حضرت علی اکبر بن حسینؑ، امام حسینؑ کے فرزند اور حضرت امام زین العابدینؑ کے سوتیلے بھائی تھے۔ وہ واقعۂ کربلا کے عظیم شہداء میں شامل ہیں اور اپنی بہادری، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے معروف ہیں۔
حضرت علی اکبرؑ کی ولادت 11 شعبان 33 ہجری یا بعض روایات کے مطابق 35 ہجری میں ہوئی۔ ان کی والدہ لیلا بنت ابی مرہ تھیں، جو بنو ثقیف قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضرت علی اکبرؑ کا نسب رسول اللہﷺ سے ملتا تھا، اور ان کی شکل و صورت، گفتگو اور اخلاقیات نبی اکرمﷺ سے بے حد مشابہ تھیں۔
حضرت علی اکبرؑ جوانی میں حسنِ سیرت، بہادری اور علم میں بے مثال تھے۔ روایات کے مطابق، امام حسینؑ فرماتے تھے:
"جب بھی ہم نبی اکرمﷺ کی زیارت کے مشتاق ہوتے، تو علی اکبرؑ کے چہرے کی زیارت کر لیتے۔"
حضرت علی اکبرؑ نہ صرف بہادر سپاہی تھے بلکہ بہترین خطیب، نیک کردار اور خدا کے اطاعت گزار تھے۔
حضرت علی اکبرؑ نے میدانِ کربلا میں عظیم قربانی دی۔ 10 محرم 61 ہجری کو جب امام حسینؑ کے ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہو گئے، تو حضرت علی اکبرؑ نے سب سے پہلے میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام حسینؑ نے بیٹے کو گلے لگایا اور اشکبار آنکھوں سے انہیں رخصت کیا۔
میدانِ جنگ میں حضرت علی اکبرؑ نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کی صفوں میں زبردست حملے کیے۔ انہوں نے 80 سے زیادہ دشمنوں کو واصلِ جہنم کیا، لیکن پھر دشمن نے ان پر چاروں طرف سے حملہ کیا۔ آخرکار، مرہ بن سعد لعین نے نیزہ مارا، اور پھر کئی دشمنوں نے مل کر ان پر حملہ کیا۔
جب حضرت علی اکبرؑ زمین پر گرے، تو انہوں نے بلند آواز سے امام حسینؑ کو پکارا:
"یا ابتاہ! السلام علیک! یہ میرے نانا رسول اللہﷺ ہیں، جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جلدی آئیے!"
یہ سن کر امام حسینؑ دوڑتے ہوئے پہنچے، بیٹے کے جسم سے نیزہ نکالا، اور حضرت علی اکبرؑ نے لبیک یا حسینؑ کہتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔
امام حسینؑ نے جوان بیٹے کے لاشے کو اٹھایا اور خیمے کی طرف لائے۔ حضرت زینبؑ، امام سجادؑ اور باقی اہلِ بیت نے حضرت علی اکبرؑ کی شہادت پر گریہ کیا۔
کربلا میں حضرت علی اکبرؑ کی شہادت کو سب سے دردناک شہادتوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ امام حسینؑ کے سب سے محبوب فرزند تھے۔
حضرت علی اکبرؑ کا مزار کربلا، عراق میں امام حسینؑ کے روضے کے قریب واقع ہے، جہاں لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔
حضرت علی اکبرؑ کو جوانانِ اہلِ جنت کا راہنما اور صبر و شجاعت کی مثال مانا جاتا ہے۔ آج بھی انہیں اہلِ بیت کے سچے پیروکاروں کے لیے مشعلِ راہ سمجھا جاتا ہے۔