question

the lawyers demanding and questioning about the justice

are they fool or on the right path?

are they lawyer's demanding for the justice or the nation? 

1  کیا درخواست تحت  دوسرے  شہریوں کو حاصل ہیں؟

 

گذار چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو آئین کے آرٹیکل چار کے

2 ۔ کیا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ  آرٹیکل 209 میں درج طریقہ کار پر پوری طرح عمل درآمد کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے؟

 

3 ۔ کیا سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل دو سو نو کےتحت چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس  کی درخواست وصول کر سکتی  ہے؟

 

4   کیا چیف جسٹس کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف کی طرف سے کی سماعت ْآْئین کے آرٹیکل 209 کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

 

 

5 ۔ کیا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ سپریم کورٹ چیف جسٹس آف پاکستان کے بغیر اپنا کام کر سکتی ہے، جبکہ وہ ذاتی طور پر موجود ہو اور ذہنی طور پر اس قابل ہو کہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے؟

 

6 ۔ کیا سپریم کورٹ کے لیے چیف جسٹس کی موجودگی ضروری نہیں ہے جیسا کہ اس کے اپنے فیصلوں میں ذکر ہے؟

 

7 ۔ کیا موجود حالات سپریم کورٹ کو سبوتاثر کرنے کے مترادف نہیں ہیں؟

 

8 ۔ کیا نو مارچ دو ہزار سات اور اُس کے بعد کام کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل دو سو نو کے مطابق قانونی ہے ؟

 

9 ۔  کیا پندرہ مارچ کو جاری ہونے والے آرڈر کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل غیر قانونی طور پر اپنا کام جاری نہیں رکھے ہوئے ہے؟

 

10 ۔ کیا  آئین  چیف جسٹس آف پاکستان کے مقدمے کی سماعت کے لیے کوئی اور منفرد فورم اور طریقہ کار فراہم نہیں کرتا؟

 

11 ۔ کیا ریفررنس دائر کرنے والی اتھارٹی کی آسانی کے لیے سپریم کورٹ جیسے مخصوص فورم کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے ؟

 

12 ۔ کیا چیف جسٹس آف پاکستان کے بغیر سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل قانونی طور پر درست ہے جبکہ یہ عمل خود سپریم کورٹ کی ماضی میں قائم کی گئی مثالوں کے خلاف ہو؟

 

13 ۔ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ٹرائل کے شروع کرنے سے  پہلے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل  قانونی انداز میں ہونی چاہیے ؟

 

14 ۔ کیا موجودہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل غیر قانونی نہیں ہے اور اس کے سامنے دائر ریفرنس بھی غیر قانونی ہے۔

 

ذاتی عناد اور ترقی کے مواقع

 

15 ۔ کیا کوئی ایسا شخص جس کو ذاتی طور پر پیٹشنر کے خلاف فیصلہ آنے سے فائدہ ہو وہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھ سکتا ہے جبکہ آئین اُس  کے متبادل کی اجازت دیتا ہے؟

 

16 ۔ کیا کوئی ایسا شخص سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھ سکتا ہے جو پیٹشنر سے ذاتی عناد رکھتا ہو ؟

 

17 ۔ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے کسی بھی ممبرکی، جس کی ترقی اور مالی فوائد اس ریفرنس کے فیصلے سے جڑے ہوئے ہوں،  نااہلی کے لیے کافی نہیں ہے؟

 

18 ۔ کیا ججوں کےضابطہ اخلاق کے آرٹیکل چھ کے پیرا ایک کی روشنی میں کسی جج کو کارروائی سے خود کو ایسے مقدمے سے الگ نہیں کر لینا چاہیے جس سے اس کا ذاتی مفاد جڑا ہوا ہو جسے وہ سُن رہا ہے؟

 

19 ۔ کیا ججوں کے ضابطہ کار کے آرٹیکل چھ کے پیرا چار کی روشنی میں کسی جج کو ایسے کیس کا حصہ نہیں ہونا چاہیے جس سے اُس کو بل واسطہ یا بلا واسط فائدہ پہنچ سکتا ہو۔

 

20 ۔  کیا کوئی  ایسا جج جو پیٹشنر کے خلاف فیصلے کی صورت میں ساڑھے تین سال تک کے لیے چیف جسٹس بن سکتا ہو غیر جانبدار رہتے ہوئے ریفرنس کا فیصلہ کر سکتا ہے?

 

21  کیا ایک فاضل جج جو یہ توقع کر رہا ہو کہ اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر باسٹھ  برس کی بجائے پینسٹھ ہو جائے اور پیٹشنر کی موجودگی میں اس کے امکانات نہ ہوں ، تو کیا ایسا فاضل جج غیر جانبدار رہ سکتا ہے؟

 

 

22۔ کیا کوئی جج جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ متعصب نہیں ہے کیا وہ ان حالات کی روشنی میں انصاف کرنے کے قابل ہو گا؟

 

 23 ۔ ایسی صورت میں اگر جج  اپنے آپکو ریفرنس سے الگ نہیں کرتا تو کیا  انصاف ہوتا دکھائی دے گا؟

 

24 ۔ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی ممبر جس پر متعصب ہونے  کا الزام  لگایا گیا ہو تو کیا وہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبر رہنے کا اہل ہے؟

 

25    کیا سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ ان ججوں پر چھوڑنے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو انصاف فراہم کرنے  کی صلاحیت سے محروم کر دینے کے مترادف نہیں ہو گا؟

26    کیا ایسے مقدموں میں جن  میں جج پر براہ راست فائدہ اٹھانے کا الزام ہو، تو انصاف کی کرسی پر بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ اسی جج پر چھوڑا جا سکتا ہے؟

 

27 ’ کیا جج انصاف کر سکتا ہے‘ یا نہیں کا فیصلہ کسی جج پر چھوڑ دینے کی روایت پرانی نہیں ہو گئی ہے؟

 28  کیا عدالت میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ اس جج پر چھوڑا جا سکتا ہے جس پر مالی اور ذاتی فاہدہ اٹھانے کا الزام لگایا جا رہا ہو۔

 

 

 29  کیا سپریم کورٹ میں جج کی تعیاتی اور چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے امکان ہونے کے باجود کسی جج پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ وہ بینچ پر بیٹھے یا نہ بیٹھے کا فیصلہ خود کرے۔

 

30  کیا مالی فوائد ملنے کے واضح  امکانات کی موجودگی میں ایسے جج جن پر اعتراض کیا گیا ہو  وہ چیف جسٹس کو ہٹانے کو کوشش نہیں کریں گے؟

 

31  اگر مذکورہ بالا تحفظات کے باوجود کونسل کے ارکان اُس میں بدستور شامل رہے تو کیا یہ اُن کے مذموم مقاصد کی توثیق نہیں ہو گی، جو کہ وہ عدالتی کارروائی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

 

32  کیا اعلی عدالتوں کی جانب سے قائم کردہ مثالیں واضح نہیں ہیں کہ ایسے معاملات میں اور جب ایسے حقائق موجود ہوں تو متعلقہ جج خود ہی کونسل سے الگ ہو جائیں؟

 

33۔ کیا ذاتی تعصب اور مفاد حقیقتاً ایک سوال نہیں ہے خاص طور پر جب درخواست گزار اتنے واضح طور پر کہہ چُکا ہو کہ اُسے ان ججوں سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے؟

 

34  کیا ایسے معاملات کو ججوں پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ انصاف کر سکتے ہیں یا نہیں؟

 

35 کیا ایسے جج جن پر متعصب ہونے یا اپنے کیرئیر کو ترقی دینے کا الزام ہو کیا وہ ایسی عدالتی روایت کے پیچھے پناہ لے سکتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ انصاف کر سکتے ہیں یا نہیں؟

 

36۔ کیا جج اس مقدمے میں بیٹھنے کے نا اہل نہیں ہو جاتا جس سے اس کو  معمولی مالی فاہدے کا امکان بھی ہو؟

 

37  کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت شروع کرنے سے پہلے اپنے کی ممبر پر متعصب ہونے کے الزام کے معاملے پر غور کرے۔

 

38  کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے ضروری نہیں ہو جاتا کہ وہ کسی ایسے ممبر کے بارے میں فیصلہ کرے جس میں اس پر الزام لگایا گیا ہو کہ وہ  پیٹشنر کے خلاف سخت نفرت کے جذبات رکھتا ہے اور اسے اس سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔

 

بدنیتی

 

 39  کیا ریفرنگ اتھارٹی کی طرف سے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر  کرنا بد نیتی پر مبنی نہیں ہے؟

 

40  کیا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ  کسی ترنگ میں تو نہیں کیا گیا؟

 

41  کیا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کسی سازش کا شاخسانہ تو نہیں ہے اور اس میں شریک  کچھ لوگوں کے نام بھی ذرائع ابلاغ میں آئے ہیں جس کی ابھی تک کوئی تردید نہیں ہوئی ہے۔

 

42  کیا وزیر اعظم کی تجویزپر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی نہیں ہے، خاص طور پر سٹیل ملز کے بارے میں فیصلے کے بعد جس کی وجہ سے وزیر اعظم کو شرمندگی اُٹھانا پڑی؟

 

43-  کیا پیٹیشنر کے بعض فیصلوں، مثال کے طور پر گوادر میں زمین کی الاٹمنٹ، پارکوں کی بحالی، نیو مری پروجیکٹ، اور لاپتہ افراد کے بارے حکومت کو تنبیہ کی روشنی میں یہ ریفررنس بدنیتی پر مبنی نہیں ہے  کیونکہ ان فیصلوں کی وجہ ریفررنس دائر کرنے والی اتھارٹی متاثر ہو رہی تھی۔

 

44 - کیا پیٹیشنر کی طرف سے استعفی دینے سے انکار کے بعد ریفرنس دائر کرنے کا عمل بدنیتی پر مبنی نہیں ہے۔

 

45 - کیا  چیف جسٹس سے استعفی دینے کا مطالبہ یا اس کی امید عدلیہ کی آزادی کو سبوتاژ کرنے کے مترادف نہیں ہے؟

 

46 - کیا یہ قانونی طور پر ممکن ہے کہ ایک شخص (جیسا کہ اس کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان)  کو بند کر کے، ٹیلی فون ،ٹیلی وژن چینل بند کر کے اور اس کے گھر سے گاڑیوں کو ہٹا کر اور ہتک آمیز رویہ روا رکھ کر اسے  استعفی لینے پر مجبورکیا جا ئے۔

 

47 -  کیا بدنیتی اور کینہ پروری پر مبنی فیصلہ سے ریفرنس کی کارروائی  خراب نہیں ہو جاتی؟

 

48 ۔ کیا پیٹیشنر کے خلاف لیے جانے والے تمام اقدامات بدنیتی پر مبنی اور غیر قانونی نہیں ہیں؟

 

 

49 ۔ کیا  ریفرنگ اتھارٹی کی طرف سے ریفرنس دائر کرنے سے متعلق بنائے جانے والی رائے آرٹیکل  209 کے تحت بنائی جانے والی رائے کے زمرے میں آتی ہے؟

 

50۔ کیا ریفرنس دائر کرنے والی اتھارٹی کی جانب سے مدعا علیہ کے خلاف کیے گئے اقدامات غیر متناسب نہیں ہیں ؟

 

51 ۔ کیا ریفرنس دائر کرنے والی اتھارٹی کی جانب سے پیٹشنر کے خلاف اُٹھائے گئے اقدامات امتیازی نہیں ہیں ؟

 

52 ۔ کیا صوبائی وزراء اعلی کی جانب سے ایسے وعدے کہ جو وکیل پیٹشنر کے خلاف اُٹھائے جانے والے اقدامات کی تائید کریں گے اُنہیں سرکاری ملازمتیں اور پلاٹ دیئے جائیں گے مدعا عیلہ سے عداوت نہیں ہے؟

 

53۔ کیا یہ واضح نہیں ہے کہ  پیٹشنر کو نکالنے کے لیے حکومتی ذرائع کا بے دریغ استعمال کیے جا رہا ہے؟

 

انتہائی غیر ضروری عجلت

 

54- کیا ریکارڈ سے ظاہر واضع نہیں ہو جاتا کہ ریفرنس بھجوانے والی اتھارٹی نے ریفرنس بھجوانے سے قبل الزامات پر غیرجانبدارانہ اور آزادانہ طور پر غور نہیں کیا اور  نہ ہی اس کے لائحہ عمل اور فورم پر توجہ دی گئی اور ریفرنس بھیجنے میں غیر ضروری عجلت کا مظاہرہ کیا؟

 

55- کیا یہ غیر ضروری عجلت مدعا علہیان کی جانب سے غیرقانونی ہتھکنڈے اپنانے اور چیف جسٹس کے ساتھ جسمانی بدسلوکی کے واقع سے واضح  نہیں ہو جاتی؟

 

 56- جب نو مارچ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسمانی طور پر پابند تھے اور جس عجلت میں جب ایڈہاک چیف جسٹس نے عہدے کا حلف لیا تو کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ یہ پہلے سے سوچے ہوئے منصوبے کا حصہ ہے ؟

 

57 ۔ کیا نو مارچ دو ہزار سات کو سپریم جوڈیشل کونسل کی عجلت میں میٹنگ اور کونسل کے دو ممبران کو خصوصی  طیاروں کے ذریعے لاہور اور کراچی سے بلانے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کو بگاڑنے کے مترادف نہیں ہے۔

 

58 - کیا عجلت میں اُٹھائے گئے اقدامات یہ ظاہر نہیں کرتے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کے مختلف لوگوں کے درمیان پہلے سے طے تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان  کو ہر  ممکن طریقے سے ہٹانا ہے چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی۔

 

غیر قانونی معطلی، پابندی اور جبراً رخصت پر بھیجنا

 

59 - کیا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی کسی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج کو عدالتی کام کرنے سے روک سکے؟

 

60۔ کیا آئین کسی جگہ یہ اجازت دیتا ہے کہ اعلی عدالتوں کے جج کو عدالتی کام کرنے سے روکا جا سکے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی انکوائری کی تکمیل کے بعد اسے ہٹایا جا سکے۔

 

61 - کیا ریفرنس بھیجنے والی کسی اتھارٹی کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ آرٹیکل دو سو نو  کے تحت کارروائی کی تکمیل سے پہلے ہی  کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کو معطل کر سکے یا ہٹا سکے؟

 

62۔  کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ایسے کوئی اختیارات ہیں کہ وہ کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کو معطل کر سکے، خاص طور پر جب  اُس کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں ہے جس کے تحت وہ کسی جج کو ہٹا سکیں۔

 

63 ۔ کیا ریفرنگ اتھارٹی کا یہ موقف کہ جج کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد اسے چھٹی پر بھیجا جا سکتا ہے آرٹیکل 209 کے سب آرٹیکل سات کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

 

 

64 ۔ کیا ریفرنگ اتھارٹی ایک ایسے معمولی آرڈر  کے تحت کسی جج کو جبری چھٹی پر بھیجنے کی مجاز ہے جسے آئین کی منظوری کے دو سال بعد قانون کا درجہ دیا گیا ہو۔

 

65 ۔ کیا ججوں کی (لازمی چھٹی)  کے آرڈر اُنیس سو ستر  (پی او 27 ۔ 1970 ) کا قانون درست ہے ؟

 

66۔  کیا ججوں کو لازمی چھٹی کا آرڈر انیس سو ستر کے قانون کی آئین میں دی گئی وفاقی قانون سازی کی فہرست کی شق پچپن کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

 

67 - کیا ججوں کو جبری چھٹی پر بھیجنے کا صدراتی حکم  جسے پارلیمنٹ نے  ایک عام قانون کے طور پر منظور کیا،  کیا وہ  اسلام کے اصولوں کے منافی نہیں ہے؟

 

68 ۔ کیا ججوں کو جبری رخصت پر بھیجنے کے قانون ( انیس سو ستر  پی او 27 )  کے تحت جاری ہونے والے کسی حکم کو قانونی کہلانے کا حق  ہے؟

 

69 ۔ کیا ججوں کو جبری رخصت پر بھیجنے کے قانون ( انیس سو ستر  پی او 27 ) کے تحت پاس ہونے والا حکم  کینہ پروری تو نہیں ہے؟

 

70- کیا ججوں کو جبری رخصت پر بھیجنے کا قانون ( انیس سو ستر  پی او 27 ) آئین کے آرٹیکل 209 کے خلاف تو نہیں ہے؟

 

71 - کیا ریفرینس بھیجنے والی اتھارٹی کا نو مارچ کو چیف جسٹس کو معطل کرنے کا اقدام اس کے پاس موجود اختیارات کی بنیاد پر قانونی تھا ؟

 

72 -کیا ریفرنس بھیجنے والی اتھارٹی کا نو مارچ کو چیف جسٹس کو معطل کرنے کا اقدام قانونی تھا تو پھر سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اس کے بعد اور اسی دن  پہلے سے معطل/غیرفعال جج کو معطل/غیرفعال کرنے کی قانونی بنیاد کیا تھی؟

 

73- اگر ریفرنس بھیجنے والی اتھارٹی کا نو مارچ کو چیف جسٹس کو معطل/غیرفعال کرنے کا اقدام غیرقانونی تھا تو پھر اس کے نتیجے میں اٹھائے جانے والے اقدامات جن میں قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی، ان کی جانب سے رجسٹرار کی تبدیلی اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طلبی جائز تھے؟

 

74 - اگر سپریم جوڈیشل کونسل کا نو مارچ کو چیف جسٹس کو معطل کرنے کا فیصلہ قانونی نہیں تھا تو پھر اس کے نتیجے میں قانونی مضمرات کیا ہوں گے؟

 

75- اگر سپریم جوڈیشل کونسل کا نو مارچ کو چیف جسٹس کو معطل کرنے کا فیصلہ قانونی تھا تو ریفرنس بھجوانے والی اتھارٹی کو کیا ضرورت تھی کہ وہ پندرہ مارچ 2007 کو چیف جسٹس کو جبری چھٹی پر بھجواتے، جبکہ عام فہم بات یہ ہے کہ انہیں صرف اس وقت چھٹی پر بھیجا جا سکتا ہے جب ریفرینگ اتھارٹی کے خیال میں چیف جسٹس فرائض انجام دے رہے تھے۔

 

 76 - کیا اوپر کے تمام  تین احکامات جائز ہیں؟

 

77- اگر ایسا ہے تو پھر تین احکامات جاری کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

 

78۔ان تینوں احکامات میں سے کون سا  حکم درست ہے جس کے ذریعے چیف جسٹس کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکا گیا ہے؟

 

79۔ یا پھر یہ محض وحشیانہ طاقت ہے اور کوئی قانونی حکم نہیں ؟

 

80۔ کیا آرٹیکل 209(3) کے بعد غیرموثری مکمل نہیں ہوتی بلکہ ایک جج ہر دوسرے مقصد کے لیے جج رہتا ہے؟

 

81۔ کیا کوئی انتظامیہ آئین کی بنیاد پر خود کوئی ایسا اختیار  حاصل کرسکتی ہے جس کا ذکر آئین میں واضع طور پر نہ ہو؟

 

82 -اس آئینی حقیقت کے مضمرات کیا ہوں گے کہ دیگر قوانین کسی سرکاری افسر کی معطلی کی اجازت دیتے ہیں جن کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہوں جبکہ موجودہ آئین کو بنانے والوں نے یہ اختیار آرٹیکل 209 میں نہیں دیا؟

 

قائم مقام چیف جسٹس کی غیر آئینی تعیناتی

 

83 -کیا نو مارچ کو قائم مقام چیف جسٹس کو دیا جانے والا حلف قانونی ہے؟

 

84 -کیا چیف جسٹس کی موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا جا سکتا ہے؟

 

85 -کیا نومارچ اور اس کے بعد میٹنگ کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل جس کی سربراہی ایک قائم مقام چیف جسٹس کر رہے ہیں، اس کی کارروائی قانونی ہے؟

 

 86- کیا پندرہ مارچ کو چیف جسٹس کو جبری رخصت پربھیجنے کے بعد  قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی غیر قانونی نہیں ہے۔

 

87 -آرٹیکل 209 کے اس جملے کا کیا مطلب ہے جو کہتا ہے’ چیف جسٹس کسی اور وجہ سے اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتے‘۔

 

88 - کیا آرٹیکل 209 کی اس عبارت کے تحت چیف جسٹس کو معطل کیا جا سکتا ہے یا اسے کام سے روکا جا سکتا ہے۔

 

 89 - کیا آئین بنانے والوں کی منشا تھی ’کسی اور وجہ ‘ سے چیف جسٹس یا جج کو اس کے عہدے کا ہٹانے فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل یا صدر کے پاس نہیں ہو گا۔

 

 90 - کیا ریفرنگ اتھارٹی یفرنس فائل کرنے کی وجوہات کو پس پشت ڈال کر ریفرنس دائر کرنے کا عمل شروع کرنے کی مجاز ہے؟

 

91 -اگر  آرٹیکل 180 کی تشریح یہ ہو کہ ’ چیف جسٹس کو جبری چھٹی پر بھیجنے کا عمل آئین میں بتائی گئی وجوہات میں شامل نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا  قائم مقام چیف جسٹس کی تقریری آئینی ہے۔

 

92 - کیا آرٹیکل 180 کی تشریح کو روشنی میں موجودہ قائم مقام چیف جسٹس کی تقریری جائز ہے؟

 

93 -کیا ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج کر جج کو معطل کردینے سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوگی؟

 

عدلیہ کی آزادی

 

94 -  کیا آئین میں بیان کیے گئے سہ طرفی طاقت کے اصول کے تحت عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدگی کے اصول کی نفی نہیں ہو جاتی اگر انتظامیہ اپنی حدود سے تجاوز عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہو۔

 

95 - کیا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی وجوہات  عدلیہ کی آزادی کو ختم کرنا اور عدلیہ کو محکوم  بنانا نہیں ہے؟

 

 96- بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں بھارتی آئین کے آرٹیکل بتیس کو جو عدالتی نظرثانی سے متعلق ہے، آئین کے بنیادی ڈھانچے کا لازمی حصہ ہے جسے پارلیمنٹ بھی ختم نہیں کر سکتی۔ کیا پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کے بغیر عدالت کے اس اختیار کا کوئی اسکوپ ہو سکتا ہے۔ اور کیا مدت ملازمت کے تحفظ کے بغیر ملک میں آزاد عدلیہ ہو سکتی ہے؟

 

 97 - کیا یہ ضروری نہیں کہ چیف جسٹس کو اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی سے روکنے کے سلسلے میں جاری ہونے والے احکامات کو منسوخ کر دیا جائے تاکہ عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کا اصول قائم ہو؟

 

98۔ کیا پارلیمنٹ آج بھی ایسا قانون بنا سکتی ہے جو صدر مملکت کو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے کسی جج کو معطل کرنے کا اختیار دے؟

 

99۔ کیا ایسا کوئی قانون آئین کے مجموعی نظام کے تناظر میں جو عدلیہ کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، خصوصی طور پر آرٹیکل  209(7) اور الجہاد ٹرسٹ کیسں کا فیصلہ، غلط نہیں ہو گا۔

 

100۔ کیا آج کے دور میں بھی پارلیمنٹ ایسا کوئی قانون بنا سکتی ہے جو صدر مملکت کو کسی بھی اعلی عدالت کے جج کو جبری رخصت پر بھیجنے کا اختیار دے۔

 

101۔ کیا چیف جسٹس کے خلاف غیر قانونی عدالتی کارروائی اور انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنے کا غیر قانونی قدم، عدلیہ کی آزادی کے لیے بڑا دھچکا اور اختیارات سے تجاوز نہیں ہے۔

 

102۔ اعلی عدالت کے جج کو معطل کرنے اور جبری رخصت پر بھیجنے کے اختیار کو جائز قرار دیا جاتا ہے تو کیا یہ اعلی عدالتوں کے دستوری اختیارات پر حملہ نہیں ہو گا جن کے تحت عدلیہ انتظامیہ کے فیصلوں پر نظر ثانی کر سکتی ہے۔

 

103۔ کیا آزاد عدلیہ کے اصولوں کی خلاف ورزی، آئین کے حصہ دوئم کے باب اول میں درج بنیادی حقوق خصوصا آرٹیکل 9، 10، 12،14،25 کی خلاف ورزی نہیں۔

 

بند کمرے میں سماعت

 

104- کیا بند کمرے میں سماعت عدالتی اصولوں اور آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

 

105 - کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز پرائیوٹ شکایات سے متعلق نہیں ہیں ۔

106 - کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا رول 13 اس موجودہ کیس میں نافذ ہو سکتا ہے؟

۔

107 – کیا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت رولز 13 آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

 

108-  سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز جو پرائیوٹ شکایات سے متعلق ہیں، کیا ان کا استعمال اسی انداز میں ضروری نہیں ہے؟

 

109- جب پیشٹنر سپریم جوڈیشل کونسل سے مطا لبہ کر رہا ہے کہ اس کا ٹرائیل کھلی عدالت میں ہو تو کیا سپریم جوڈیشل کونسل پر لازم نہیں ہے کہ وہ اپنی کاروائی انصاف کے اصولوں کے تحت کرے۔

 

 110- کیا سپریم جوڈیشل کونسل  کی کارروائی کھلی میں نہیں ہونی چاہیے؟

 

111- جب پیٹشنر کے خلاف الزامات کھلے عام لگائے گئے ہیں کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ان الزامات کی سماعت بھی کھلے عام ہو۔

112- کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے ایسے ممبران جن کی ترقی اس ریفرنس کے فیصلے سے نتھی ہو، کیا وہ بند کمرے میں کارروائی کا سہارا لے کر اپنے مفاد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

 

 113- کیا بند کمرے کی کارروائی پیٹشنر کے خلاف نہیں ہے خصوصاً جس ریفرننگ اتھارٹی اور اس کے وزراء اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ  کھلے عام ریفرنس میں لگائے الزامات پر رائے زنی کر رہے ہیں۔ سرکاری حکام کی جانب سے چیف جسٹس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے کیا یہ روایت پیدا نہیں ہو گئی ہے کہ ملک کی اعلی عہدیداروں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال ہو سکتا ہے۔

 

114- کیا سپریم جوڈیشل کونسل پر لازم نہیں ہے کہ وہ ریفرنس کو بھی ایک مقدمے کے انداز میں چلائے؟

 

115- کیا پیٹشنر ایک شہری کی حثیت سے آزادنہ ٹرائل کا حقدار نہیں ہے جس کا وعدہ تمام شہریوں سے کیا گیا ہے؟

 

 116-کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا طریقہ کار مقدموں سے متعلق عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

 

 117 - کیا عدالت کا ایسا فیصلہ کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے متعلق کوئی حکم جاری کرنے کی اہل نہیں ہے، عدالتی خود کشی کے مترادف نہیں ہوگا؟

 

 118- کیا ایگزیکٹو اتھارٹی کو یہ طاقت دینا کہ وہ جج کو معطل کر سکتی ہے، ججوں کو آزادانہ فیصلے سے روکنے کا سبب نہیں بنے گا۔

 

119- اگر ان نکات کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو کیا عدلیہ کی پوری عمارت گر نہیں جائے گی اور وہ کبھی انتظامیہ کے خلاف کوئی فیصلہ دینے کے قابل ہوگی اور کوئی جج انتظامیہ کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات کر سکے گا۔

 

120 - جب شرف فریدی، عزیز اللہ میمن، الجہاد ٹرسٹ،ملک اسد جیسے مقدمات میں ایگزیکٹو کے اعلانیہ طور پر عدلیہ کی آزادی کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا گیا۔ایسی صورتحال میں کون سا جج ایگزیکٹو کا سامنا کرسکے گا؟

 

122- کیاایسے شفاف بیانات جن سے ادارے کی ساکھ کےبارے میں بلند دعوے کئے جائیں تاریخ کے ساتھ مسخ ہوجائیں گے.

 

123 کیاعدلیہ کے بارے میں کئے جانے والے تجزیوں سے جن سے عدلیہ کا بہتر امیج سامنے آسکتا ہے، کیا تمام قبرستان میں دفن ہو جائے گا.

 

124۔کیا ایگزیکٹو کوآرٹیکل 209اور1970ء کے تحت پی او 27  میں دیا جانے والا جادوئی اختیار(جو کہ کسی بھی طرح کے حالات میں درخواست گزار کی طرف سے نہیں ہے) ایگزیکٹو کو ایسی تلوار فراہم کرتا ہے جو ارض عالم کے ہر جج کے سر  پر لٹکتی رہتی ہے.

 

125۔کیاریفرنس دائر کرنے اور اس کے ساتھ جڑے خودکار معطلی کے عمل سےمتعلق اختیارات کوصرف آزاد ججوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جاتا رہے گا.

 

126۔ کیا اس عمل سے عدلیہ کو اس وقت اور ہمیشہ کے لیے غلام بنایا جائے گا؟

 

127۔ آرٹیکل 215(2) کے تحت چیف الیکشن کمیشن کی مدت ملازمت کو آرٹیکل 209 میں وہی تحفظ دیا گیا ہے تو کیا آرٹیکل 209 کی کوئی توجیح ایگزیکٹو کو کسی جج کو جبری رخصت پر بھیجنے یا معطل کرنے کا اختیار دیتی ہے، جس میں سی ای سی کو بشمول پرکھا نہیں گیا۔

 

128- اگرآرٹیکل209 کے مطابق جج کو معطل کرنے کا اختیار شامل کیا گیا ہے جو ایک ایگزیکٹو نہیں ہوسکتا جس کے مدنظر الیکشن میں دھاندلی کرنا ہو.تاکہ وہ حکومت کی ایماء پر چیف الیکشن کمشنر پر دباو ڈال سکے اور ایسا نہ کرنے پراسےالیکشن کی مدت تک کے لیے معطلی کا سامنا کرنا پڑے۔

 

129 - ظفرعلی شاہ کے مقدمے کے تناسب کی بنیاد پر کیا یہ عدالت اس اہل نہیں کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکے کہ وہ ملک بھر کی بار کونسلز کی جانب سے پیش کئے گئے تمام حقائق کا ادراک کرسکے جن میں پورے ملک میں ریفرنگ اتھارٹی کے اقدام کی مذمت اور عدالت عالیہ پر توہین آمیزعمل قرار دیا گیا، جسےوکلاءبرادری بہت مقدم سمجھتی ہے۔

 

130- ریفرنس دائر کرنے ،بے عزتی،معطلی اورچھ ہفتے تک ہراساں کرنے کے عمل سے ہزاروں وکلاءکو احتجاج کے لیے مجبور کرنا ملکی تاریخ میں نہایت سنجیدہ اور شرمناک معاملہ ہے جس سے ریفرنگ اتھارٹی نے خود سامنا نہیں کیا۔

 

131۔ کیا یہ ایسا کیس نہیں ہے کہ فاضل عدالت فوری ایکشن لے اور چیف جسٹں اور پیٹیشنر کو فعال کر دے۔

 

132 - کیا یہ پیٹیشن اہم عوامی نوعیت کی  نہیں ہے جس میں پیٹشنر اور عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق نکات اٹھائے کیے ہیں۔

 

صدارتی ریفرنس کی تفصیلات:
1) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے ارسلان افتخار کوناجائز فائدہ پہچانے کے لیے کئی لوگوں کو غیر قانونی کام پر مجبور کیا۔

جسٹس افتخار کی معطلی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئےہیں

2) ڈاکٹر ارسلان نے 1996 میں بولان میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ داخلہ کے لیے میرٹ سے 111 نمبر کم ہونے کے باوجود اس وقت کے وزیر اعلی بلوچستان سے داخلہ کے لیے رابطہ کیا گیا۔

3) 22 جون 2005 کو ڈاکٹر ارسلان کوانسٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کوئٹہ میں میڈیکل آفیسر میں تعینات کیا گیا۔

4) 18 جولائی 2005 کو چیف منسٹر بلوچستان نے حکم جاری کیا کہ ڈاکٹر ارسلان کو مفاد عامہ میں محکمہ صحت میں بطور سیکشن آفیسر (ٹیکنیکل) تعینات کیا جائے۔

5) 18 جولائی چیف سیکریٹری بلوچستان نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے احکامات محکمۂ صحت کو ارسال کر دیئے۔

6) محکمہ صحت نے 10 اگست 2005 کو ڈاکٹر ارسلان افتخار کا معاملہ محکمہ ایس اینڈ جی ڈی کو ارساں کردیا۔

7) محکمہ ایس اینڈ جی ڈی نے چیف منسٹر کو سمری بھیجی کہ ٹیکنیکل کوٹہ میں سیکشن آفیسر کی کوئی آسامی خالی نہیں ہے۔ محکمہ ایس اینڈ جی ڈی نے تجویز دی کہ جب تک سیکشن آفیسر کو پبلک سروس کمشن کے ذریعے ہونے والے امتحان ہونے والے امیدواروں کے تعینات ہونے تک ڈاکٹر ارسلان کو عارضی طور پر تعینات کر دیا جائے۔

8) 15 اگست کو ڈاکٹر ارسلان کو عارضی آسامی پر سیکشن افسر تعینات کر دیا گیا۔

9) ڈاکٹر ارسلان کی بطور سیکشن آفیسر تعیناتی سے نو دن پہلے(چھ اگست 2005) وفاقی وزارت داخلہ بلوچستان کے محکمہ صحت کوخط لکھا گیا کہ مفاد عامہ میں محکمہ صحت کے گریڈ سترہ کے آفیسر ڈاکٹر ارسلان کی خدمات ایف آئی اے کو درکار ہیں۔

مظاہروں کے دوران صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی

10) ڈاکٹر ارسلان کی محکمہ صحت میں بطور سیکشن آفسیر کی تعیناتی کے نوٹیفکیش سے دو روز پہلے بلوچستان کے محکمہ ایس اینڈ جی ڈی نے ڈاکٹر ارسلان کی خدمات ایف آئی اے میں تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کے حوالے کر دیں۔

11) وزارت داخلہ نے 5 ستمبر 2005 میں ڈاکٹر ارسلان کو گریڈ سترہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے تعیناتی کے احکامات جاری کر دیئے۔
12) ڈاکٹر ارسلان کو انٹسٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بطور میڈیکل آفیسر کی تعیناتی کے چار مہینوں کے اندر بطور سیکشن آفیسر تعینات کر دیا گیا۔ بطور میڈیکل آفیسر ان کی چھ مہینے کی پروبیشن بھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

13) ڈاکٹر ارسلان کو جو مقابلے کے امتحان میں تین دفعہ ناکام رہے، دو سال تک ایف آئی اے میں تعینات رکھا گیا۔

13) محکمۂ صحت میں عارضی آسامی پر تعیناتی کے بعد ڈاکٹر ارسلان کو 22 نومبر 2005 میں بلوچستان حکومت نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کی عارضی آسامی کو مسقل میں بدل دیا۔

14) ایف آئی اے میں بطور اسٹنٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے پانچ ماہ بعد وزارت داخلہ نے ڈاکٹر ارسلان کو گریڈ اٹھارہ میں ترقی دے دی۔

15) یہ سب کچھ ڈاکٹر ارسلان کو محکمہ پولیس میں بھرتی کے لیے کیا گیا۔ محکمہ پولیس میں بھرتی کے مقابلے کے امتحان کو پاس کرنا ضروری ہے جبکہ گریڈ اٹھارہ حاصل کر کے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے بچنے کی کوشش کی گئی۔

مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں

16) 19 مئی 2006 کو وزارت داخلہ نےنیشنل پولیس اکیڈمی کو خط لکھا کہ ایف آئی اے کے اسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ارسلان کو اسٹنسٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی تربیت دے جائے۔

17) 24مئی 2006 وزارت داخلہ نے ایک اور حکم جاری کیا کہ ڈاکٹر ارسلان کو پولیس اکیڈمی میں سپیشل تربیت کے بعد لاہور میں تعیناتی کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔

18) 27 جون 2006 کو نیشنل پولیس اکیڈمی نے ڈاکٹر ارسلان کی خدمات حکومت پنجاب کے حوالے کردیں۔

19) اسی دوران وزیر اعظم سکریٹریٹ سے رابطہ کیاگیا کہ ڈاکٹر ارسلان کو مستقل طور پر محکمۂ پولیس میں گریڈ اٹھارہ میں بھرتی کر لیا جائے۔

20) وزیر اعظم سیکریٹریٹ نے ڈاکٹر ارسلان کی محکمۂ پولیس میں بھرتی کے لیے متعلقہ محکموں سے رائے لی۔

21) اسٹیبلمشنٹ ڈویژن نے کہا کہ متعلقہ رولز میں ترمیم کے بغیر ڈاکٹر ارسلان کی گریڈ اٹھارہ میں تعیناتی ممکن نہیں ہے۔

22) 31 مئی 2006 کو سیکرٹری اسٹیبلمشنٹ کو چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر بلایا گیا اور رات گیارہ بجے ہونے والی ملاقات میں جسٹس افتخار نے ڈاکٹر ارسلان کی پولیس میں گریڈ اٹھارہ میں مستقل تعیناتی کا مطالبہ کیا۔

23) جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے گرین فون پر رابطہ کر کے ڈاکٹر ارسلان کے معاملے ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات چاہیں۔

24) جب پرنسپل سیکرٹری نے جسٹس افتخار کوبتایا کہ معاملہ تحریری پر وزیر اعظم کے نوٹس میں لایا جائے گا اور اس پر کچھ وقت لگے توانہوں نے کہا کہ اس سے معاملہ خراب ہو سکتا ہے اور یہ ایک پیکج کا حصہ ہے۔

25) جسٹس افتخار کے دباؤ کی وجہ سے ڈاکٹر ارسلان کی پولیس سروس میں گریڈ اٹھارہ میں بھرتی کے لیے سمری بنائی گئی۔

26) جسٹس افتخار نے استنبول میں ہونے والے عالمی دہشت گردی سے نمٹے کے کورس میں ڈاکٹر ارسلان کی شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا۔

گاڑیاں

27) چیف جسٹس جو 1600 سی سی کی ایک کار کے حقدار تھے جبکہ انہوں نے مرسیڈیز بینز (3000 سی سی) سمیت سات کاریں اپنے استعمال میں رکھیں۔

28) اس کے علاوہ انہوں نے کاروں کی بڑی تعداد سپریم کورٹ لاہور اور کراچی کے دفاتر میں اپنے استعمال میں رکھیں۔

29) جسٹس افتخار نے ایک سے زیادہ مرتبہ وزیرِ اعلیٰ یا گورنر کے زیر استعمال کاروں کو استعمال کرنے پر اصرار کیا۔

پروٹوکول

30) جسٹس افتخار نے چیف جسٹس کے لیے مخصوص پروٹوکول سے زیادہ پروٹوکول کی فرمائش کی اور مطالبہ کیا کہ ان کی حفاظت کے لیے کمانڈوز کو تعینات کیا جائے۔

 

31) جسٹس افتخار مطالبہ کرتے تھے کہ سینئر افسران ان کو ائیرپورٹ لینے کے لیے موجود ہوں۔

32) مختلف تقریبات یا فاتحہ خوانی میں شرکت کے لیے جسٹس افتخار طیارے اور ہیلی کاپٹر کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ وہ اس کے حقدار نہیں تھے۔

33) کچھ عرصہ کے لیے رضیہ ون کی نمبر پیلٹ والی بی ایم ڈبلیو کار جسٹس افتخار اور ان کے اہل خانہ کے زیر استعمال رہی۔ جب یہ بات اخباروں میں چھپی تو انہوں نے خاموشی سے کار کو کہیں بھیج دیا۔

عدالتی برتاؤ
34) جسٹس افتخار محمد کے خلاف عدالت میں سنائے جانے والے فیصلوں کے متصادم تحریری فیصلوں کی بھی شکایت ہیں۔ دو ایسے مقدموں کا بہت چرچا ہو ا ہے ۔ان دو مقدموں کی مالیت 55 ملین روپے بتائی جاتی ہے۔

35) جسٹس افتخار محمد ان مراعات کا مطالبہ کرتے رہے جس کے وہ حقدار نہیں تھے۔

ان شواہد کی روشنی میں وزیر اعظم نے صدر کو مشورہ دیا کہ وہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سپرد کریں جو اس بات کا جائزہ لے کہ کیا کہیں جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال تو نہیں کیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے کے ساتھ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس کام کرنے سے روک دیا جائے۔