عوامی تحفظ

2026-07-27

تحریر ۔ شاہد شکیل

پولیس کا بنیادی فرض شہری کو خوف زدہ کرنا نہیں، بلکہ اسے خوف سے محفوظ رکھنا ہے۔ وردی اختیار اور طاقت کی علامت ضرور ہے، مگر اس طاقت کا اصل حسن ذمہ داری، ضبط اور انصاف میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ کسی معاشرے میں پولیس اگر حقیقی محافظ کا کردار ادا کرے تو عام شہری سڑک، بازار اور اپنے روزمرہ معاملات میں خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔ لیکن جب محافظ ہی خوف کا استعارہ بن جائے تو قانون اور شہری کے درمیان قائم اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ایک شہری کو پولیس کی موجودگی سے اطمینان حاصل ہونا چاہیے۔ اسے یقین ہو کہ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس کا حق چھینا گیا یا اسے کسی خطرے کا سامنا کرنا پڑا تو کوئی ادارہ اس کی بات سنے گا۔ بچے، عورت، بزرگ، مزدور اور معاشرے کے کمزور طبقات اس یقین کے سب سے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ وہ طاقت ور کے مقابلے میں کمزور کے ساتھ کس حد تک کھڑی ہوتی ہے۔پولیس اور عوام کا رشتہ محض حکم دینے اور حکم ماننے کا تعلق نہیں۔ اس کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام اور قانون کی یکساں بالادستی پر ہونی چاہیے۔ اگر شہری مشکل کے وقت پولیس سے رابطہ کرنے کے بجائے مزید مصیبت کے خوف سے خاموش رہنے کو ترجیح دے تو مسئلہ صرف کسی ایک اہلکار کے رویّے تک محدود نہیں رہتا؛ اس سے پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔انصاف کی تلاش میں آنے والے شخص کو پہلے ہی بےبسی، خوف یا نقصان کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر شکایت درج کرانے کے دوران اس سے تحقیر آمیز لہجے میں بات کی جائے، اسے بلاوجہ انتظار کرایا جائے یا اس کے لباس، زبان اور معاشی حالت کی بنیاد پر کمتر سمجھا جائے تو اس کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ ممکن ہے وہ آئندہ ظلم برداشت کرلے، مگر مدد کے لیے دروازہ کھٹکھٹانے کی ہمت نہ کرے۔ شہری کی یہی خاموشی ظالم کے حوصلے میں اضافہ کرتی ہے۔قانون کی حقیقی قدر اسی وقت قائم رہتی ہے جب اس کا اطلاق دولت، حیثیت اور تعلقات سے بالاتر ہو۔ اگر طاقت ور کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے سختی کا الگ معیار ہو تو قانون کتابوں میں تو باقی رہتا ہے، مگر عملی زندگی میں اپنا وقار کھو دیتا ہے۔ پھر شہری کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ انصاف حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اثرورسوخ اور سفارش کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔کسی ادارے کے کردار کا پہلا اظہار اس کی زبان سے ہوتا ہے۔ گالی، دھمکی، حقارت اور غیر ضروری بدتمیزی قانون نافذ کرنے کے طریقے نہیں، بلکہ طاقت کے غلط استعمال کی علامتیں ہیں۔ نظم قائم کرنا اور شہری کو ذلیل کرنا دو بالکل مختلف امور ہیں۔ پولیس کو بعض حالات میں مجرم کے خلاف سخت کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے، مگر سختی اور بدسلوکی کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔جرم کو روکنے کے لیے اختیار ضروری ہے۔ خطرناک شخص کو گرفتار کرنا، تشدد کو روکنا اور عوام کی حفاظت کے لیے فوری قدم اٹھانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن قانونی اختیار کی حدود واضح ہونی چاہییں۔ طاقت قانون کے تابع رہے تو تحفظ بنتی ہے، اور ذاتی مرضی کے تابع ہوجائے تو خوف پیدا کرتی ہے۔ وردی کسی شخص کو اپنی خواہش کو قانون قرار دینے کا حق نہیں دیتی۔پولیس کا رویّہ صرف متعلقہ شہری تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایک بچہ دیکھتا ہے کہ کسی غریب یا کمزور شخص کے ساتھ صرف اس کی بےبسی کی وجہ سے تحقیر آمیز سلوک کیا جارہا ہے تو اس کے ذہن میں طاقت کا غلط تصور پیدا ہوسکتا ہے۔ وہ یہ سیکھ سکتا ہے کہ اختیار کا مقصد خدمت کے بجائے دوسروں پر برتری قائم کرنا ہے۔ذلت بھی ایک جگہ رکتی نہیں۔ کسی ادارے کے سامنے بےبس ہونے والا شخص اپنی محرومی اور غصہ گھر لے جاسکتا ہے۔ وہ خود سے کمزور رشتوں پر وہی سختی منتقل کرسکتا ہے جس کا سامنا اسے باہر کرنا پڑا۔ یوں ایک لمحے کی تحقیر دفتر سے گھر، سڑک سے زبان اور ادارے سے رشتوں تک سفر کرنے لگتی ہے۔ اسی لیے شہری کے احترام کا تعلق صرف ایک فرد کی عزت سے نہیں بلکہ پورے معاشرتی توازن سے ہے۔ایک اچھا پولیس نظام لوگوں کو قانون کا احترام سکھاتا ہے، جب کہ خراب رویّہ قانون سے دوری پیدا کرتا ہے۔ مجرم کو قانون کا خوف ہونا چاہیے، لیکن شریف شہری کو پولیس کی موجودگی سے تحفظ محسوس ہونا چاہیے۔ اگر بےقصور شخص بھی خود کو مجرم کی مانند خوف زدہ محسوس کرے تو قانون اور دہشت کے درمیان فرق دھندلا ہونے لگتا ہے۔عام شہری پولیس سے کسی غیر معمولی کردار کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بات توجہ سے سنی جائے، اس کے ساتھ شائستگی سے گفتگو ہو اور اس کی کمزوری کو کمائی یا تحقیر کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اگر اس سے غلطی ہوئی ہے تو کارروائی قانون کے مطابق ہو، نہ کہ کسی اہلکار کے غصے یا ذاتی مزاج کے تحت۔ یہی بنیادی طرزِ عمل کسی ادارے کے وقار کو قائم رکھتا ہے۔سب سے تشویش ناک صورت وہ ہوتی ہے جب لوگ شکایت کرنے سے بھی خوف محسوس کریں۔ عورت کو یہ اندیشہ ہو کہ انصاف کی تلاش میں اسے مزید اذیت برداشت کرنا پڑے گی، مزدور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کرے اور غریب شخص یہ سمجھے کہ طاقت ور کے خلاف بولنا اسے مزید نقصان پہنچائے گا۔ ایسی فضا میں مجرم صرف اپنی طاقت سے نہیں بلکہ نظام پر عوام کی بےاعتمادی سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔پولیس کی موجودگی اگر مظلوم کو زبان اور مجرم کو جواب دہی کا احساس دے تو جرائم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ لیکن اگر عام شہری یہ سمجھے کہ اس کی بات نہ سنی جائے گی یا اسے تھکا کر خاموش کردیا جائے گا تو ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت کمزور پڑجاتی ہے۔ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی؛ بعض اوقات وہ خوف، بےبسی اور مایوسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ایک باوقار پولیس نظام ہر شہری کو یہ احساس دیتا ہے کہ اس کی جان، عزت اور آواز کی قدر ہے۔ اس کا لباس، لہجہ، علاقہ یا مالی حیثیت اسے کمتر شہری نہیں بناتی۔ ریاست کی نگاہ میں ہر شخص قانون کے سامنے برابر ہے۔ یہی احساس شہری اور ادارے کے درمیان وہ اعتماد قائم کرتا ہے جس کے بغیر امن کا قیام محض طاقت کے استعمال تک محدود رہ جاتا ہے۔پولیس کی اصلاح صرف نئی وردی، عمارت، گاڑی، اسلحہ یا جدید آلات سے ممکن نہیں۔ یہ سہولتیں ضروری ہوسکتی ہیں، لیکن ادارے کی روح اس کے اہلکاروں کی تربیت، زبان، جواب دہی اور طرزِ عمل میں ہوتی ہے۔ اگر شہری سے گفتگو کا انداز تحقیر آمیز ہو تو جدید ترین دفتر بھی انصاف کا احساس پیدا نہیں کرسکتا۔تربیت میں یہ شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ شہری مخالف فریق نہیں بلکہ اسی ریاست کا فرد ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری پولیس کو سونپی گئی ہے۔ اختیار ذاتی برتری نہیں، ایک امانت ہے۔ جہاں بدسلوکی پر بازپرس، رشوت پر سزا اور غیرقانونی تشدد پر مؤثر کارروائی ہو، وہاں ادارے کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ جواب دہی کے بغیر طاقت آہستہ آہستہ غرور میں تبدیل ہوجاتی ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پولیس خود وسیع تر نظام کے دباؤ کا سامنا کرتی ہے۔ سیاسی مداخلت، طویل اوقاتِ کار، ناقص تربیت، محدود وسائل اور غیرمنصفانہ انتظامی ماحول اہلکاروں کی کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ان مسائل کی اصلاح ضروری ہے، مگر انہیں شہری کی تذلیل یا اس پر زیادتی کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ مشکل حالات اصلاح کا مطالبہ کرتے ہیں، ظلم کی اجازت نہیں دیتے۔پولیس کو حاصل طاقت کی اصل عظمت کمزور پر آزمانے میں نہیں بلکہ طاقت ور مجرم کو قانون کے سامنے لانے میں ہے۔ کسی بےبس شخص کو ڈانٹ دینا بہادری نہیں۔ اصل جرأت یہ ہے کہ اثرورسوخ رکھنے والے ظالم کے سامنے قانون کی بالادستی قائم رکھی جائے اور مظلوم کو یہ یقین دلایا جائے کہ اس کی آواز تنہا نہیں۔جب لوگ قانون پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو اپنے معاملات خود طے کرنے لگتے ہیں۔ بدلہ، دھمکی، سفارش اور ذاتی طاقت قانون کی جگہ لینے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں قانون کاغذ پر تو موجود رہتا ہے، مگر شہریوں کے شعور اور اعتماد سے نکل جاتا ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کے لیے نہایت خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔ایک صحت مند معاشرے میں پولیس کی آمد خوف نہیں بلکہ اطمینان کا سبب ہونی چاہیے۔ بچے کو وردی دیکھ کر چھپنا نہ پڑے، عورت کو راستہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہ ہو اور غریب شخص اپنی جیب اور عزت دونوں کے بارے میں خوف زدہ نہ ہو۔ شہری کے دل میں یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر کوئی خطرہ پیدا ہوا تو یہ ادارہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔پولیس عوام پر حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لیے قائم کی جاتی ہے۔ شہری رعایا نہیں، ایک باوقار انسان ہے۔ غریب ہونا جرم نہیں، کمزور ہونا بےقدری کی دلیل نہیں، اور شکایت کرنا بدنامی نہیں بلکہ انصاف کے حصول کا حق ہے۔خوف لوگوں کو خاموش تو کرسکتا ہے، مگر قانون کے قریب نہیں لاسکتا۔ احترام ہی وہ بنیاد ہے جس پر پولیس اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جہاں شہری پولیس کی موجودگی سے محفوظ محسوس کرے، وہاں قانون زندہ رہتا ہے؛ اور جہاں محافظ ہی خوف کا سبب بن جائے، وہاں قانون کا جسم باقی رہ سکتا ہے، مگر اس کی روح کمزور پڑجاتی ہے۔