sign8

A MIGHTY WARRIOR NATION / VALIANT WARRIOR NATION WILL ATTACK & DESTROY JEWISH KINGOM ONCE AGAIN.

Please read the following verses carefully.(The translation in Urdu is by Hussain Ahmad Madni & in English its from Ifran-al-Quran)

وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا﴿017:004﴾ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا﴿017:005﴾ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا﴿017:006﴾ إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيرًا﴿017:007﴾ عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا﴿017:008﴾

 اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے اپنی کتاب میں آگاہ کر دیا تھا، کہ تم لوگ زمین میں بڑا سخت فساد پھیلاؤ گے دو مرتبہ، اور سرکشی کرو گے بہت بڑی سرکشی،﴿017:004﴾ پھر جب ان دونوں میں سے پہلا موقع آپہنچے گا تو ہم تم پر اپنے ایسے بندے مسلط کر دیں گے جو بڑے سخت جنگجو ہوں گے پھر وہ گھس (گھس) جائیں گے تمہارے گھروں میں، یہ (اللہ کا) ایک وعدہ ہے جس نے بہر حال پورا ہو کر رہنا ہے،ا﴿017:005﴾ پھر (اس کے بعد تمہاری ندامت و توبہ پر) ہم تمہیں دوبارہ غلبہ عطا کر دیں گے ان پر، اور تمہاری مدد کریں گے طرح طرح کے مالوں اور بیٹوں (کی کثرت) سے، اور بڑھا دیں گے ہم تمہاری (تعداد اور) نفری کو،﴿017:006﴾(سو) اگر تم نے اچھا کیا تو اپنے ہی لئے کرو گے، اور اگر تم نے برائی کی تو اس کا وبال بھی خود تم ہی لوگوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آئے گا (تو ہم تم پر دوبارہ اپنے ایسے بندے مسلط کر دیں گے) تاکہ وہ حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں تمہارے چہروں کا، اور تاکہ وہ داخل ہوجائیں مسجد میں، جیسا کہ وہ اس میں داخل ہوگئے تھے پہلی مرتبہ، اور تاکہ وہ تمہیں تہس کر کے رکھ دیں، ہر اس چیز کو جس پر ان کا قابو چلے (اور ہاتھ پڑے)﴿017:007﴾ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے ، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (پہلا سا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے﴿017:008﴾

 

 ‏And We categorically conveyed to the Children of Israel in the Book: ‘You shall make mischief twice in the land and employ a violent defiance (against obedience to Allah(17:04)

پیشین گوئی
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالٰی نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر قضینا کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں ۔ جیسے آیت (وقضینا الیہ ذالک الامر) میں یہی معنی ہیں ۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لئے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بےخوف و خطر واپس چلے گئے ، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا ۔ پھر اللہ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور یہ حضرت طالوت کی بادشاہت میں پھر لڑے اور حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصل کے بادشاہ سخایرب اور اس کے لشکر نے ان پر فوج کشی کی تھے ۔ بعض کہتے ہیں بابل کا بادشاہ بخت نصر چڑھ آیا تھا ۔ ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے کہ کس طرح اس شخص نے بتدریج ترقی کی تھے ۔ اولاً یہ ایک فقیر تھا پڑا رہتا تھا اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتا تھا پھر تو بیت المقدس تک اس نے فتح کر لیا اور وہاں پر بنی اسرائیل کو بےدریخ قتل کیا ۔ این جریر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مطول مرفوع حدیث بیان کی ہے جو محض موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کسی کو ذرا سا بھی شک نہیں ہو سکتا ۔ تعجب ہے کہ باوجود اس قدر وافر علم کے حضرت امام صاحب نے یہ حدیث وارد کر دی ہمارے استاد شیخ حافظ علامہ ابو الحجاج مزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے ۔ اور کتاب کے حاشیہ پر لکھ بھی دیا ہے ۔ اس باب میں بنی اسرائیلی روایتیں بھی بہت سی ہیں لیکن ہم انہیں وارد کر کے بےفائدہ اپنی کتاب کو طول دینا نہیں چاہتے کیونکہ ان میں سے بعض تو موضوع ہیں اور بعض گو ایسی نہ ہوں لیکن بحمد للہ ہمیں ان روایتوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ کتاب اللہ ہمیں اور تمام کتابوں سے بےنیاز کر دینے والی ہے ۔
اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں نے ہمیں ان چیزوں کا محتاج نہیں رکھا مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنی اسرائیل کی سرکشی کے وقت اللہ نے ان کے دشمن ان پر مسلط کر دئے جنہوں نے انہیں خوب مزہ چکھایا بری طرح درگت بنائی ان کے بال بچوں کو تہ تیغ کیا انہیں اس قدر و ذلیل کیا کہ ان کے گھروں تک میں گھس کر ان کا ستیاناس کیا اور ان کی سرکشی کی پوری سزا دی ۔ انہوں نے بھی ظلم و زیادتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی عوام تو عوام انہوں نے تو نبیوں کے گلے کاٹے تھے ، علماء کو سر بازار قتل کیا تھا ۔ بخت نصر ملک شام پر غالب آیا بیت المقدس کو ویران کر دیا وہاں کم باشندوں کو قتل کیا پھر دمشق پہنچا یہاں دیکھا کہ ایک سخت پتھر پر خون جوش مار رہا ہے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہم نے تو اسے باپ دادوں سے اسی طرح دیکھا ہے یہ خون برابر ابلتا رہتا ہے ٹھیرتا نہیں اس نے وہیں پر قتل عام شروع کر دیا ستر ہزرا مسلمان وغیرہ اس کے ہاتھوں یہاں یہ قتل ہوئے پس وہ خون ٹہر گیا ۔ اس نے علماء اور حفاظ کو اور تمام شریف اور ذی عزت لوگوں کو بید ردی سے قتل کیا ان میں کوئی بہی حافظ تورات نہ بچا ۔ پھر قید کرنا شروع کیا ان قیدیوں میں نبی زادے بھی تھے ۔ غرض ایک لرزہ خیز ہنگامہ ہوا لیکن چونکہ صحیح روایتوں سے بلکہ صحت کے قریب والی روایتوں سے بھی تفصیلات نہیں ملتی اس لئے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے نیکی کرنے والا دراصل اپنے لئے ہی بھلا کرتا ہے اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے ارشاد ہے ۔ آیت (من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیہا) جو شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ اسی پر ہے ۔ پھر جب دوسرا وعدہ آیا اور پھر بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانیوں پر کھلے عام کمر کس لی اور بےباکی اور بےحیائی کے ساتھ ظلم کرنے شروع کر دئے تو پھر ان کے دشمن چڑھ دوڑے کہ وہ ان کی شکلیں بگاڑ دیں اور بیت المقدس کی مسجد جس طرح پہلے انہوں نے اپنے قبضے میں کر لی تھی اب پھر دوبارہ کر لیں اور جہاں تک بن پڑے ہر چیز کا ستیاناس کر دیں چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا ۔ تمہارا رب تو ہے ہی رحم و کرم کرنے والا اور اس سے ناامیدی نازیبا ہے ، بہ ممکن ہے کہ پھر سے دشمنوں کو پست کر دے ہاں یہ یاد رہے کہ ادھر تم نے سر اٹھایا ادھر ہم نے تمہارا سر کچلا ۔ ادھر تم نے فساد مچایا ادھر ہم نے برباد کیا ۔ یہ تو ہوئی دنیوی سزا ۔ ابھی آخرت کی زبردست اور غیر فانی سزا باقی ہے ۔ جہنم کافروں کا قید خانہ ہے جہاں سے نہ وہ نکل سکین نہ چھوٹ سکیں نہ بھاگ سکیں ۔ ہمیشہ کے لئے ان کا اوڑھنا بچونا یہی ہے ۔ حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پھر بھی انہوں نے سر اٹھایا اور بالکل فرمان الہٰی کو چھوڑا اور مسلمانوں سے ٹکرا گئے تو اللہ تعالٰی نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور انہیں جزیہ دینا پڑا ۔

So when the promised first time of the two came to pass We brought upon you those of Our servants who were great warriors. Then, in (your) search they penetrated up to your dwellings. And (this) promise was sure to be fulfilled.(17:05)

 Then We turned the victory over them to your favour and helped you with (affluence in) wealth and children and increased your numerical strength (as well).(17:06) Whenever you did good, it was to your own advantage; and whenever you committed evil, it was to your own disadvantage. So, when the time of the fulfillment of the second prophecy drew near, (We raised other enemies that would) disfigure your faces and enter the Temple (of Jerusalem) as they had done the first time, and destroy whatever they would lay their hands on. (17:07)

‎It may well be that (after this) your Lord will have mercy on you, but if you revert to the same (rebellious and defiant behaviour), then We too will get back to the same (tormenting once again). And We have made Hell a prison for the disbelievers. (17:08).

 

 

Now check the two verses i.e verse 5 and 8

So when the promised first time of the two came to pass We brought upon you those of Our servants who were great warriors. Then, in (your) search they penetrated up to your dwellings. And (this) promise was sure to be fulfilled.(17:05)

 

It may well be that (after this) your Lord will have mercy on you, but if you revert to the same (rebellious and defiant behaviour), then We too will get back to the same (tormenting once again). And We have made Hell a prison for the disbelievers. (17:08).

 

Please concentrate on the two main points and words described in the verses(5 & 8) of Sura Bani Israel

 

بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ

ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے

 

We brought upon you those of Our servants who were great warriors...(07:04)..

 

Allah destroyed Jews in Al Quds before by Mighty Warrior Nation and if they disobey again, its a promise that IT WILL HAPPEN AGAIN 

وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا.......

اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہلا سلوک) کریں گے ///// اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے

But if you do this again, We shall do that again…(07:08),

 

SO WE HAVE TWO POINTS IN THE VERSE

 

1-If the Bani Israel is having control of the Holy Land (Jerusalem) &

2-They are not on the right path (of Islam)

 

Then Allah will send a  Mighty warrior Nation to destroy them.

Today we see the both conditions fulfilled as Jews (The misguided Bani Israel) are in control of Jerusalem. So once again a Great Warrior Nation will come to destroy them.

 

The Warrior Nature of the Muslims in Prophet Isa (Alayhay salam)’s Army

 

The following hadith confirms the warrior nature of the Army of Imam Mahdi and Prophet Eisa (Alayhay salam)

حدثنا الوليد بن شجاع وهارون بن عبد الله وحجاج بن الشاعر قالوا حدثنا حجاج وهو ابن محمد عن ابن جريج قال أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقولا سمعت النبي صلی الله عليه وسلم يقول لا تزال طافة من أمتي يقاتلون علی الحق ظاهرين إلی يوم القيامة قال فينزل عيسی ابن مريم صلی الله عليه وسلم فيقول أميرهم تعال صل لنا فيقول لا إن بعضکم علی بعض أمرا تکرمة الله هذه الأمة. صحیح مسلم

 

ولید بن شجاع، ہارون بن عبد اللہ، حجاج بن شاعر، ابن محمد، ابن جریج، ابوزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا اور فرمایا کہ پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے لوگوں کا امیر ان سے نماز پڑھانے کے لے عرض کرے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایک دوسرے پر امیر ہو یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا فرمایا ہے. صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر .395. متفق علیہ

Jabir b. 'Abdullah reported: I heard the Messenger of Allah (may peace be upon him) say: A section of my people will not cease fighting for the Truth and will prevail till the Day of Resurrection. He said: Jesus son of Mary would then descend and their (Muslims') commander would invite him to come and lead them in prayer, but he would say: No, some amongst you are commanders over some (amongst you). This is the honour from Allah for this Ummah.[1]

 

We are all well aware of the fact that Pathans have always fought for Islam and never been defeated just as the above hadith tells.

This hadith also confirms what is told in the above Quranic verses that a always a famous warrior nation will destroy the misguided Israelis(The Jews) in Holy Land

 

THIS TIME THE FIERCE WARRIOR NATION WHO WILL TAKE OVER JEWISH KINGDOM WILL BE FROM KHURASAN

 

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ خَرَجَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ ، فَأْتُوهَا وَلَوْ حَبْوًا ، فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ. حاکم مستد رک

حضرت ثو بان جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسّلم کے آزاد کرد ہ غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسّلم نے فرمایا ہے کہ جب تم دیکھو کہ سیاہ جھنڈے خراسان کی جانب سے آرہے ہیں تو ان میں شامل ہوجانا اگرچہ برف کے اوپر گھٹنوں کے بل چلنا ہی کیوں نہ پڑے کیونکہ ان میں اللہ تعالی کا خلیفہ مہدی ھوگا. حاکم مستد رک

Thoban r.a(Companion of Dear Prophet Muhammad Salallaho alayhay wa alay he wa  sallam) reported that Dear Prophet Muhammad Salallaho alayhay wa alay he wa  sallam) said: When u see that Black Flags have appeared from KHORASAN ,go to (join) them even if you have to walk over ICE on your knees as the Khalifah of Allah MAHDI will be among them.(This hadith is Saheeh(Most Authentic) according to the conditions of Saheeh Bokhari & Saheeh Muslim).[2]

 

حدثنا قتيبة أخبرنا رشدين بن سعد عن يونس عن ابن شهاب الزهري عن قبيصة بن ذويب عن أبي هريرة قال:- قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (يخرج من خراسان راياتٌ سودٌ فلا يردها شيءٌ حتى تنصب بإيلياء) سنن الترمذي أبواب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

خراسان ( سورج طلوع ہونے کی جگہ یعنی مشرق ) سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے ، انہیں کوئی نہیں روک سکے گا، یہاں تک یہ ایلیاء ( بیت المقدس) میں نصب ہوں گے ۔ حوالہ۔ جامع ترمذی ،کتاب الفتن

Abu Hurairah (R.A.) says that Rasulullah (Sallallahu Alayhi Wa  alay he wa sallam) said: "(Armies carrying) black flags will come from Khorasan( Land of the Rising Sun meaning the East). No power will be able to stop them and they will finally reach Eela (Baitul Maqdas) where they will erect their flags."[3]

 

The Fierce Warrior Nation will be from the Muslim Bani Israel.

Since the leader of the end time Army of Islam will be Bani Israeli Prophet Eisa (Alayhay salam),therefore it also means that this Fierce warrior nation will be from Muslim Bani Israel as Quran tells us about the conditions of coming of a Prophet.

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (14:04)

اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے پھر راستہ بھلاتا ہے اللہ جس کو چاہے اور راستہ دکھلاتا ہے جس کو چاہے اور وہ ہے زبردست حکمتوں وال

We sent not a messenger except (to teach) in the language of his (own) people, in order to make (things) clear to them.(14:4)

This tells us two things that a Prohet comes

1-amongst his own nation around him

2-and speaks their own language

Like Dear Prophet Muhammad salallaho alayhay wa sallam is Arab,and he came amongst the Arabs and speak Arabic and like all Prophets before.

 

Similarly when Bani Israeli Prophet Sayyidna Eisa Alayhay salam will come,in the beginning,his own nation will be around him,i.e the Muslim Bani Israel.

Today only the Pathans are known to be

·         from the Bani Israel and

·         at the same time they live in Khurasan where Mahdi army will appear

·         and also they are famous all over the world as a FIERCE WARRIOR NATION.

CONCLUSION

Therefore it means that the warning given in Quran to the misguided Bani Israel i.e

بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ

ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے

We brought upon you those of Our servants who were great warriors...(07:04)..

 

This warning to the Jews by Quran will be fulfilled by the Pathans of Khurasan Insha Allah

This the the main reason for their genocide in Pakistan and Afghanistan since 1979 using different names and different reason such as so called Taliban,Al-qaeda,War on Terror etc etc..

No matter how much they torture and kill them with the help of fake reasons in Pakistan & Afghanistan),this Fierce Warrior Nation can never be stopped insha Allah.



[1] Saheeh Muslim,Vol 1, Hadith 395

[2] Mustadrak Hakim Hadith 8531.

[3] Jamia Tirimdi (Chapter of Kitab-al-Fitan) Hadith 2371 

Comments