آزمائش

2026-07-29

تحریر ۔ شاہد شکیل

انسان اپنی زندگی میں ہمیشہ ایک ہی جگہ نہیں رہتا۔ کبھی حالات اسے اپنے شہر سے دور لے جاتے ہیں، کبھی روزگار، تعلیم یا بہتر مستقبل کی تلاش اسے ایسی سرزمین پر پہنچا دیتی ہے جہاں زبان، تہذیب، ماحول اور لوگوں کے رویّے سب مختلف ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ سفر ایک ملک سے دوسرے ملک تک ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اصل سفر انسان کے اندر شروع ہوتا ہے۔ وہ اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے مقام کو نئے انداز سے سمجھنے لگتا ہے۔پردیس میں زندگی صرف نئی سڑکوں، نئی عمارتوں اور بہتر سہولتوں کا نام نہیں۔ وہاں انسان کو سب سے پہلے یہ محسوس ہوتا ہے کہ قانون اور روزمرہ زندگی میں ہمیشہ مکمل یکسانیت نہیں ہوتی۔ کتابوں میں سب انسان برابر ہوتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں رنگ، زبان، قومیت، لباس اور نام کی بنیاد پر فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ فاصلے ہمیشہ کھلے الفاظ میں ظاہر نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ایک نظر، ایک خاموشی، ایک سرد لہجہ یا غیرضروری رویّہ انسان کو بہت کچھ سمجھا دیتا ہے۔پردیس میں رہنے والا شخص اکثر باہر سے مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ وہ کام کرتا ہے، ذمہ داریاں پوری کرتا ہے، قانون کا احترام کرتا ہے اور نئی زندگی کے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک خاموش تھکن بھی جمع ہوتی رہتی ہے۔ اپنے شہر، اپنی زبان، اپنے لوگوں اور مانوس ماحول سے دوری اسے بار بار احساس دلاتی ہے کہ سہولتیں مل جانے سے ہر خلا پُر نہیں ہوتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہجرت اور نقل مکانی کوئی نئی بات نہیں۔ انسانی تاریخ میں لوگ ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہے ہیں۔ کبھی جنگوں نے انہیں بے گھر کیا، کبھی غربت نے، کبھی سیاسی حالات نے اور کبھی بہتر زندگی کے خواب نے۔ نئی سرزمین پر قدم رکھنا شاید آسان ہو، لیکن وہاں دل کا گھر بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مکان مل سکتا ہے، روزگار مل سکتا ہے، قانونی حیثیت بھی مل سکتی ہے، مگر اپنائیت فوراً نہیں ملتی۔اس کے باوجود ہر مسئلے کا الزام صرف نئے معاشرے پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ پردیس میں رہنے والے انسان کی اپنی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اسے نئی زبان سیکھنی چاہیے، وہاں کے قوانین کو سمجھنا چاہیے اور مقامی معاشرے کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص ہر وقت شکایت کرتا رہے اور خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے سے انکار کردے تو اس کے لیے زندگی مزید دشوار ہوجاتی ہے۔لیکن خود کو بدلنے کا مطلب اپنی شناخت مٹا دینا بھی نہیں۔ اپنی زبان، تہذیب، اقدار اور خاندانی روایات انسان کی جڑیں ہوتی ہیں۔ جو شخص اپنی جڑیں مکمل طور پر کاٹ دیتا ہے، وہ نئی زمین پر بھی پوری مضبوطی سے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت بھی محفوظ رکھے اور جس ملک میں رہتا ہے، اس کے نظام، قانون اور معاشرتی اصولوں کا بھی احترام کرے۔ہر معاشرہ اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ کہیں قانون مضبوط ہوتا ہے مگر انسانی تعلقات کمزور ہوتے ہیں۔ کہیں لوگ اپنائیت دیتے ہیں مگر نظم و ضبط کی کمی ہوتی ہے۔ کہیں ترقی بہت ہوتی ہے لیکن دلوں کے درمیان فاصلے باقی رہتے ہیں۔ اس لیے کسی معاشرے کی اصل پہچان صرف اس کی عمارتوں، سڑکوں یا معاشی طاقت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے درمیان رہنے والے مختلف انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔انسانی احترام کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اگر ایک شخص محنت کرتا ہے، قانون کی پابندی کرتا ہے اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے تو اسے عزت ملنی چاہیے، خواہ وہ کسی بھی ملک، زبان، رنگ یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ کسی انسان کو صرف اس لیے کم تر سمجھنا کہ وہ باہر سے آیا ہے، دراصل اس معاشرے کی اخلاقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح پردیس میں رہنے والوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ عزت صرف مانگی نہیں جاتی، اپنے کردار سے حاصل بھی کی جاتی ہے۔ شائستہ گفتگو، دیانت داری، محنت، برداشت اور ذمہ داری انسان کو ہر جگہ قابلِ احترام بناتی ہے۔ بعض دروازے دیر سے کھلتے ہیں، مگر اچھا کردار آخرکار اپنی جگہ بنالیتا ہے۔اصل مسئلہ سرحدوں کا نہیں، رویّوں کا ہے۔ جغرافیائی سرحدیں نقشوں پر بنائی جاتی ہیں، لیکن دلوں کی سرحدیں انسان خود بناتا ہے۔ جب ایک انسان دوسرے کو برابر سمجھتا ہے تو فاصلے کم ہوجاتے ہیں، اور جب نفرت، تعصب یا برتری کا احساس پیدا ہوجائے تو ایک ہی شہر میں رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہوجاتے ہیں۔دیس ہو یا پردیس، انسان کی اصل شناخت اس کا کردار ہے۔ اس کا نام، زبان اور ملک اس کی پہچان کا حصہ ضرور ہیں، لیکن اس کی حقیقی قدر اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر معاشرے احترام، انصاف اور برداشت کو اپنا اصول بنالیں تو سرحدیں اپنی جگہ رہیں گی، مگر انسان ان کے درمیان اجنبی نہیں رہے گا۔