آغازِ تبدیلی

2026-07-23

تحریر ۔ شاہد شکیل

تبدیلی کا ذکر کرنا آسان ہے، مگر اس کی قیمت ادا کرنا دشوار۔ ہر انسان اپنے گھر، معاشرے اور نظام میں بہتری دیکھنا چاہتا ہے، لیکن اکثر اپنی ذات اور اپنے مفاد سے وابستہ خرابیوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کی خواہش تو موجود رہتی ہے، مگر اس کا سفر شروع نہیں ہو پاتا۔ اصلاح کی پہلی شرط یہ ہے کہ خرابی کو اس کے اصل نام سے پہچانا جائے۔ جب ظلم کو روایت، جھوٹ کو مصلحت، رشوت کو مجبوری، سختی کو تربیت اور حق تلفی کو خاندانی ضرورت قرار دے دیا جائے تو حقیقت پردوں میں چھپ جاتی ہے۔ جس بیماری کو تسلیم ہی نہ کیا جائے، اس کا علاج ممکن نہیں۔ ہم عموماً مسئلہ دوسروں میں تلاش کرتے ہیں۔ والدین اولاد کو، اولاد والدین کو، عوام حکمرانوں کو اور حکمران عوام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہر طرف انگلیاں اٹھتی ہیں، مگر آئینہ کم دکھائی دیتا ہے۔ تبدیلی اس وقت تک محض نعرہ رہتی ہے جب تک انسان اپنے حصے کی غلطی کو دیکھنے اور ماننے کی جرأت پیدا نہ کرے۔ سچ بولنا بھی اصلاح کی بنیاد ہے، مگر بہت سے ماحول میں سچ کو خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ گھر کی غلطی بیان کی جائے تو اسے خاندان کی بدنامی کہا جاتا ہے، ادارے کی خامی کی نشان دہی ہو تو اسے مسئلہ پیدا کرنا سمجھا جاتا ہے۔ یوں خاموشی شرافت اور حقیقت بیان کرنا بدتمیزی بن جاتا ہے۔ حالانکہ خرابی کو چھپانے سے عزت محفوظ نہیں ہوتی؛ صرف اس کی عمر بڑھتی ہے۔ تبدیلی اس لیے بھی رک جاتی ہے کہ انسان عادت سے گہرا تعلق قائم کرلیتا ہے۔ جو رویہ برسوں سے جاری ہو، وہ غلط ہونے کے باوجود مانوس محسوس ہونے لگتا ہے۔ “ایسا ہی چلتا آیا ہے” بظاہر ایک معمولی جملہ ہے، مگر اس کے ذریعے نسلوں پرانی ناانصافی کو زندگی ملتی رہتی ہے۔ پرانی ہونے سے کوئی غلطی درست نہیں ہوجاتی۔ بہت سے لوگ بہتر معاشرہ چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے اپنے فائدے کو محدود کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ وہ کرپشن کے خاتمے کی بات کرتے ہیں مگر اپنا کام سفارش سے کرانا چاہتے ہیں۔ قانون کی برابری چاہتے ہیں مگر اپنے لیے رعایت تلاش کرتے ہیں۔ عورت کے احترام کی بات کرتے ہیں مگر اپنے گھر میں اس کی آواز قبول نہیں کرتے۔ ایسی خواہش تبدیلی نہیں لاتی؛ تبدیلی ہمیشہ کسی نہ کسی ذاتی قیمت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس قیمت میں اپنی غلطی ماننا، ناجائز فائدے سے دست بردار ہونا، کمزور کے حق میں کھڑا ہونا اور اس وقت بھی انصاف کرنا شامل ہے جب ناانصافی سے ذاتی فائدہ حاصل ہوسکتا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دعویٰ اور کردار ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ خوف بھی تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ لوگ تعلقات کے ٹوٹنے، روزگار چھننے، بدنامی یا طاقت ور کی دشمنی سے ڈرتے ہیں۔ یہ خوف ہمیشہ بےبنیاد نہیں ہوتا، کیونکہ بعض اوقات سچ بولنے والے کو واقعی تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی لیے اصلاح صرف بہادری کی نصیحت سے ممکن نہیں؛ سچ بولنے والے کو قانونی، اخلاقی اور اجتماعی سہارا بھی درکار ہوتا ہے۔ جہاں ظلم کا کوئی نتیجہ نہ ہو، وہاں ظالم بےخوف ہوجاتا ہے۔ جب جھوٹا کامیاب، رشوت لینے والا آسودہ اور حق مارنے والا باعزت دکھائی دے تو نئی نسل کو غلط پیغام ملتا ہے۔ وہ یہ سیکھتی ہے کہ کردار سے زیادہ چالاکی اور انصاف سے زیادہ طاقت فائدہ دیتی ہے۔ تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ اچھائی کو صرف نصیحت نہیں، عملی تحفظ بھی حاصل ہو۔ صرف حکومت یا نظام کی تبدیلی بھی کافی نہیں۔ قانون، ادارے اور حکمران یقیناً بڑی ذمہ داری رکھتے ہیں، مگر نظام کو آخرکار انسان ہی چلاتے ہیں۔ اگر گھر میں ناانصافی، دفتر میں تحقیر، کاروبار میں دھوکا اور رشتوں میں خودغرضی برقرار رہے تو بڑے سیاسی نعروں کی روشنی بھی روزمرہ زندگی تک نہیں پہنچتی۔ حقیقی تبدیلی فرد اور نظام دونوں کی اصلاح چاہتی ہے۔ اصلاح ہمیشہ بڑے انقلابات سے شروع نہیں ہوتی۔ اس کی پہلی اینٹ گھر میں زبان کی شائستگی، بچے سے سچ، عورت کے حقِ اظہار، بزرگ کے احترام، مزدور کی پوری اجرت اور کمزور کے لیے آواز بننے سے رکھی جاتی ہے۔ یہ اعمال معمولی دکھائی دے سکتے ہیں، مگر معاشرتی کردار انہی سے تعمیر ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ ایک انسان کے بدلنے سے کیا ہوگا، مایوسی کی ایک اور صورت ہے۔ ایک شخص پوری دنیا نہیں بدل سکتا، مگر ایک گھر کا ماحول بدل سکتا ہے۔ ایک گھر ایک بچے کی تربیت بدل سکتا ہے، اور ایک بہتر تربیت اگلی نسل کا راستہ تبدیل کرسکتی ہے۔ ہر بڑی تبدیلی ابتدا میں محدود اور تنہا ہی دکھائی دیتی ہے۔ تبدیلی کا مقصد انتقام نہیں، تکرار کو روکنا ہونا چاہیے۔ جس انسان نے خوف دیکھا ہو، وہ اپنے بچوں کو تحفظ دے؛ جس نے تحقیر برداشت کی ہو، وہ اپنے اختیار میں دوسروں کی عزت محفوظ رکھے۔ زخم کو بدلے میں تبدیل کرنا خرابی کا نیا سلسلہ پیدا کرتا ہے، جبکہ اسے شعور میں بدل دینا اصلاح کا آغاز بنتا ہے۔ معاشرہ ایک دن میں خراب نہیں ہوا اور ایک دن میں درست بھی نہیں ہوگا۔ لیکن کسی نہ کسی نسل کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ پرانی غلطیوں کو نئی صورت میں آگے منتقل نہیں کیا جائے گا۔ تبدیلی آسمان سے اترنے والی کوئی غیرمعمولی طاقت نہیں؛ وہ انسان کے باطن میں جنم لیتی ہے، گھر میں شکل اختیار کرتی ہے، رشتوں میں آزمائی جاتی ہے اور قانون و اداروں کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔ اصل دروازہ اسی دن کھلتا ہے جب انسان اپنے فائدے کے خلاف بھی سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ پیدا کرلے۔