اندھا اعتماد

2026-07-03

تحریر۔ شاہد شکیل

آج کی دنیا دعوے سے نہیں چلتی، ثبوت سے چلتی ہے۔ انسان جب کام مانگتا ہے تو اس سے سند پوچھی جاتی ہے۔ عدالت میں مقدمہ جائے تو گواہ، دستاویز، اور رپورٹ دیکھے جاتے ہیں۔ علاج کے لیے طبی معائنہ درکار ہوتا ہے، شناخت کے لیے کاغذ مانگا جاتا ہے، تعلیم کے لیے سرٹیفکیٹ دیکھا جاتا ہے، تجارت میں رسید اور معاہدہ پوچھا جاتا ہے۔ زندگی کا کوئی سنجیدہ شعبہ محض اس جملے پر قائم نہیں رہتا کہ ،بس مان لو، ایسا ہی ہے۔ عجیب بات ہے کہ معمولی معاملات میں انسان ثبوت مانگتا ہے، مگر جب سوال جان، عزت، آزادی، جرم، سزا عورت، بچے اور انصاف کا آتا ہے تو بہت سے لوگ اچانک روایت، عقیدہ، صلح، معافی، دباؤ اور پرانی عادتوں کے پیچھے پناہ لینے لگتے ہیں۔ گویا دکان کے حساب میں دلیل چاہیے، مگر انسان کی بربادی کے معاملے میں جذبات کافی ہیں۔ نوکری کے لیے کاغذ ضروری ہے، مگر جرم کے لیے خاموشی بھی چل سکتی ہے۔ علاج میں رپورٹ چاہیے، مگر مظلوم کے زخم پر اندازہ، تسلی اور نصیحت رکھ دی جاتی ہے۔ یہیں سے خرابی شروع ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں ثبوت کی جگہ اندھا اعتماد لے لے، وہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ اندھا اعتماد سوال سے ڈرتا ہے، ثبوت سوال کو قبول کرتا ہے۔ اندھا اعتماد کہتا ہے کہ جو پرانا ہے، وہی درست ہے؛ ثبوت کہتا ہے کہ جو درست ہے، اسے پرکھا جا سکتا ہے۔ اندھا اعتماد طاقتور کے لیے ڈھال بن جاتا ہے؛ ثبوت کمزور کو زبان دیتا ہے۔ اندھا اعتماد انسان کو جھکاتا ہے؛ ثبوت انسان کو کھڑا ہونے کا حق دیتا ہے۔ کسی شخص کا ذاتی عقیدہ اس کا اپنا معاملہ ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے دل میں جس خیال، جس روایت، جس دعا، جس امید یا جس تسلی کو رکھنا چاہے رکھے۔ لیکن جب اس کا اثر کسی دوسرے انسان کی زندگی پر پڑنے لگے، جب اس کی بنیاد پر کسی مظلوم کو خاموش کیا جائے، کسی مجرم کے لیے راستہ نکالا جائے، کسی عورت یا بچے کے حق کو دبایا جائے، یا کسی جرم کو صلح اور معافی کے پردے میں دفن کیا جائے، تو وہ ذاتی معاملہ نہیں رہتا۔ وہاں سوال لازم ہو جاتا ہے۔ انصاف کا تعلق احساس سے ضرور ہے، مگر فیصلہ احساس پر نہیں ہو سکتا۔ فیصلہ حقیقت پر ہونا چاہیے۔ کس کو نقصان ہوا؟ جرم کس نے کیا؟ ثبوت کیا کہتے ہیں؟ متاثرہ انسان کی حالت کیا ہے؟ قانون کی ذمہ داری کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بغیر کوئی فیصلہ انصاف نہیں، صرف انتظامی کارروائی رہ جاتا ہے۔ جرم کو معافی کے جملے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ظلم کو صلح کے کاغذ سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی نقصان کو پیسے، دباؤ، رشتے یا مذہبی الفاظ کے نیچے دفن کر دینا انصاف نہیں، انصاف کی توہین ہے۔ اگر کسی انسان کی زندگی برباد ہو چکی ہو تو اس پر یہ کہنا کہ “بات ختم کرو” دراصل مظلوم سے اس کا آخری حق بھی چھین لینا ہے: اپنے دکھ کو حقیقت کہلانے کا حق۔ ثبوت کا مطلب صرف کاغذ نہیں۔ ثبوت کبھی گواہی ہوتا ہے، کبھی طبی رپورٹ، کبھی مسلسل رویہ، کبھی متاثرہ انسان کی حالت، کبھی حالات کی ترتیب، کبھی وہ خاموش نشان جو جھوٹ سے زیادہ سچا ہوتا ہے۔ مگر جو بھی ہو، فیصلہ قابلِ جانچ حقیقت پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس پر کہ کون زیادہ طاقتور ہے، کس کی آواز بلند ہے، کس کے پاس پیسہ ہے، کس کے پیچھے خاندان ہے، یا کون پرانے الفاظ کو نئی ناانصافی پر چڑھا کر پیش کر سکتا ہے۔ اندھا اعتماد کمزور سے ہمیشہ قربانی مانگتا ہے۔ ثبوت طاقتور سے جواب مانگتا ہے۔ اسی لیے طاقتور کو اندھا اعتماد پسند آتا ہے؛ اس میں سوال کم ہوتے ہیں، راستے زیادہ۔ ثبوت اسے ناگوار گزرتا ہے، کیونکہ ثبوت چہرے نہیں دیکھتا، دعوے نہیں مانتا، رتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔ ثبوت کہتا ہے: جو ہوا ہے، اسے سامنے لاؤ۔ جو ثابت ہے، اسے تسلیم کرو۔ جس نے نقصان پہنچایا ہے، اسے جواب دہ بناؤ۔ ایک زندہ معاشرہ وہ نہیں جو ہر بات پر روایت کا حوالہ دے؛ زندہ معاشرہ وہ ہے جو اپنی غلطی کو دیکھ سکے، اپنی عادت کو پرکھ سکے، اپنے قانون کو حرکت میں لا سکے، اور کمزور انسان کے حق کو طاقتور کی سہولت پر قربان نہ کرے۔ جہاں ثبوت کی جگہ اندھا اعتماد بیٹھ جائے، وہاں عقل آہستہ آہستہ بے دخل ہو جاتی ہے، قانون کمزور ہو جاتا ہے، اور مظلوم کو نصیحت ملتی ہے، انصاف نہیں۔ آج کی دنیا اگر کسی اصول پر کھڑی ہے تو وہ یہ ہے کہ دعویٰ کافی نہیں۔ بات کہنے سے بات ثابت نہیں ہو جاتی۔ عمر، روایت، مذہبی زبان، خاندانی دباؤ، سماجی مقام یا جذباتی فریاد کسی جرم کی حقیقت کو بدل نہیں سکتے۔ جو غلط ہے، وہ غلط ہے۔ جو ثابت ہے، اسے ماننا ہوگا۔ جو مجرم ہے، اسے جواب دینا ہوگا۔ اور جو مظلوم ہے، اسے خاموش رہنے کا نہیں، انصاف پانے کا حق ہے۔ ذاتی سکون کے لیے انسان جس عقیدے کو چاہے اپنے دل میں جگہ دے سکتا ہے، مگر اجتماعی انصاف کو دل کی تسلی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ وہاں ثبوت چاہیے، عقل چاہیے، قانون چاہیے، انسانی حق کا احترام چاہیے۔ جو معاشرہ اس فرق کو نہیں سمجھتا، وہ ہر بڑے جرم کے بعد چھوٹے جملوں میں پناہ ڈھونڈتا رہتا ہے، مگر اپنی تباہی کی اصل وجہ تک نہیں پہنچتا۔ اصل بات اتنی ہے: اندھا اعتماد انسان کو ماضی کے اندھیرے میں باندھتا ہے؛ ثبوت اسے حقیقت کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ اور انصاف ہمیشہ اسی جگہ سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان مان لیتا ہے کہ دعویٰ نہیں، حقیقت فیصلہ کرے گی۔