آزاد زندگی

2026-07-15

تحریر ۔ شاہد شکیل

آج سے پچاس یا ساٹھ سال پہلے پاکستان میں یورپ، امریکہ اور کینیڈا کی زندگی کے بارے میں معلومات بہت محدود ہوا کرتی تھیں۔ نہ انٹرنیٹ موجود تھا، نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چند لمحوں میں تصویریں، خبریں اور ذاتی تجربات پہنچانے کے ذرائع دستیاب تھے۔ لوگوں تک بیرونی دنیا کی جو تصویر پہنچتی تھی، وہ عموماً فلموں، سنیما، اخبارات کی چند خبروں یا کسی ایسے شخص کے ذریعے پہنچتی تھی جو کئی سال بیرونِ ملک گزارنے کے بعد پاکستان واپس آیا ہوتا تھا۔ایسا شخص جب اپنے گاؤں، محلے یا خاندان میں بیٹھ کر یورپ اور امریکہ کی زندگی کے قصے سناتا تو لوگ بڑی دلچسپی اور حیرت سے اس کی باتیں سنا کرتے تھے۔ وہ بتاتا کہ وہاں لوگ وقت پر کام شروع کرتے ہیں، وقت پر دفتر سے نکلتے ہیں، ہفتے اور اتوار کی چھٹیاں مناتے ہیں، سالانہ تعطیلات میں دوسرے ملکوں کی سیر کرتے ہیں، اچھا کھاتے پیتے ہیں اور اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ سب سن کر پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے ذہن میں مغربی زندگی کی ایک ایسی تصویر بن جاتی تھی جس میں آسائش، آزادی، خوش حالی اور تفریح ہی تفریح دکھائی دیتی تھی۔اس زمانے میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یورپ کی زندگی مکمل طور پر آزاد زندگی ہے۔ انسان اپنی مرضی سے رہتا ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا اور وہ اپنی کمائی اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے۔ لیکن اسی زمانے میں ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو بیرونِ ملک جانے کا خیال پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہوتا تھا کہ ہماری روزی روٹی پاکستان میں ہے، ہمارا خاندان، برادری، زمین اور پہچان اسی ملک میں ہے، لہٰذا ہم اپنا وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر جھاڑو کیوں دیں، گندے برتن کیوں دھوئیں، فیکٹریوں میں مزدوری کیوں کریں یا دوسروں کے گھروں اور جانوروں کی خدمت کیوں کریں؟یہ سوچ اس وقت کے حالات کے مطابق بالکل غیر فطری نہیں تھی۔ انسان عموماً اسی ماحول میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے جہاں اسے اپنی زبان، اپنے لوگ، اپنے رسم و رواج اور اپنی شناخت میسر ہو۔ بیرونِ ملک جانے کا مطلب صرف زمین یا سرحد بدلنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی پوری روزمرہ زندگی کو ایک نئے نظام، نئی زبان اور نئی معاشرت کے مطابق ڈھالنا بھی ہوتا ہے۔ اس زمانے میں معلومات کی کمی کے باعث بہت سے لوگ بیرونِ ملک زندگی کے روشن پہلو تو سنتے تھے، مگر اس زندگی کی مشکلات، تنہائی، جدوجہد اور ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے تھے۔وقت گزرتا گیا۔ پاکستان سے لوگوں کی بڑی تعداد روزگار، تعلیم، کاروبار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ، امریکہ، کینیڈا اور دوسرے ملکوں کا رخ کرنے لگی۔ بیرونِ ملک پہنچنے کے بعد انہیں پہلی مرتبہ اس حقیقت کا سامنا ہوا کہ جس زندگی کو وہ مکمل آزادی سمجھتے تھے، وہ دراصل ایک منظم اور پابند زندگی تھی۔صبح مقررہ وقت پر بیدار ہونا، وقت پر کام پر پہنچنا، مقررہ اوقات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا، ٹیکس ادا کرنا، قانون کی پابندی کرنا، سرکاری کاغذات مکمل رکھنا، رہائش، بیمہ، تعلیم اور صحت سے متعلق قواعد سمجھنا اور اپنی روزمرہ زندگی کو ایک طے شدہ نظام کے مطابق چلانا ضروری تھا۔ یہاں یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان جب دل چاہے کام پر پہنچے، جب دل چاہے چھٹی کر لے یا اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دے۔ دیر سے پہنچنے، قانون توڑنے یا واجبات ادا نہ کرنے کے نتائج سامنے آ سکتے تھے۔تب بہت سے لوگوں کو محسوس ہوا کہ جس زندگی کو وہ دور بیٹھ کر آزادی سمجھتے تھے، اس میں ہر قدم پر وقت اور نظام کی پابندی موجود ہے۔ بعض افراد نے اسے وقت کی قید کہا۔ ان کا خیال تھا کہ یورپ میں انسان گھڑی کا غلام بن جاتا ہے۔ صبح سے شام تک وہ کام، ٹرانسپورٹ، ملاقاتوں، بلوں، خطوط اور قانونی تقاضوں کے مطابق چلتا ہے۔ اگر کسی کام کے لیے دس بجے کا وقت مقرر ہے تو دس بجے پہنچنا ضروری ہے۔ اگر دفتر کسی خاص وقت پر بند ہو جاتا ہے تو انسان کو اپنی سہولت کے بجائے دفتر کے وقت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ایسے موقع پر انہیں پاکستان کی زندگی یاد آتی تھی۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان میں تو ہم زیادہ آزاد تھے۔ جب دل چاہا دوستوں سے مل لیے، جب دل چاہا بازار چلے گئے، جب دل چاہا دیر تک سوئے رہے، کام میں کچھ دیر ہو گئی تو کبھی کسی جان پہچان والے نے معاملہ سنبھال لیا، کوئی سرکاری مسئلہ پیش آیا تو کسی واقف کار سے مدد لے لی۔ وہاں زندگی میں ایک غیر رسمی پن تھا، جب کہ یورپ میں ہر چیز مقررہ اصول کے مطابق چلتی تھی۔کئی لوگوں نے کچھ سال محنت اور مزدوری کرنے کے بعد پیسہ جمع کیا اور پاکستان واپس چلے گئے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو واپس نہ جا سکے۔ کسی نے شادی کر لی، کسی کے بچے پیدا ہو گئے، کسی کی ملازمت مستقل ہو گئی، کسی نے کاروبار قائم کر لیا اور کسی کے لیے قانونی یا خاندانی حالات نے واپسی مشکل بنا دی۔ یوں پاکستان کا سفر دو، تین، چار یا پانچ سال بعد ہی ممکن ہوتا تھا۔جب یہ لوگ پاکستان جاتے تو اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بتاتے کہ ہماری سوچ غلط تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ یورپ یا امریکہ جا کر مکمل آزاد زندگی ملے گی، لیکن یہاں ہر انسان وقت کا پابند ہے۔ کام کا وقت، آرام کا وقت، ملاقات کا وقت، خریداری کا وقت اور سرکاری کام کا وقت طے ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان میں اصل آزادی تھی، جہاں انسان اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق بہت سے کام کر سکتا تھا۔لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود تھا۔ جو لوگ یورپ میں کئی سال گزار لیتے تھے، وہ آہستہ آہستہ اسی نظام کے عادی ہو جاتے تھے۔ وقت پر بس اور ٹرین کا آنا، سرکاری اداروں کا مقررہ ضابطوں کے مطابق کام کرنا، سڑکوں پر قوانین کی پابندی، بلوں کا باقاعدہ حساب، طبی نظام، تعلیمی اداروں کی ترتیب اور روزمرہ معاملات میں پیشگی منصوبہ بندی ان کی عادت بن جاتی تھی۔پھر جب وہ پاکستان واپس جاتے تو انہیں وہی غیر رسمی طرزِ زندگی پریشان کرنے لگتا جسے وہ کبھی آزادی سمجھتے تھے۔ انہیں وقت کی پابندی نہ ہونا، وعدوں کا پورا نہ ہونا، سرکاری معاملات میں تاخیر، ٹریفک کی بے ترتیبی اور کاموں میں غیر ضروری رکاوٹیں محسوس ہونے لگتی تھیں۔ اب وہ ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ یورپ میں رہتے ہوئے انہیں پاکستان یاد آتا تھا اور پاکستان جا کر یورپ کا نظام یاد آنے لگتا تھا۔یہ صرف کسی ایک شخص یا ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ ہجرت کرنے والے بہت سے لوگوں کا مشترکہ انسانی تجربہ ہے۔ انسان جس جگہ طویل عرصے تک رہتا ہے، آہستہ آہستہ اس جگہ کے نظام، رفتار اور عادات کو اپنا لیتا ہے۔ پھر وہ مکمل طور پر نہ پرانے ماحول کا رہتا ہے اور نہ نئے ماحول میں اپنی جڑوں کو بھلا پاتا ہے۔ اس کے جسم کا گھر کسی ایک ملک میں ہو سکتا ہے، مگر اس کی یادیں، تعلقات اور ذہنی دنیا کئی جگہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔پرانے زمانے، درمیانی دور اور آج کے زمانے میں بہت بڑا فرق آ چکا ہے۔ دنیا نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل ذرائع اور سوشل میڈیا نے فاصلے کم کر دیے ہیں۔ آج پاکستان میں بیٹھا ایک نوجوان یورپ کے کسی شہر کی سڑک، یونیورسٹی، دفتر، بازار اور روزمرہ زندگی چند سیکنڈ میں اپنے موبائل پر دیکھ سکتا ہے۔ وہ بیرونِ ملک رہنے والوں کی کامیابیوں کے ساتھ ان کی مشکلات کے بارے میں بھی سن سکتا ہے۔اس کے باوجود آج کی نئی نسل کے ذہن میں بھی بیرونِ ملک زندگی کے بارے میں بہت سی امیدیں اور غلط فہمیاں موجود ہیں۔ پاکستان میں بہت سے نوجوان کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تعلیم ہے، ڈگری ہے، ہنر ہے اور کام کرنے کی صلاحیت ہے، مگر ہمیں مناسب ملازمت نہیں ملتی۔ اگر ملازمت مل بھی جائے تو آمدنی اور اخراجات میں توازن نہیں ہوتا۔ وہ بہتر مستقبل کے لیے یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا یا خلیجی ممالک جانا چاہتے ہیں، لیکن ویزا قوانین، مالی تقاضے، قانونی شرائط اور محدود مواقع ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔کچھ نوجوان یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارے والد، دادا یا بڑے بھائی پچاس ساٹھ سال پہلے یورپ چلے گئے ہوتے تو آج ہمارے لیے وہاں جانا اور آباد ہونا آسان ہوتا۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ پچھلی نسل نے ایک موقع کھو دیا، جس کی قیمت موجودہ نسل ادا کر رہی ہے۔ وہ پاکستان کی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور غیر یقینی صورتِ حال سے نکلنا چاہتے ہیں اور بیرونِ ملک زندگی کو نجات کا راستہ سمجھتے ہیں۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا انسان واقعی کسی ملک میں جا کر مکمل آزاد ہو سکتا ہے؟ کیا آزادی کا مطلب یہ ہے کہ جب دل چاہے سو جائے، جب دل چاہے اٹھے، جب دل چاہے کام کرے اور جب دل چاہے اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہو جائے؟حقیقت یہ ہے کہ ایسی آزادی دنیا کے کسی معاشرے میں موجود نہیں۔ انسان جب تک معاشرے میں رہتا ہے، وہ دوسرے انسانوں، قوانین، ذمہ داریوں اور اپنے فیصلوں کے نتائج سے وابستہ رہتا ہے۔ ایک شخص کی مکمل بےقید آزادی کسی دوسرے شخص کے حق، سکون یا تحفظ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے ہر منظم معاشرے میں کچھ اصول اور پابندیاں ضروری ہوتی ہیں۔زندگی کا مقصد صرف اپنی فوری خواہشات پوری کرنا نہیں۔ بامقصد زندگی میں محنت، ذمہ داری، وقت کی قدر، روزی کمانا، خاندان کا خیال رکھنا، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔ وقت کی پابندی انسان کو قیدی نہیں بناتی، بلکہ اسے قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ قانون کی پابندی آزادی ختم نہیں کرتی، بلکہ ہر شہری کی آزادی کو محفوظ بناتی ہے۔جس ملک میں انسان رہتا ہے، اس ملک کی زبان سیکھنا، قانون سمجھنا اور وہاں کے معاشرتی طریقوں کو قبول کرنا اس کی ذمہ داری بھی ہے اور کامیابی کی بنیادی شرط بھی۔ بہت سے پاکستانی بیرونِ ملک پہنچ کر اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار، سہولت، تحفظ اور بہتر مستقبل تو ملے، لیکن انہیں اپنی عادتیں، سوچ اور روزمرہ رویہ تبدیل نہ کرنا پڑے۔ یہ توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔ہجرت صرف پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کے سفر کا نام نہیں۔ ہجرت انسان سے ذہنی لچک، برداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور نئے ماحول کو سمجھنے کا تقاضا کرتی ہے۔ جو شخص نئی زبان نہیں سیکھتا، قانون کو بوجھ سمجھتا ہے اور ہر نئے طریقے کو اپنی آزادی کے خلاف تصور کرتا ہے، اس کے لیے بیرونِ ملک زندگی مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن جو شخص نظم و ضبط کو سمجھتا ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے اور نئے معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش کرتا ہے، وہ زیادہ کامیاب اور مطمئن زندگی گزار سکتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یورپ یا امریکہ میں کوئی مسئلہ نہیں۔ وہاں بھی مہنگائی، بے روزگاری، تنہائی، ذہنی دباؤ، معاشرتی فاصلے، نسلی تعصب، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور کام کا دباؤ موجود ہو سکتا ہے۔ ہر شخص کو وہاں بھی کامیابی نہیں ملتی۔ بعض لوگ کئی دہائیاں گزارنے کے بعد بھی خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اپنے وطن، زبان، خاندان اور سماجی تعلقات کی کمی محسوس ہوتی ہے۔اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ پاکستان میں صرف مسائل ہی مسائل ہیں۔ یہاں خاندان، تعلقات، اپنائیت، سماجی تعاون اور ثقافتی قربت جیسی قیمتی چیزیں موجود ہیں۔ بعض اوقات مشکل وقت میں خاندان اور دوست انسان کے لیے وہ سہارا بن جاتے ہیں جو زیادہ منظم مگر انفرادی معاشروں میں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔لیکن ہمیں آزادی اور بےنظمی کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ اگر کوئی دفتر وقت پر کام نہ کرے، اگر وعدے پورے نہ ہوں، اگر قانون ہر شخص کے لیے برابر نہ ہو یا اگر ضروری کام تعلقات اور سفارش کے بغیر نہ ہوں تو اسے آزادی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کی بےقاعدگی طاقتور شخص کو فائدہ اور عام آدمی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔اسی طرح ہمیں نظم و ضبط اور قید کے فرق کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اگر بس وقت پر آتی ہے، ڈاکٹر مقررہ وقت پر مریض دیکھتا ہے، عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہے، ملازم وقت پر کام کرتا ہے اور ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں تو یہ قید نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایسے نظام میں انسان کو کچھ پابندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں، مگر بدلے میں اسے تحفظ، اعتماد اور سہولت بھی ملتی ہے۔اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان پاکستان میں رہتا ہے یا یورپ میں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس نظام میں وہ رہ رہا ہے، کیا وہاں اسے محنت کے بدلے مناسب موقع ملتا ہے؟ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ کیا تعلیم، صحت اور روزگار کے راستے موجود ہیں؟ کیا وہ اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکتا ہے؟ کیا اسے عزت اور تحفظ حاصل ہے؟انسان اکثر اپنے حالات سے بھاگنا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے موجودہ حالات ہی اس کی پوری زندگی ہیں۔ وہ خیال کرتا ہے کہ ملک بدلتے ہی اس کی تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ حقیقت میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ جگہ بدلنے سے کچھ مسائل ختم ہوتے ہیں، مگر ان کی جگہ نئے مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ پاکستان میں روزگار کا مسئلہ ہو سکتا ہے، جبکہ یورپ میں زبان، تنہائی اور سماجی قبولیت کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک جگہ قانون کی کمزوری پریشان کرتی ہے تو دوسری جگہ قانون کی سختی بوجھ محسوس ہو سکتی ہے۔زندگی مکمل آزادی اور مکمل قید کے درمیان ایک مسلسل توازن کا نام ہے۔ ہر انسان کو کچھ فیصلے خود کرنے کا حق چاہیے، لیکن اسے ان فیصلوں کے نتائج بھی قبول کرنے پڑتے ہیں۔ اسے اپنے خواب پورے کرنے کی آزادی چاہیے، لیکن ان خوابوں کے لیے محنت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اسے بہتر معاشرے کا حق چاہیے، لیکن اس معاشرے کے قوانین اور ذمہ داریوں میں اپنا حصہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔یورپ اور امریکہ میں آزادی بھی ہے اور مسائل بھی۔ پاکستان میں بھی آزادی کے پہلو موجود ہیں اور مشکلات بھی۔ فرق صرف زمین، موسم، عمارتوں یا سڑکوں کا نہیں، بلکہ نظام، قانون، مواقع اور اجتماعی رویے کا ہے۔ جس معاشرے میں قانون مضبوط، ادارے قابلِ اعتماد اور وقت کی قدر موجود ہو، وہاں عام انسان کی زندگی نسبتاً محفوظ اور منظم ہو سکتی ہے۔ جس معاشرے میں تعلقات مضبوط، خاندان قریب اور سماجی تعاون زیادہ ہو، وہاں انسان کو جذباتی سہارا زیادہ مل سکتا ہے۔بہترین زندگی شاید وہ ہے جس میں مغربی معاشروں کا نظم، قانون اور ذمہ داری ہو، مگر اپنے معاشرے کی اپنائیت، تعلق اور انسان دوستی بھی برقرار رہے۔ ہمیں کسی ایک دنیا کو مکمل جنت اور دوسری کو مکمل جہنم سمجھنے کے بجائے دونوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے سے منع کرنا حقیقت پسندانہ بات نہیں، کیونکہ بہتر تعلیم، روزگار اور مستقبل کی تلاش ہر انسان کا حق ہے۔ لیکن انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ بیرونِ ملک زندگی تفریحی فلم نہیں۔ وہاں کامیابی کے لیے زبان، مہارت، قانون، محنت، برداشت اور وقت کی پابندی ضروری ہے۔ اسی طرح پاکستان میں رہنے والوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ بےقاعدگی کو آزادی کہنا اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔اصل آزادی وہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کے جائز فیصلے خود کر سکے، اپنی محنت سے آگے بڑھ سکے، اپنے خاندان کو تحفظ دے سکے اور کسی طاقتور شخص یا ناکام نظام کے رحم و کرم پر نہ ہو۔ اصل آزادی کے ساتھ ذمہ داری لازم ہے۔ ذمہ داری کے بغیر آزادی بہت جلد بےنظمی میں بدل جاتی ہے اور ضرورت سے زیادہ پابندی انسان کی شخصیت کو دبا سکتی ہے۔لہٰذا نہ یورپ مکمل آزادی کی سرزمین ہے اور نہ پاکستان مکمل قید خانہ۔ نہ پاکستان کی ہر بےقاعدگی آزادی ہے اور نہ یورپ کا ہر ضابطہ قید۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان موجود ہے۔انسان کو کسی ملک، معاشرے یا نظام کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی روشن تصویروں کے ساتھ اس کی قیمت بھی دیکھنی چاہیے۔ ہر سہولت کے پیچھے نظم، محنت اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہر آزادی کے ساتھ ایک حد اور ہر حق کے ساتھ ایک فرض ہوتا ہے۔زندگی کا حسن شاید اسی میں ہے کہ انسان نہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگے اور نہ اپنی جائز آزادی سے دستبردار ہو۔ وہ جہاں بھی رہے، قانون کا احترام کرے، وقت کی قدر کرے، اپنی روزی عزت سے کمائے، نئی چیزیں سیکھے اور دوسروں کے حقوق کو اپنی آزادی جتنا اہم سمجھے۔جس دن انسان آزادی کو بےقاعدگی اور نظم کو قید سمجھنا چھوڑ دے گا، اس دن شاید اسے یہ بات بھی سمجھ آ جائے گی کہ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم کس ملک میں رہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کس سوچ، کس ذمہ داری اور کس کردار کے ساتھ گزارتے ہیں۔