلم ہیں۔ بچہ چھوٹا ضرور ہوتا ہے، مگر اس کی روح چھوٹی نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ محسوس کرتا ہے۔ وہ لہجہ پہچانتا ہے۔ وہ چہرہ پڑھتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ گھر میں کون محبت ہے اور کون خطرہ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ بچے کو مارے بغیر تربیت نہیں ہوتی۔ یہ جملہ خود ایک بیمار سوچ کی نشانی ہے۔ تربیت کا مطلب بچے کو توڑنا نہیں، سنبھالنا ہے۔ بچے کو ذلیل کر کے فرمانبردار بنایا جا سکتا ہے، مضبوط نہیں۔ بچے کو خوف سے خاموش کیا جا سکتا ہے، سمجھ دار نہیں۔ بچے کو مار کر قابو کیا جا سکتا ہے، بااعتماد نہیں۔ جو بچہ ہر وقت ڈرتا ہے، وہ یا تو اندر سے بند ہو جاتا ہے، یا ایک دن اسی خوف کو غصے کی شکل میں دوسروں پر اتارنے لگتا ہے۔پھر معاشرہ حیران ہوتا ہے کہ لوگ اتنے سخت، اتنے بے حس، اتنے جارح اور اتنے غیر ذمہ دار کیوں ہو گئے۔ جواب گھر کے اندر چھپا ہوتا ہے۔عورت اور بچے کے خلاف ظلم پوری دنیا میں موجود ہے۔ یہ صرف کسی ایک ملک، ایک قوم، ایک زبان، ایک رنگ، ایک مذہب، ایک طبقے یا ایک معاشرے کا مسئلہ نہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ظلم ہوتا ہے۔ خوبصورت گھروں کے اندر بھی چیخیں چھپ سکتی ہیں۔ تعلیم یافتہ چہروں کے پیچھے بھی درندگی ہو سکتی ہے۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی اپنے گھر میں چھوٹے انسان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اچھے لباس، اچھی زبان اور بڑی ڈگری انسان کو خود بخود اچھا نہیں بنا دیتی۔فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں قانون مضبوط ہو، وہاں ظالم کو کم از کم یہ خوف ہوتا ہے کہ معاملہ باہر آ سکتا ہے۔ شکایت درج ہو سکتی ہے۔ سکول، ڈاکٹر، پڑوسی، پولیس یا عدالت کسی نہ کسی سطح پر حرکت کر سکتے ہیں۔ وہاں بھی نظام کامل نہیں ہوتا، وہاں بھی خامیاں ہوتی ہیں، وہاں بھی بہت سے مظلوم دیر تک لڑتے ہیں۔ مگر پھر بھی ظالم کے لیے سب کچھ اتنا آسان نہیں رہتا۔جہاں قانون کمزور ہو، وہاں ظالم کے ہاتھ لمبے ہو جاتے ہیں۔ وہاں گھر کے اندر ظلم کرنے والا جانتا ہے کہ عورت کہاں جائے گی؟ بچہ کس کو بتائے گا؟ پولیس سن لے گی یا الٹا سوال کرے گی؟ خاندان ساتھ دے گا یا خاموش کرائے گا؟ عدالت تک پہنچنے میں سال لگ جائیں گے؟ گواہ ڈر جائیں گے؟ پیسہ کس طرف جائے گا؟ عزت کے نام پر کس کا منہ بند کیا جائے گا؟ایسے معاشرے میں ظلم صرف جرم نہیں رہتا، معمول بن جاتا ہے۔سب سے خطرناک وہ جملہ ہے جو کہتا ہے: یہ گھر کی بات ہے۔ اسی ایک جملے کے نیچے کتنی عورتیں دفن ہو جاتی ہیں، کتنے بچے خاموش رہ جاتے ہیں، کتنے جرم کبھی نام تک نہیں پاتے۔ گھر اگر حفاظت کی جگہ ہے تو خوبصورت ہے۔ اگر گھر ظلم کی دیوار بن جائے تو اسے صرف گھر کہہ کر پاک نہیں کیا جا سکتا۔ گھر وہی ہے جہاں انسان محفوظ ہو۔ جہاں انسان ڈرے، وہاں عمارت ہو سکتی ہے، گھر نہیں۔بے رحم لوگ ہمیشہ چھری لے کر نہیں آتے۔ بعض بے رحم لوگ نرم آواز میں مشورہ دیتے ہیں کہ بات نہ بڑھاؤ۔ بعض بے رحم لوگ کہتے ہیں کہ بچوں کی خاطر چپ رہو۔ بعض کہتے ہیں کہ عورت کو گھر بچانا چاہیے۔ بعض کہتے ہیں کہ بچہ ہے، بھول جائے گا۔ بچہ نہیں بھولتا۔ عورت بھی نہیں بھولتی۔ جسم کا زخم شاید بھر جائے، مگر خوف کی یاد انسان کے اندر رہتی ہے۔ کچھ آوازیں عمر بھر کانوں میں رہتی ہیں۔ کچھ دروازوں کی آہٹ، کچھ قدموں کی چاپ، کچھ چہروں کے بدلتے رنگ انسان کے اندر تاریخ بن جاتے ہیں۔جو لوگ عورت اور بچے کے درد کو ہلکا سمجھتے ہیں، انہیں انسان کی روح کا علم نہیں۔عورت اگر روز ذلیل ہو، تو اس کی مسکراہٹ بھی تھک جاتی ہے۔ بچہ اگر روز ڈرے، تو اس کی آنکھوں سے بچپن کم ہونے لگتا ہے۔ عورت اگر ہر بات پر کٹہرے میں کھڑی کی جائے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے ہی وجود سے معافی مانگنے لگتی ہے۔ بچہ اگر ہر وقت غلط ثابت کیا جائے، تو وہ یا تو خود سے نفرت کرنے لگتا ہے یا دنیا سے۔ یہ چھوٹے مسائل نہیں ہیں۔ یہ انسان کو اندر سے بدل دینے والے زخم ہیں۔ہر معاشرے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ظلم دیکھ کر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کیا۔ دوسرے وہ جو ایک کمزور کی آواز سن کر رک جاتے ہیں۔ پہلے لوگ ظالم کے مددگار ہیں، چاہے وہ اپنے آپ کو غیر جانبدار کہیں۔ دوسرے لوگ معاشرے کی امید ہیں، چاہے وہ تعداد میں کم ہوں۔غیر جانبداری ہر جگہ نیکی نہیں ہوتی۔ اگر ایک طرف طاقت ور ہاتھ ہے اور دوسری طرف زخمی انسان، تو درمیان میں کھڑے رہنا بھی کئی بار طاقت ور کے حق میں کھڑا ہونا ہے۔ ظلم کے سامنے خاموشی صرف خاموشی نہیں رہتی؛ وہ ظالم کو پیغام دیتی ہے کہ راستہ کھلا ہے۔اس لیے پہلی ذمہ داری مظلوم پر نہیں، معاشرے پر ہے۔ ایسا ماحول بناؤ جہاں عورت بول سکے۔ ایسا نظام بناؤ جہاں بچہ محفوظ محسوس کرے۔ ایسا قانون بناؤ جہاں شکایت کرنے والا ذلیل نہ ہو۔ ایسی زبان پیدا کرو جس میں مظلوم کو نصیحت نہیں، سہارا ملے۔ ایسا ضمیر پیدا کرو جو ظالم کو پہچانے، چاہے وہ اپنے ہی گھر، خاندان، محلے، طبقے یا ملک کا کیوں نہ ہو۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ عورت اور بچے کی حفاظت صرف قانون سے نہیں ہوتی۔ قانون ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ گھر کی زبان، سکول کا ماحول، معاشرے کی سوچ، میڈیا کی ذمہ داری، خاندان کا رویہ، مرد کی تربیت، عورت کی معاشی آزادی، بچے کی بات سننے کی عادت، سب اس حفاظت کا حصہ ہیں۔ اگر قانون موجود ہو مگر گھر میں خوف ہو، تو آدھا کام باقی ہے۔ اگر گھر اچھا ہو مگر قانون کمزور ہو، تو خطرہ پھر بھی موجود ہے۔اچھا معاشرہ وہ ہے جہاں کمزور کو راستہ ملے۔ جہاں عورت کو صرف برداشت کا سبق نہ دیا جائے بلکہ حق کا شعور بھی دیا جائے۔ جہاں بچے کو صرف فرمانبرداری نہ سکھائی جائے بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ اگر کوئی غلط کرے تو بتانا جائز ہے۔ جہاں مرد کو طاقت کا مطلب حکم نہیں، ذمہ داری سمجھایا جائے۔ جہاں ماں باپ کو یہ سمجھایا جائے کہ بچہ ان کی ملکیت نہیں، ایک مکمل انسان ہے۔ جہاں رشتہ ظلم کا اجازت نامہ نہ بنے۔جو شخص عورت کو دباتا ہے، وہ مضبوط نہیں، کمزور ہے۔ جو بچہ مار کر اپنی بڑائی ثابت کرتا ہے، وہ بڑا نہیں، اندر سے چھوٹا ہے۔ جو طاقت کے زور پر گھر چلاتا ہے، وہ گھر نہیں چلا رہا، خوف کا نظام چلا رہا ہے۔ جو عورت کی آواز سے ڈرتا ہے، اسے اپنی مردانگی پر خود شک ہے۔ جو بچے کے سوال سے گھبرا جاتا ہے، اسے اپنے کردار کی کمزوری کا علم ہے۔بے شرم ذہنیت وہ ہے جو ظلم کرتی بھی ہے اور عزت کی بات بھی کرتی ہے۔ عورت کو توڑتی بھی ہے اور خاندان کا نام بھی لیتی ہے۔ بچے کو مارتے بھی ہیں اور تربیت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ظلم کو چھپاتے بھی ہیں اور شرافت کا لباس بھی پہنتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ کبھی وہ غریب گھر میں ہوتے ہیں، کبھی امیر گھر میں۔ کبھی کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں، کبھی بڑے تعلیمی اداروں سے نکلے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ ڈگری نہیں، ضمیر ہے۔اور جہاں ضمیر مر جائے، وہاں انسان کا چہرہ رہ جاتا ہے، انسانیت نہیں۔دنیا کو عورت اور بچے کے معاملے میں نرم الفاظ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ صرف ہمدردی کا موضوع نہیں، انصاف کا موضوع ہے۔ یہ صرف خاندان کا مسئلہ نہیں، انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف جذبات کی بات نہیں، قانون، نظام، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کی بات ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو عورت اور بچے کو محفوظ نہیں کر سکتا، وہ اپنی ترقی کے دعوے پر نظر ثانی کرے۔ کیونکہ ترقی صرف سڑک، پل، عمارت، ٹیکنالوجی اور معیشت کا نام نہیں۔ ترقی یہ بھی ہے کہ ایک بچہ رات کو ڈر کے بغیر سو سکے، ایک عورت اپنی بات خوف کے بغیر کہہ سکے، اور ایک کمزور انسان یہ جانتا ہو کہ اگر اس کے ساتھ ظلم ہوا تو وہ اکیلا نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ظالم کو پہچاننا ضروری ہے، مگر اس سے بھی زیادہ ضروری ہے وہ ماحول توڑنا جو ظالم کو طاقت دیتا ہے۔ خاموش خاندان، ڈرا ہوا محلہ، کمزور قانون، خریدی ہوئی گواہی، شرمندہ کیا گیا مظلوم، لمبا نظام، بے حس لوگ، نرم الفاظ، جھوٹی عزت، اور “بات ختم کرو” جیسے جملے ظالم کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ سب بدل جائیں، تو ظلم کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔عورت اور بچہ کسی معاشرے کا کمزور نشانہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اس معاشرے کا امتحان ہیں۔ جو معاشرہ انہیں محفوظ رکھتا ہے، وہ اپنی انسانیت بچا لیتا ہے۔ جو معاشرہ انہیں خاموش کر دیتا ہے، وہ اپنے مستقبل کو زخمی کر دیتا ہے۔آخر میں سوال بہت سیدھا ہے: ایک عورت ظلم کے بعد کہاں جائے؟ ایک بچہ خوف کے بعد کس کو پکارے؟ اگر اس سوال کا جواب کسی معاشرے کے پاس نہیں، تو وہ معاشرہ خواہ کتنا بھی ترقی یافتہ، مذہبی، جدید، روایتی، امیر یا تعلیم یافتہ کہلائے، اندر سے کمزور ہے۔انسانیت کا معیار طاقت ور کے آرام سے نہیں، کمزور کی حفاظت سے ناپا جاتا ہے۔ جہاں عورت محفوظ نہیں، جہاں بچہ محفوظ نہیں، وہاں تہذیب کا دعویٰ ادھورا ہے۔ اور جہاں ظالم کو پہلی بار یہ احساس ہو جائے کہ عورت اکیلی نہیں، بچہ بے آواز نہیں، قانون سویا ہوا نہیں، اور معاشرہ بے حس نہیں، وہیں سے انسانیت کی اصل ابتدا ہوتی ہے۔