sign7

Expulsion from homes or homeland is a great sacrifice.Those Muslims who remain patient on this great sacrifice are greatly rewarded as told in Quran

 

فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ

﴿003:195﴾

تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کر دونگا اور ان کو بہشتوں میں داخل کرلوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کے ہاں سے بدلا ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔﴿003:195﴾

So those who emigrated or were evicted from their homes or were harmed in My cause or fought or were killed - I will surely remove from them their evil deeds, and I will surely admit them to gardens beneath which rivers flow as reward from Allah, and Allah has with Him the best reward.".3-195

 

The homeless Refugees will join Prophet Eisa (Alayhay salam)

 

We can see that in Ahadith its told that people who will be expelled from their homes or homeland will join the army of Prophet Eisa Alayhay Salam in the end times.

حدثنا ابن مبارك عن محمد بن مسلم قال سمعت عثمان بن أوس يحدث عن سليم بن هرمز  عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم أحب شيء إلى الله تعالى الغرباء قيل أي شيء الغرباء قال الذين يفرون بدينهم يجمعون إلى عيسى بن مريم عليه السلام.

.168. كتاب الفتن نعيم بن حماد المروزي أبو عبد الله

Narrated from Hadrat Abdullah bin Omar, he said that" Dear Prophet Muhammad Salallaho alayhay wa sallam said that,that the most dear to Allah are the "Ghurba".When asked who are the "Ghurba"?.Dear Prophet Sallaho alayhay wa sallam said that the "Ghurba" are those who have escaped with their Deen (Islam)(i.e Refugees).Allah will join them with Sayyidna Eisa (Jesus) Bin Mariam Alayhay Salam.[1]

 

قال عبد اللہ بن عمر قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم احب شئ الئ اللہ تعالئ الغربا قیل ومن الغربا قال الفرارون بدینھم یبھثھم اللہ یوم القیامة مع عیسی بن مریم علیھما اسلام
حلیة الاولیا ابونعئم ج ١ ص ۔ ۲۵ کتاب ا لزھد ا لکبیر۔ ج ۲ ص ۔ ١١٦

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے محبوب لوگ غربا ھونگے ۔پوچھا گیا غرباکون ہیں ؟ فرمایا اپنے دین کے ساتھ دور بھا گ جانے والے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ساتھ  قیامت کے روز اٹھاے گا  حلیتہ الاولیا ابونعئم ج ١ ص ۔ ۲۵ کتاب ا لزھد ا لکبیر۔ ج  ۲ ص ۔ ١١٦

Narrated from Hadrat Abdullah bin Omar,he said that" Dear Prophet Muhammad Salallaho alayhay wa sallam said that,that the most dear to Allah are the "Ghurba".When asked who are the "Ghurba"?.Dear Prophet Sallaho alayhay wa sallam said that the "Ghurba" are those who have escaped with their Deen (Islam)(i.e Refugees).Allah will rise them with Sayyidna Eisa (Jesus) Bin Mariam Alayhay Salam on the judgement day.[2]

 

The Refugees will be leader of Islam in the end times

حدثنا عمرو بن سواد العامري أخبرنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن بکر بن سوادة حدثه أن يزيد بن رباح هو أبو فراس مولی عبد الله بن عمرو بن العاص حدثه عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن رسول الله صلی الله عليه وسلم أنه قال إذا فتحت عليکم فارس والروم أي قوم أنتم قال عبد الرحمن بن عوف نقول کما أمرنا الله قال رسول الله صلی الله عليه وسلم أو غير ذلک تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون أو نحو ذلک ثم تنطلقون في مساکين المهاجرين فتجعلون بعضهم علی رقاب بعض. صحیح مسلم

عمر بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکر بن سوادہ، یزید بن رباح، ابوفراس مولی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب فارس اور روم کو فتح کرلیا جائے گا اس وقت تم کس حال میں ہو گے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا ہیمں جس طرح اللہ نے حکم فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں؟ تم ایک دوسرے پر رشک کرو گے پھر آ پس میں ایک دوسرے سے حسد کرو گے پھر آپس میں ایک دوسرے سے بغض رکھو گے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کچھ فرمایا پھر تم مسکین مہاجروں کی طرف جاؤ گے اور پھر ایک دوسرے کی گردنوں پر سواری کرو گے. صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2927 , متفق علیہ

'Abdullah b. 'Amr b. al-As reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: How would you be, O people when Persia and Rome would be conquered for you? 'Abd -al-Rahman b. Auf said: We would say as Allah has commanded us and we would express our gratitude to Allah. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Nothing else besides it? You would (in fact) vie with one another, then you would feel jealous, then your relations would be estranged and then you will bear enmity against one another, or something to the same effect. Then you would go to the poor emigrants and would make some the masters of the others.[3]

حدثنا عمرو بن سواد المصري أخبرني عبد الله بن وهب أنبأنا عمرو بن الحارث أن بکر بن سوادة حدثه أن يزيد بن رباح حدثه عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن رسول الله صلی الله عليه وسلم أنه قال إذا فتحت عليکم خزان فارس والروم أي قوم أنتم قال عبد الرحمن بن عوف نقول کما أمرنا الله قال رسول الله صلی الله عليه وسلم أو غير ذلک تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون أو نحو ذلک ثم تنطلقون في مساکين المهاجرين فتجعلون بعضهم علی رقاب بعض. سنن ابن ماجہ

 عمرو بن سواد مصری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکر بن سوادہ، یزید بن رباح، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب فارس اور روم کے خزانوں پر تمہیں فتح ملے گے تو تم کونسی قوم بن جاؤ گے؟ (کیا کہو گے) عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ہم وہی کہیں گے جو اللہ اور اسکے رسول نے ہمیں امر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور کچھ نہ کہو گے؟ ایک دوسرے کے مال میں رغبت کرو گے پھر ایک دوسرے سے حسد کرو گے پھر ایک دوسرے کی طرف پشت پھیرو گے پھر ایک دوسرے سے دشمنی رکھو گے یا ایسی ہی کوئی بات فرمائی پھر مسکین مہاجروں کے پاس جاؤ گے۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 876 

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin 'As that the Messenger of Allah(Salallaho alayhay wa Sallam)   said: "When the treasures of Persia and Rome are opened for you, what kind of people will you be?" "Abdur-Rahman bin 'Awf said: "We will say what Allah has commanded us to say." The Messenger of Allah (Salallaho alayhay wa Sallam )   said: “Or something other than that. You will complete with one another, then you will envy one another, then you will turn your backs on one another, then you will hate one another, or something like that. Then you will go to the poor among the Muhajirin (Muslim refugees)and appoint some of them as leaders of others.” [4]

 

Ghurba(Alians) of the end times means the Refugees

 

حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي شيبة وسمعته أنا من ابن أبي شيبة حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغربا قيل ومن الغربا قال النزاع من القبال. مسند احمد

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام کی ابتداء بھی اجنبی میں ہوئی، اور عنقریب یہ اسی حال پر لوٹ جائے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا، سو خوشخبری ہے غرباء کے لئے، کسی نے پوچھا غرباء سے کون لوگ مراد ہیں؟ فرمایا قبائل سے کھینچ کر لائے جانے والے لوگ۔ مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1856

Narrated by Abdullah bin Masood that Dear Prophet Muhammad (Salallaho alayhay wa sallam) said that, " Islam started as Alien and soon it will go back to the same state the way it started.So,good news is for the Ghuraba(Alien Refugees).Some one asked which people are the Ghurba? Dear Prophet (Salallaho alayhay wa sallam)replied that ," Those have been expelled from their tribes."[5]

These Refugees will preach Islam.

 

حدثنا حسن بن موسى حدثنا ابن لهيعة حدثنا الحارث بن يزيد عن جندب بن عبد الله أنه سمع سفيان بن عوف يقول سمعت عبد الله بن عمرو بن العاصي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم ونحن عنده طوبى للغربا فقيل من الغربا يا رسول الله قال أناس صالحون في أناس سو كثير من يعصيهم أكثر ممن يطيعهم. مسند احمد

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ خوشخبری ہے غرباء کے لئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برے لوگ کے تم جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔ مسند احمد:جلد سوم:حدیث 2147

 

We do know that today that majority of the Musilm Bani Israel(i.e the Pashtuns) are involved in the world wide movement of Tablighi Jamat and preaching Islam all over the world.

Whats in Quran about Alien Refugees?

 

Quran has told us about a Nation that was as a whole up rooted from its homeland and became an Alien Nation to the whole world.

 

This Nation is Bani Israel ,as Quran tells us

وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا ۖ مِنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَلِكَ ۖ وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴿007:168﴾

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔﴿007:168﴾

We broke them (Bani Israel)up into sections on this earth. There are among them some that are the righteous, and some that are the opposite.(7:168)

 

The above verse also tells about the two division of Bani Israel i.e the Muslim Bani Israel and the Non Muslim Bani Israel (The Jews).

This was the Past when Bani Israel became Alien when they had to leave their homeland and scatter around the world.

Muslim Bani Israel is majority homeless refugees(Ghuraba) today

Today we see that Millions of the Muslim Bani Israel i.e The Pathans is expelled from their homes in Pakistan and Afghanistan and living as refugees in both the countries.Even as refugees they constantly tortured and killed using the so called fake war of terror or other reason.

But this suffering will end soon insha Allah both in this world and the eternal life in the hereafter.

حدثنا أبو المغيرة حدثنا عمر بن عمرو أبو عثمان الأحموسي حدثني المخارق بن أبي المخارق عن عبد الله بن عمر أنه سمعه يقول إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حوضي كما بين عدن وعمان أبرد من الثلج وأحلى من العسل وأطيب ريحا من المسك أكوابه مثل نجوم السما من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا أول الناس عليه ورودا صعاليك المهاجرين قال قال ومن هم يا رسول الله قال الشعثة روسهم الشحبة وجوههم الدنسة ثيابهم لا يفتح لهم السدد ولا ينكحون المتنعمات الذين يعطون كل الذي عليهم ولا يأخذون الذي لهم- مسند احمد

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا حوض عدن اور عمان کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ شریں اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور سب سے پہلے اس حوض پر آنے والے پھکڑ مہاجرین ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا پراگندہ بال دھنسے ہوئے چہروں اور میلے کچیلے کپڑوں والے جن کے لئے دنیا میں دروازے نہیں کھولے جاتے ناز و نعمت میں پلی ہوئی لڑکیوں سے ان کارشتہ قبول نہیں کیا جاتا اور جو اپنی ہر ذمہ داری پوری کرتے ہیں اور اپنا حق وصول نہیں کرتے۔ مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1672 



[1] Kitab Al Fitan,Naeem Bin Hammad ,Hadith 168,Page 52.

[2] Huliatil Auwlia,Abu Naeem,Vol 1,Page 25.Also Kitab Zohd-al-Kabir,Vol 2,Page 116.

[3] Sahih Muslim,Vol 3,Hadith 2927

[4] Sunan Ibn Majah,vol 3,Hadith 876.

[5] Masnad Ahmad,Vol 2,Hadith 1846

 

Comments