بچوں کا مُستقبِل
2026-07-08
تحریر ۔ شاہد شکیل
پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور استحصال کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ یہ زخم نیا نہیں، پرانا ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں یہ زخم گھروں، گلیوں، خاندانوں، دباؤ، شرم اور خاموشی کی تہوں میں چھپ جاتا تھا۔پچاس ساٹھ سال پہلے ذرائع ابلاغ اتنے وسیع نہیں تھے، خبر اتنی تیزی سے لوگوں تک نہیں پہنچتی تھی، اور بہت سے واقعات ایسے ہی دب جاتے تھے جیسے وہ کبھی ہوئے ہی نہ ہوں۔اس زمانے میں اگر کسی بچے کے ساتھ ظلم ہوتا تھا تو اکثر وہ بچہ خود بھی خوف، شرم یا دباؤ کی وجہ سے کسی کو بتانے کی ہمت نہیں کر پاتا تھا۔ والدین بھی کئی بار معاشرتی بدنامی، خاندان کے دباؤ، پولیس کے خوف یا بااثر لوگوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے خاموش رہ جاتے تھے۔ یوں جرم صرف ایک بچے کے جسم یا ذہن پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس کے بعد خاموشی کا ایک دوسرا جرم بھی شروع ہو جاتا تھا۔آج میڈیا ترقی کر چکا ہے، خبریں تیزی سے سامنے آ جاتی ہیں، اخبارات، ٹیلی ویژن اور سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے واقعات چھپانا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعات سامنے آنے سے مسئلہ حل ہو گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے بہت کچھ چھپ جاتا تھا، آج بہت کچھ سامنے آ جاتا ہے؛ مگر سامنے آ جانا انصاف کے برابر نہیں ہوتا۔رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں روزانہ کئی بچے جنسی زیادتی، استحصال یا تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ بعض ہولناک واقعات میں بچوں کو اس ظلم کے بعد قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ یہ جملہ لکھتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے، کیونکہ جس معاشرے میں بچہ محفوظ نہ ہو، وہاں مستقبل کا دعویٰ بہت کمزور ہو جاتا ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں، بچے ملک کے معمار ہیں، بچے پڑھ لکھ کر قوم کو آگے لے جاتے ہیں۔ مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس بچے کی زندگی کے آغاز ہی میں اس کی معصومیت، اعتماد اور ذہنی سکون کو کچل دیا جائے، وہ بچہ کس طرح ملک کا مستقبل بنے گا؟ جس بچے کی روح پر خوف کا سایہ ڈال دیا جائے، اس سے ہم روشنی کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟اصل مسئلہ صرف ایک جرم کا نہیں، پورے معاشرتی رویے کا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں آج بھی ایسے موضوعات پر کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ والدین شرم محسوس کرتے ہیں، بچے خوف محسوس کرتے ہیں، خاندان بدنامی سے ڈرتے ہیں، اور بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خاموش رہنا بہتر ہے۔ مگر خاموشی کبھی تحفظ نہیں بنتی۔ خاموشی اکثر مجرم کو مزید طاقت دیتی ہے۔بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیموں اور مختلف رپورٹوں میں بار بار یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ایسے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ جو واقعات پولیس یا میڈیا تک پہنچتے ہیں، وہ شاید اصل تصویر کا صرف ایک حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے جب کسی رپورٹ میں چند ماہ کے دوران سینکڑوں یا ہزار سے زائد واقعات کا ذکر آتا ہے تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے متاثرہ خاندان خوف، غربت، دباؤ یا بدنامی کے ڈر سے مقدمہ درج نہیں کرواتے۔ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایسے جرائم میں ہمیشہ اجنبی لوگ ملوث نہیں ہوتے۔ کئی رپورٹوں کے مطابق اکثر اوقات مجرم بچے کا کوئی جاننے والا، قریبی شخص، رشتہ دار، پڑوسی یا خاندان کے دائرے سے وابستہ فرد بھی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ جب جرم گھر، محلے یا اعتماد کے دائرے کے اندر سے جنم لے، تو بچے کی دنیا ایک ہی لمحے میں ٹوٹ جاتی ہے۔یہاں قانون کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ قوانین موجود ہو سکتے ہیں، ادارے بھی قائم ہو سکتے ہیں، بیانات بھی دیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر قانون پر عمل درآمد کمزور ہو تو یہ سب کاغذی دیوار بن کر رہ جاتا ہے۔ جب متاثرہ خاندان کو انصاف کے راستے میں دباؤ، سفارش، دھمکی، تاخیر یا بااثر لوگوں کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے، تو قانون کا خوف مجرم کے دل میں نہیں بلکہ مظلوم کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔اور اگر قانون کے محافظوں میں سے بعض افراد خود طاقت کے غلط استعمال، غفلت یا بااثر لوگوں کی پشت پناہی میں ملوث پائے جائیں، تو عام آدمی کا اعتماد مزید ٹوٹ جاتا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اصل کام کمزور کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ اسے مزید خوف زدہ کرنا۔ جب محافظ پر اعتماد ختم ہو جائے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ایسے جرائم صرف قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ بیمار سوچ، اخلاقی زوال، طاقت کے غلط استعمال، تربیت کی کمی اور نفسیاتی بگاڑ کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔ جو شخص بچے یا عورت پر ظلم کرتا ہے، وہ صرف قانون توڑتا نہیں، انسانیت کی بنیاد کو بھی زخمی کرتا ہے۔ ایسے مجرم کے لیے قانون کے مطابق سزا بھی ضروری ہے، اور ساتھ ہی ماہرین کے ذریعے نفسیاتی جانچ بھی ہونی چاہیے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ معاشرے کے لیے دوبارہ خطرہ تو نہیں بنے گا۔صرف چند ماہ یا چند سال کی سزا، اگر اصلاح، علاج، نگرانی اور دوبارہ جرم روکنے کے نظام کے بغیر ہو، تو مسئلہ مکمل حل نہیں کرتی۔ اگر ایک شخص سزا کاٹ کر واپس اسی بیمار سوچ کے ساتھ معاشرے میں آ جائے، تو خطرہ ختم نہیں ہوتا، صرف کچھ وقت کے لیے رک جاتا ہے۔ اس لیے انصاف کا مطلب صرف سزا نہیں، بلکہ متاثرہ بچے کا تحفظ، مجرم کی جوابدہی، نفسیاتی جانچ، علاج، نگرانی اور دوبارہ جرم کی روک تھام بھی ہونا چاہیے۔پاکستان میں یہ مسئلہ ایک درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اس کی جڑیں صرف جرم میں نہیں، بلکہ غربت، جہالت، خوف، شرم، کمزور قانون، معاشرتی دباؤ، بااثر لوگوں کے اثر، پولیس پر عدم اعتماد، بچوں کو اپنے حقوق سے ناواقف رکھنے، اور والدین کی خاموشی میں بھی پیوست ہیں۔ اگر صرف شاخیں کاٹی جائیں اور جڑوں کو نہ دیکھا جائے تو یہ درخت دوبارہ بڑھتا رہے گا۔بچوں کے حقوق کے بارے میں عام لوگوں کو شعور دینا ضروری ہے۔ والدین کو یہ سمجھانا ہوگا کہ بچے کی بات کو سننا، اس پر یقین کرنا، اسے ڈانٹنا نہیں بلکہ تحفظ دینا ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ اسکول، مدرسہ، استاد، محلہ، خاندان اور ریاست—سب کو یہ ماننا ہوگا کہ بچہ کسی کی ملکیت نہیں، ایک مکمل انسان ہے۔ اس کی عزت، حفاظت، آواز اور مستقبل کا تحفظ پورے معاشرے کا فرض ہے۔ایسے واقعات کے بعد متاثرہ بچے اور اس کے خاندان کو شرمندہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ شرم مجرم کو آنی چاہیے، مظلوم کو نہیں۔ بدنامی اس بچے کی نہیں جس پر ظلم ہوا، بدنامی اس معاشرے کی ہے جو ظلم کے بعد بھی خاموش رہتا ہے۔ جب تک ہم یہ فرق نہیں سمجھیں گے، تب تک بہت سے بچے اپنے درد کو دل میں دفن کرتے رہیں گے۔محض زبانی ترقی، سیاسی نعرے، مذہبی دعوے یا معاشرتی فخر کسی ملک کو آگے نہیں لے جا سکتے۔ اصل ترقی انسان کی سوچ، قانون کے احترام، کمزور کے تحفظ، انصاف کے نفاذ اور انسانی وقار کو تسلیم کرنے سے آتی ہے۔ آج سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے واقعات ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک گنتی کرتے رہیں گے؟ کب تک ہر واقعے کے بعد چند دن شور ہوگا، پھر خاموشی چھا جائے گی؟ کب تک بچے خوف میں بڑے ہوں گے؟ کب تک والدین بدنامی کے ڈر سے انصاف کا راستہ چھوڑیں گے؟ کب تک قانون طاقتور کے سامنے کمزور اور کمزور کے سامنے سخت دکھائی دے گا؟اگر پاکستان کو واقعی اپنے مستقبل کی فکر ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے بچوں کی حفاظت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ بچے قوم کا مستقبل اسی وقت بن سکتے ہیں جب ان کا حال محفوظ ہو۔ ایک خوف زدہ بچہ، ایک زخمی بچہ، ایک خاموش بچہ، ایک ایسا بچہ جس کی آواز کوئی نہ سنے، وہ صرف اپنا درد نہیں اٹھاتا؛ وہ پورے معاشرے کی ناکامی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف پولیس، عدالت، والدین یا استاد کا نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ جب تک معاشرہ بچوں کے درد کو اپنی ذاتی ذمہ داری نہیں سمجھے گا، تب تک ہر رپورٹ، ہر خبر، ہر احتجاج اور ہر افسوس ادھورا رہے گا۔بچوں کو محفوظ کرنا صرف قانون کا تقاضا نہیں، انسانیت کا امتحان ہے۔ اور جو معاشرہ اس امتحان میں ناکام ہو جائے، اسے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔