armyofdajjal

ARMIES OF DAJJAL (Anti Christ)

This site is still under construction .Please forgive me for minor mistakes or font problems

Note : More details can be found in the following two books i.e Twelve Signs of Army of Prophet Isa & Imam Mahdi 

Very Important Note:

Please here I have only written the ahadith telling us about the People who will make the the first and majority followers of Dajjal.It does not mean that ALL of them will join the Dajjal's army.Of course any one who has made repentence(Toba) and is pious and has saved himself from the afflictions of Dajjal will insha Allah army of Sayyidna Eisa (Alayhay salam) and Imam Mahdi.

 

1.   Dajjal’s Army of the Jews

2.   Dajjal’s Army of People having “faces like shields” from Khurasan & Iran

3.   Dajjal’s Army from People from the East of Madinah reading Quran but not acting upon it

4. All Non Believers,Evildoers(Fasiqeen) and Hypocrite Muslims .


 

1.          DAJJAL’S ARMY OF JEWS

The following hadith telling about army of Dajjal of 7o thousand(means a large number ) jews from Isphahan(Iran) with Dajjal.

 

حدثنا محمد بن مصعب حدثنا الأوزاعي عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج الدجال من يهودية أصبهان معه سبعون ألفا من اليهود عليهم التيجان

 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال اصفہان کے شہر " یہودیہ " سے خروج کرے گا، اس کے ساتھ سترہزار یہودی ہوں گے، جن پر الطيالسة چادریں ہوں گی۔ مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 2306

Also the following Hadith tells the same thing

حدثنا منصور بن أبي مزاحم حدثنا يحيی بن حمزة عن الأوزاعي عن إسحق بن عبد الله عن عمه

 أنس بن مالک أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال يتبع الدجال من يهود أصبهان سبعون ألفا عليهم الطيالسة- صحیح مسلم

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2892                   حدیث متواتر حدیث مرفوع      مکررات 6 متفق علیہ 1 بدون مکرر

 منصور بن ابی مزاحم یحیی بن حمزہ اوزاعی اسود بن عبد اللہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَصْبَهَانَ کے ستر ہزار یہودی دجال کے پیروکار ہو جائیں گے جن پر الطيالسة کی چادریں ہوں گی۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2892 

Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The Dajjal would be followed by seventy thousand Jews of Isfahan wearing Persian shawls.

 

The following hadith telling about army of Dajjal of 7o thousand(means a large number ) jews along with other people also.

حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال أتينا عثمان بن أبي العاص في يوم جمعة لنعرض عليه مصحفا لنا على مصحفه فلما حضرت الجمعة أمرنا فاغتسلنا ثم أتينا بطيب فتطيبنا ثم جنا المسجد فجلسنا إلى رجل فحدثنا عن الدجال ثم جا عثمان بن أبي العاص فقمنا إليه فجلسنا فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يكون للمسلمين ثلاثة أمصار مصر بملتقى البحرين ومصر بالحيرة ومصر بالشام فيفزع الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال في أعراض الناس فيهزم من قبل المشرق فأول مصر يرده المصر الذي بملتقى البحرين فيصير أهله ثلاث فرق فرقة تقول نشامه ننظر ما هو وفرقة تلحق بالأعراب وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم ومع الدجال سبعون ألفا عليهم السيجان وأكثر تبعه اليهود والنسا ثم يأتي المصر الذي يليه فيصير أهله ثلاث فرق فرقة تقول نشامه وننظر ما هو وفرقة تلحق بالأعراب وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم بغربي الشام وينحاز المسلمون إلى عقبة أفيق فيبعثون سرحا لهم فيصاب سرحهم فيشتد ذلك عليهم وتصيبهم مجاعة شديدة وجهد شديد حتى إن أحدهم ليحرق وتر قوسه فيأكله فبينما هم كذلك إذ نادى مناد من السحر يا أيها الناس أتاكم الغوث ثلاثا فيقول بعضهم لبعض إن هذا لصوت رجل شبعان وينزل عيسى ابن مريم عليه السلام عند صلاة الفجر فيقول له أميرهم روح الله تقدم صل فيقول هذه الأمة أمرا بعضهم على بعض فيتقدم أميرهم فيصلي فإذا قضى صلاته أخذ عيسى حربته فيذهب نحو الدجال فإذا رآه الدجال ذاب كما يذوب الرصاص فيضع حربته بين ثندوته فيقتله وينهزم أصحابه فليس يومذ شي يواري منهم أحدا حتى إن الشجرة لتقول يا مؤمن هذا كافر ويقول الحجر يا مؤمن هذا كافر حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة حدثنا علي بن زيد عن أبي نضرة قال أتينا عثمان بن أبي العاص لنعرض عليه مصحفا لنا على مصحفه فذكر معناه إلا أنه قال فليس شي يومذ يجن منهم أحدا وقال ذاب كما يذوب الرصاص   مسند احمد:

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم لوگ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ تقابل کر سکیں ؟ جب جمعہ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے غسل کیا، پھر ہمارے پاس خوشبو لائی گئی، جو ہم نے لگالی، پھر ہم مسجد میں آکر ایک آدمی کے پاس بیٹھ گئے، اس نے ہمیں دجال کے متعلق حدیث سنانا شروع کر دیں، اسی اثناء میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بھی آگئے، ہم ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے، ایک شہر دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، ایک حیرہ میں اور ایک شام میں ۔ لوگوں پر تین مرتبہ خوف وہراس کے واقعات پیش آئیں گے، پھر دجال کا خروج ہوجائے گا اور وہ اہل مشرق کو شکست دے دے گا، پھر سب سے پہلے وہ اس شہر پر حملہ کرے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، وہاں کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک فرقہ تو کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ ہم اس کے پاس جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ دوسرا گروہ دیہاتیوں میں جا ملے گا اور تیسرا گروہ قریب کے شہر میں منتقل ہو جائے گا، اس وقت دجال کی معیت میں ستر ہزار افراد ہوں گے جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی اور اس کے اکثر پیروکار یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ پھر وہ دوسرے شہر کا رخ کرے گا تو وہاں کے لوگ بھی اسی طرح تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ( جیسا کہ ابھی گذرا) اس طرح مسلمان سمٹ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا ایک دستہ مقابلہ کے لئے بھیجیں گے لیکن وہ سب شہید ہو جائیں گے، اس وقت مسلمان بڑی سختی کا شکار ہوں گے، انہیں شدید بھوک اور انتہائی پریشانی کا سامنا ہوگا حتی کہ ایک آدمی اپنی کمان کی تانت جلا کر اسے کھانے لگے گا۔ ابھی وہ انہی حالات میں ہوں گے کہ ایک دن صبح کے وقت ایک منادی آواز لگائے گا اے لوگو! تمہارے پاس فریاد رس آپہنچا، لوگ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی آواز ہے، اسی وقت نماز فجر کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، مسلمانوں کا امیر (امام مہدی رضی اللہ عنہ) ان سے درخواست کرے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے کہ اس امت کے لوگ ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ، لہذا ان کا امیر ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوں گے تو اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف روانہ ہوں گے، دجال جب انہیں دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، حضرت عیسی علیہ السلام اپنا نیزہ اس کی چھاتیوں کے درمیان ماریں گے، اور اسے قتل کر ڈالیں گے، اس کے پیروکار (شکست کھا جائیں گے اور اس دن کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جو انہیں اپنے پیچھے چھپالے، حتی کہ درخت بھی کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر ہے، اور پتھر بھی کہیں گے کہ اے مومن! یہ کافر ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے. مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 1020 


 

2.          DAJJAL’S ARMY OF PEOPLE HAVING FACES LIKE SHEILDS FROM KHURASAN & IRAN

People with faces like shields (or flat faces) helping Dajjal

 

Please check the following hadith telling about army of Dajjal with faces like shields.

Narrated 'Amr bin Taghlib: The Prophet said, "One of the portents of the Hour is that you will fight with people wearing shoes made of hair; and one of the portents of the Hour is that you will fight with broad-faced people whose faces will look like shields coated with leather."[1]

 

The following Hadith tells that these people with faces like shields will be in Dajjal’s Army.

حدثنا نصر بن علي الجهضمي، ومحمد بن بشر، ومحمد بن المثنى، قالوا: حدثنا روح بن عبادة. حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن أبي التياح، عن المغيرة بن سبيع، عن عمرو ابن حريث، عن أبي بكر الصديق؛ قال: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم:((إن الدجال يخرج من أرض بالمشرق، يقال لهضا خراسان. يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة)) سنن ابن ماجہ ،کتاب الفتن ۔ حدیث4072 

Narrated by Amr ibn Hurayth quoted AbuBakr as-Siddiq as saying that Allah's Messenger (Salallaho alayhay wa sallam)told them the Dajjal would come forth from a land in the East called Khurasan, followed by people whose faces resembled shields covered with skin [2]

نصر بن علی جہضمی، محمد بن مثنی، روح بن عبادہ، سعید بن ابی عروبہ، ابی تیاح، مغیرہ بن سبیع، عمرو بن حریث، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دجال مشرق کے ایک علاقہ سے نکلے گا جس کا نام خراسان ہے اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھالیں ہیں (یعنی چپٹے اور پُرگوشت)۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 952

Location of people have faces like Sheilds?

We have three locations as given by the Ahadith.

Location No-1 : Khurasan

حدثنا نصر بن علي الجهضمي، ومحمد بن بشر، ومحمد بن المثنى، قالوا: حدثنا روح بن عبادة. حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن أبي التياح، عن المغيرة بن سبيع، عن عمرو ابن حريث، عن أبي بكر الصديق؛ قال: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم:((إن الدجال يخرج من أرض بالمشرق، يقال لهضا خراسان. يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة)) سنن ابن ماجہ ،کتاب الفتن ۔ حدیث4072 

Narrated by Amr ibn Hurayth quoted AbuBakr as-Siddiq as saying that Allah's Messenger (Salallaho alayhay wa sallam)told them the Dajjal would come forth from a land in the East called Khurasan, followed by people whose faces resembled shields covered with skin [3]

نصر بن علی جہضمی، محمد بن مثنی، روح بن عبادہ، سعید بن ابی عروبہ، ابی تیاح، مغیرہ بن سبیع، عمرو بن حریث، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دجال مشرق کے ایک علاقہ سے نکلے گا جس کا نام خراسان ہے اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھالیں ہیں (یعنی چپٹے اور پُرگوشت)۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 952

Who in Khurasan have having faces like Shields(or flat faces)?

The Turks nations living in Khurasan have appearance just like that described in the Ahadith.Also ahadith tells that “flat faces”people will be the Turks. We know that Khorasan (part of central Asia) has different nations sharing the sameTurkishculture.LikeUzbekistan,Turkamanistan,Hazara people,Azarbaijan,Tajikistan,Chechenya etc etc.These are different countries but all of them share the same Turkish culture and are sometimes known as the Turkish states of Central Asia.One nation out them is not Turk but they share the same Turkish culture i.e The Tajiks and surprisingly they also have faces like sheilds.As told in the words of Britannica 1997:

“Tajik people have been Turkicised in the past centuries"”

                                                                                      FIG= ROUND FACES LIKE SHIELDS

Also see the following figure

                             FIG=RED AND ROUND FACES WITH COATED LEATHER(FLESHY FACE) and SMALL EYES
                                                FIG- HAZARA MAN. SMALL EYES AND BROAD FACE
FIG-A CENTRAL ASIAN WEARING HAIRY CAP( AND THEY WILL WEAR CLOTHES MADE OF HAIR)

            FIG-A CENTRAL ASIAN WEARING HAIRY CAP( AND THEY WILL WEAR CLOTHES MADE OF HAIR)

    FIG- A CENTRAL ASIAN TURK HAVING FLAT FACE AND HAIRY CLOTHES

Location No-2 : Iran

حدثني يحيی حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن همام عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلی الله عليه وسلم قال لا تقوم الساعة حتی تقاتلوا خوزا وکرمان من الأعاجم حمر الوجوه فطس الأنوف صغار الأعين وجوههم المجان المطرقة نعالهم الشعر تابعه غيره عن عبد الرزاق

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (Salallaho alayhay wa sallam) said, "The Hour will not be established till you fight with the Khudh and the Kirman from among the non-Arabs. They will be of red faces, flat noses and small eyes; their faces will look like flat shields, and their shoes will be of hair."[4]

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 812  17 متفق علیہ 10 

 یحیی عبدالرزاق معمر ہمام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں قیامت نہ آئے گی جب تک خوز اور کرمان سے تم جنگ نہ کر لوگے، یہ عجمی ہیں ان کے چہرے سرخ ناکیں چپٹی اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی گویا ان کے چہرے پٹی ہوئی ڈھالیں ہیں اور ان کے جوتے بالوں کے ہوں گے یحیی کے علاوہ دوسروں نے عبدالرزاق سے اس کی متابعت میں روایت کی ہے

 

حدثنا حسين بن محمد حدثنا جرير يعني ابن حازم عن محمد يعني ابن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لينزلن الدجال خوز وكرمان في سبعين ألفا وجوههم كالمجان المطرقة

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (Salallaho alayhay wa sallam) said, "Dajjal (Anti Christ) will descend in Khuz and Karman with 70 thousand people having faces like hammered Sheilds"[5]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دجال ستر ہزار آدمیوں کے ساتھ خوز اور کرمان میں ضرور اترے گا ان لوگوں کے چہرے چپٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے- مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1278

 

You can see that again “faces like shields” is used showing that it means the same Turks Check the following hadith also about the same area and using the same words "faces like shields".

Narrated Abu Huraira:The Prophet(Salallaho alayhay wa sallam) said, "The Hour will not be established till you fight with the Khudh and the Kirman from among the non-Arabs. They will be of red faces, flat noses and small eyes; their faces will look like flat shields, and their shoes will be of hair."[6]

+

 وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا خوز وكرمان قوما

 من الأعاجم حمر الوجوه فطس الأنوف صغار الأعين كأن وجوههم المجان المطرقة- 

 اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم خوز اور کرمان جو عجمیوں کی ایک قوم ہے سے جنگ نہ کرلو ان کے چہرے سرخ ناکیں چپٹی ہوئی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان لوگوں کے چہرے چپٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1071 

Which Iranis having faces like Shields(or flat faces)?

As the above Ahadith clearly mentions that the faces of these followers of Dajjal will be like “flat shields”,its obvious that this means the Turks.

Now does the Turks live in Iran?

Iran also have considerable Turk population and they are known as Azeri Turks or the Turks from Azerbaijan.

According to Olivier Roy: "The mass of the Oghuz Turkic tribes who crossed the Amu Darya towards the west left the Iranian plateau, which remained Persian, and established themselves more to the west, in Anatolia. Here they divided into Ottomans, who were Sunni and settled, and Turkmens, who were nomads and in part Shiite (or, rather, Alevi). The latter were to keep the name “Turkmen”for a long time: from the 13th century onwards they “Turkised”the Iranian populations of Azerbaijan (who spoke west Iranian languages such as Tat, which is still found in residual forms), thus creating a new identity based on Shiism and the use of Turkish. These are the people today known as Azeris."[7][9].

Richard Thomas, Roger East, and Alan John Day state:

“The 15–20 million Azeri Turks living in northern Iran, ethnically identical to Azeris, have embraced Shia Islam and are well integrated into Iranian society.[8]

Common point in both the above Locations

In both the locations people with “Turk” culture are common and for them the word “faces like shields” is commonly used.

Also the following hadith clearly tells that the people with faces like flat shields are the Turks.

Narrated Abu Huraira: The Prophet(Salallaho alayhay wa sallam)said, "The Hour will not be established till you fight a nation wearing hairy shoes, and till you fight the Turks, who will have small eyes, red faces and flat noses; and their faces will be like flat shields.[9]

And in the following hadith,the Turks are mentioned to have flat faces like shields.

Narrated Abu Huraira: The Prophet(Salallaho alayhay wa sallam)said, "The Hour will not be established till you fight a nation wearing hairy shoes, and till you fight the Turks, who will have small eyes, red faces and flat noses; and their faces will be like flat shields. And you will find that the best people are those who hate responsibility of ruling most of all till they are chosen to be the rulers. And the people are of different natures: The best in the pre-lslamic period are the best in Islam. A time will come when any of you will love to see me rather than to have his family and property doubled."[10]

 

The above two ahadith have the word “faces like shields common” and its also told that these will be turks.So the first hadith means that the Turks of Khurasan will be the followers of Dajjal

 Does the above ahadith points towards Mongols?

For ahadith that do not point towards the location, it is possible that Mongols and Turks both are mentioned separately.

But we cannot combine them together as Ahadith are telling about two distinct groups and in two distinct times. As you can see in the following ahadith.

66 - (2912) حدثنا أبو كريب. حدثنا وكيع وأبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "تقاتلون بين يدي الساعة قوما نعالهم الشعر. كأن وجوههم المجان المطرقة. حمر الوجوه، صغار الأعين".

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: You shall fight in the hours to come against a nation wearing shoes made of hair and faces like hammered shields, with red complexion and small eyes.[11]

Also the following hadith clearly tells about two different groups.Also telling that Turks are those having faces like shields and are different from Mongols:

 Narrated 'Amr bin Taghlib: The Prophet said, "One of the portents of the Hour is that you will fight with people wearing shoes made of hair; and one of the portents of the Hour is that you will fight with broad-faced people whose faces will look like shields coated with leather."[12]

Also the following hadith again points out towards the “faces like shields” of the Turks and differentiate them from the other groups i.e The Mongols

وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة. حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال "لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر. ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الأعين، ذلف الآنف".

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The Last Hour would not come until you fight with a people wearing shoes of hair and the Last Hour would not come until you fight with a people having small eyes and broad snub noses[13].

Also the following hadith tells that the “flat faced people” are the Turks

حدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، ثنا خلاَّد بن يحيى، ثنا بشير بن المهاجر؛ ثنا عبد اللّه بن بريدة، عن أبيه،عن النبيِّ صلى اللّه عليه وسلم في حديث "يقاتلكم قومٌ صغار الأعين" يعني الترك، قال: "تسوقونهم ثلاث مرارٍ حتى تلحقوهم بجزيرة العرب، فأما في السياقة الأولى فينجو من هرب منهم، وأما في الثانية فينجو بعضٌ ويهلك بعضٌ، وأما في الثالثة فيصطلمون" أو كما قال

Hazrat Buraida r.a(Companion of Dear Prophet Muhammad Salallaho alayhay wa sallam) reported that Dear Prophet Muhammad Salallaho alayhay wa sallam) said: A nation will wage war with you who will have small eyes,meaning the TURKS.You will drive them three times until you will drive them to the Arabian Peninsula .The first time you push them back ,those who will run away among them will get salvation,and in the 2nd time some will get salvation and some will be killed and the third time u drive them back,they will be up rooted or the way you said it.[14]

جعفر بن مسافر تنسی، خلاد بن یحیی، بشیر بن مہاجر، حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حدیث میں فرمایا کہ تم لوگ قتال کرو گے ایسی قوم سے جو چھوٹی آنکھوں والی ہوگی یعنی ترکوں سے۔ تم انہیں تین مرتبہ ہانکو گے یہاں تک کہ انہیں جزیرة العرب سے جاملاؤ گے پس پہلی مرتبہ ہانکنے میں جو ان میں سے بھاگ جائے گا وہ نجات پا جائے گا۔ دوسری مرتبہ میں بھی بعض نجات پاجائیں گے اور بعض ہلاک ہوجائیں گے جبکہ تیسری مرتبہ بھی سب کے سب جڑ سے اکھاڑ دئیے جائیں گے سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر911

Are there Mongols in Khurasan or Iran?

If we check we find out that there are no Mongols living in the two areas mentioned in the ahadith.Only nations with Turkish culture live in both the areas. This another proof that the Turks are mentioned as the Army of Dajjal and not the Mongols..

It should be also noted that Central Asian Turks have close culture with the Mongols that’s why they also have used the clothes of hair or hairy shoes as the following hadith tells (about their common culture).

وحدثني حرملة بن يحيى. أخبرنا ابن وهب. أخبرني يونس عن ابن شهاب. أخبرني سعيد بن المسيب؛ أن أبا هريرة قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا تقوم الساعة حتى تقاتلكم أمة ينتعلون الشعر. وجوههم مثل المجان المطرقة".

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The Last Hour would not come until a people wearing shoes of hair fight against you having their faces like hammered shields.[15]

Mongols are known as one Nation while Turks are divided in Different Nations

Khorasan (part of central Asia) has different nations sharing the same Turk culture.LikeUzbekistan,Turkamanistan,Hazarapeople,Azarbaijan,Tajikistan,

Chechenya etc etc. These are different people but all of them share the same Turkish culture.For example Tajiks are not originally Turks but they have Turkish culture and in the words of Britannica 1997:

“Tajik people have been Turkicised in the past centuries”

Now the word used in the first hadith  is TURK NATIONS  OF KHORASAN. Which clearly tells that in KHORASAN there are different races with different names but all are known as TURKS which clearly points out towards these nations.

On the other we don’t know different countries of Mongols as they are known to be a single nation unlike the Turks of Central who have different falvours. This also proves that the first hadith points towards the Turks of Central Asia and not the Mongols.

 

Decendancy of the people with faces like shields,The Turks


حدثنا محمد بن يحيی بن فارس حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثني أبي حدثنا سعيد بن جمهان حدثنا مسلم بن أبي بکرة قال سمعت أبي يحدث أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال ينزل ناس من أمتي بغاط يسمونه البصرة عند نهر يقال له دجلة يکون عليه جسر يکثر أهلها وتکون من أمصار المهاجرين قال ابن يحيی قال أبو معمر وتکون من أمصار المسلمين فإذا کان في آخر الزمان جا بنو قنطورا عراض الوجوه صغار الأعين حتی ينزلوا علی شط النهر فيتفرق أهلها ثلاث فرق فرقة يأخذون أذناب البقر والبرية وهلکوا وفرقة يأخذون لأنفسهم وکفروا وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم ويقاتلونهم وهم الشهدا

 Narrated AbuBakrah:The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: Some of my people will alight on low-lying ground, which they will call al-Basrah, beside a river called Dajjal (the Tigris) over which there is a bridge. Its people will be numerous and it will be one of the capital cities of immigrants (or one of the capital cities of Muslims, according to the version of Ibn Yahya who reported from AbuMa'mar).

At the end of time the descendants of Qantura' will come with broad faces and small eyes and alight on the bank of the river. The town's inhabitants will then separate into three sections, one of which will follow cattle and (live in) the desert and perish, another of which will seek security for themselves and perish, but a third will put their children behind their backs and fight the invaders, and they will be the martyrs.[16]

 

 محمد بن یحیی بن فارس، عبدصمد بن عبدالوراث، ، سعید بن جمہان، حضرت مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ، ، غائط، ، میں جسے وہ لوگ بصرہ کا نام دیں گے ایک نہر کے پاس اتریں گے جسے، ، دجلہ، ، کہا جاتا ہے اس پر ایک پل ہوگا اس کی آبادی زیادہ ہوگی اور وہ مسلمان مہاجرین کے شہروں کے ہوں گے محمد بن یحیی کہتے ہیں کہ ابومعمر نے فرمایا کہ مسلمانوں کے شہروں کے مہاجرین ہوں گے جب آخری زمانہ آئے گا تو بنوقنطورا (ترک) آئیں گے جو چوڑے چہروں والے اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے تو اس کے باشندے تین گروہوں میں منتشر ہوجائیں گے ایک گروہ تو بیلوں کی دموں اور خشک میدانی علاقوں کو پکڑ لے گا۔ (زراعت میں لگ جائیں گے) اور ہلاک ہوجائے گا دوسرا گروہ اپنی جانوں کے لے لے گا (اپنی جانیں بچانے کے لیے) کفر اختیار کرے گا اور تیسرا اگر وہ اپنی اولادوں کو پیٹھ پیچھے چھوڑ دے گا اور ان سے قتال کرے گا اور وہ شہداء ہوں گے۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 912

Once again  the word Broad Faces is used for the Turks in the above hadith.Combining it with the previous ahadith it is again clear that here Bani Qanturah means the Turks.

Who is Qaturah?

Qantura was one of Sayyidna Ibrahim's Canaanite wives whom he married after the deaths of Sarah and Hajar, or a concubine,who came from Central Asis.She bore him three sons whom Sayyidna Ibrahim sent to Khorasan.They complained of this,saying that Ismail had been sent to a holy place and Ishaq was kept beside him,but they were sent to Khorasan.Sayyidna Ibrahim(Alayhay salam) taught them and invocation.When they experienced drought in Khorasan,these three sons were sought by the people of the area to relieve the drought,for that invocation was always accepted.They prayed and it began to rain and the drought ended.Following that their desencdants were addressed as "Khan"- a title of importance to the Turks(who inhibited Khorasan at that time).The people whould not touch the tribe,out of respect and reverence,even for the point of avoiding one drop of their drop of their blood to fall on the earth in fear it would bring about Allah's revenge.Because of this tremendous respect,if a descendant of Qantura commited a capital crime he could not be punished by the sword,which is the tradition of the Turks.Instead a bowstring would be used to throttle the guilty,in order to prevent his blood from falling on the ground,and this was a tradition of the descendants of Ibrahim.This practice spread among all the Turks.

 

The following famous Islamic Historians have clearly told that the Turks belong to the sons of Qanturah and they settled in the East and Khurasan and beyond the Oxus (Ma war a an Nahar)

  • Ibn Katheer Al-Di-mashqi
  • ibn-Sa'd
  • Al-Tabari
  • Al-Jahiz

 Famous scholar Ibn Katheer Al-Di-mashqi. writes:

“The Turks are from the prgony of Qantoorah who was the female slave of Sayyidna Ibrahim”.[17]

Al-Di-mashqi also says that according to one tradition the Turks were the children of Abraham by Keturah, whose father belonged to the original Arab stock (al-'Arab al-'Aribah). Descendants of other sons of Abraham, namely the Soghdians and the Kirgiz, were also said to live beyond the Oxus..."

Al-Jahiz similarly refers to the legend of the sons of Abraham and Keturah settling in Khurasan but does not mention the Khazars.[18]

The tale of a meeting in Khurasan between the sons of Keturah (Gen. 25:1; 25:4; 1 Chr. 1:32-33) and the Khazars (Ashkenaz Gen. 10:3) where the  Khaqan is mentioned is quoted from the Sa'd and al-Tabari by Poliak. (Loc. cit.; Khazaria, 23,142, 148; Cf. ibn-Sa'd, I, i, 22; Tabari I, i, 347ff))

 

Some other references telling about the Turkish origin from Qanturah can be found in the following books also

 

  • The Middle East remembered: forged identities, competing narratives ... By Jacob Lassner  at Page 194
  • Tracing our Ancestors by: Frederick Haberman at Page 14,15
  • Risala by Al-Jahiz 12-15

3.          DAJJAL’S ARMY OF PEOPLE FROM

 EAST READING QURAN WITH

 HYPOCRICY

Dajjal’s Army of Hypocrites Reading Quran & having Shaved Heads

Following hadith tells about followers Hypocrisy of Dajjal who will be reciting Quran(without acting upon Quran)

 أخبرنا محمد بن معمر البصري الحراني قال حدثنا أبو داود الطيالسي قال حدثنا حماد بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن شريک بن شهاب قال کنت أتمنی أن ألقی رجلا من أصحاب النبي صلی الله عليه وسلم أسأله عن الخوارج فلقيت أبا برزة في يوم عيد في نفر من أصحابه فقلت له هل سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يذکر الخوارج فقال نعم سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم بأذني ورأيته بعيني أتي رسول الله صلی الله عليه وسلم بمال فقسمه فأعطی من عن يمينه ومن عن شماله ولم يعط من وراه شيا فقام رجل من وراه فقال يا محمد ما عدلت في القسمة رجل أسود مطموم الشعر عليه ثوبان أبيضان فغضب رسول الله صلی الله عليه وسلم غضبا شديدا وقال والله لا تجدون بعدي رجلا هو أعدل مني ثم قال يخرج في آخر الزمان قوم کأن هذا منهم يقرون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الإسلام کما يمرق السهم من الرمية سيماهم التحليق لا يزالون يخرجون حتی يخرج آخرهم مع المسيح الدجال فإذا لقيتموهم فاقتلوهم هم شر الخلق والخليقة - سنن نسائی

 محمد بن معمر بصری جرانی، ابوداؤد طیالسی، حماد بن سلمہ، الازرق بن قیس، شریک بن شہاب سے روایت ہے کہ مجھ کو تمنا تھی کہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات کروں۔ اتفاق سے میں نے عید کے دن حضرت ابوبرزہ اسلمی سے ملاقات کی اور ان کے چند احباب کے ساتھ ملاقات کی میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ خوارج کے متعلق سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے کان سے سنا ہے اور میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں کچھ مال آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال ان حضرات کو تقسیم فرما دیا جو کہ دائیں جانب اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے اور جو لوگ پیچھے کی طرف بیٹھے تھے ان کو کچھ عطاء نہیں فرمایا چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال انصاف سے تقسیم نہیں فرمایا وہ ایک سانولے (یعنی گندمی) رنگ کا شخص تھا کہ جس کا سر منڈا ہوا تھا اور وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت سخت ناراض ہو گئے اور فرمایا خدا کی قسم! تم لوگ میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی دوسرے کو (اس طریقہ سے) انصاف سے کام لیتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ پھر فرمایا آخر دور میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے یہ آدمی بھی ان میں سے ہے کہ وہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دائرہ اسلام سے اس طریقہ سے خارج ہوں گے کہ جس طریقہ سے تیر شکار سے فارغ ہو جاتا ہے ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ لوگ سر منڈے ہوئے ہوں گے ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے پیچھے لوگ دجال ملعون کے ساتھ نکلیں گے۔ جس وقت ان لوگوں سے ملاقات کرو تو ان کو قتل کر ڈالو۔ وہ لوگ بدترین لوگ ہیں اور تمام مخلوقات سے برے انسان ہیں۔ سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 407 

It was narrated that Sharik bin Shihab said: “I used to wish that I could meet a man among the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and ask him about the Khawanj. Then I met Abu Barzah on the day of ‘Id, with a number of his companions. I said to him: ‘Did you hear the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم mention the Khawarij?’ He said: ‘Yes. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم with my own cars, and saw him with my own eyes. Some wealth was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he distributed it to those on his right and on his left, but he did not give anything to those who were behind him. Then a man stood behind him and said: “Muhammad! You have not been just in your division!” He was a man with black patchy (shaved) hair,t wearing two white garments. So Allah’s Messenger صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, became very angry and said: “By Allah! You will not find a man after me who is more just than me.” Then he said: “A people will come at the end of time; as if he is one of them, reciting the Qur’an without it passing beyond their throats. They will go through Islam just as the arrow goes through the target. Their distinction will be shaving. They will not cease to appear until the last of them comes with Al-MasIh Ad Dajjál. So when you meet them, then kill them, they are the worst of created beings.” (Hasan)

These  Hypocrites will come from the East & Dajjal will be from them

means that this

قال وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول سيخرج أناس من أمتي من قبل المشرق يقرون القرآن لا يجاوز تراقيهم كلما خرج منهم قرن قطع كلما خرج منهم قرن قطع حتى عدها زيادة على عشرة مرات كلما خرج منهم قرن قطع حتى يخرج الدجال في بقيتهم- مسند احمد

 اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میری امت میں سے مشرقی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب بھی ان کی کوئی نسل نکلے گی اسے ختم کردیا جائے گا یہ جملہ دس مرتبہ دہرایا یہاں تک کہ ان کے آخری حصے میں دجال نکل آئے گا۔ مسند احمد:جلدسوم:حدیث نمبر2361

Also the following Hadith tells that same

ثم قال حدث فإنا قد نهينا عن الحديث فقال ما كنت لأحدث وعندي رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم من قريش فقال عبد الله بن عمرو سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يخرج قوم من قبل المشرق يقرون القرآن لا يجاوز تراقيهم كلما قطع قرن نشأ قرن حتى يخرج في بقيتهم الدجال-مسند احمد: 

  پھر فرمایا تم حدیث بیان کرو کیونکہ ہمیں تو اس سے روک دیا گیاہے نوف نے کہا کہ صحابی رسول اللہ اور وہ بھی قریشی کی موجودگی میں حدیث بیان نہیں کر سکتا چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم نکلے گی یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب بھی ان کی ایک نسل ختم ہو گی دوسری پیدا ہو جائے گی یہاں تک کہ ان کے آخر میں دجال نکل آئے گا۔ مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 2443 

Also the following Hadith tells that same

حدثنا عفان حدثنا مهدي بن ميمون حدثنا محمد بن سيرين عن معبد بن سيرين عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يخرج أناس من قبل المشرق يقرون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ثم لا يعودون فيه حتى يعود السهم على فوقه قيل ما سيماهم قال سيماهم التحليق والتسبيت- مسند احمد

                 حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرق کی جانب سے ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر سے شکار نکل جاتا ہے اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، کسی نے ان کی نشانی پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی نشانی ٹنڈ کرانا اور لیس دار چیزوں سے بالوں کو جمانا ہوگی۔ مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 628

These  Hypocrites will from the Arab tribe of Bani Tamim

Also the following Hadith tells that some Arabs from the East having shaved heads and reading Quran hypocritically will create great afflictions.

 

حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة أخبرنا الأزرق بن قيس عن شريك بن شهاب قال كنت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يحدثني عن الخوارج فلقيت أبا برزة في يوم عرفة في نفر من أصحابه فقلت يا أبا برزة حدثنا بشي سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله في الخوارج فقال أحدثك بما سمعت أذني ورأت عيناي أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بدنانير فكان يقسمها وعنده رجل أسود مطموم الشعر عليه ثوبان أبيضان بين عينيه أثر السجود فتعرض لرسول الله صلى الله عليه وسلم فأتاه من قبل وجهه فلم يعطه شيا ثم أتاه من خلفه فلم يعطه شيا فقال والله يا محمد ما عدلت منذ اليوم في القسمة فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم غضبا شديدا ثم قال والله لا تجدون بعدي أحدا أعدل عليكم مني قالها ثلاثا ثم قال يخرج من قبل المشرق رجال كان هذا منهم هديهم هكذا يقرون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية لا يرجعون إليه ووضع يده على صدره سيماهم التحليق لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم فإذا رأيتموهم فاقتلوهم قالها ثلاثا شر الخلق والخليقة قالها ثلاثا وقد قال حماد لا يرجعون فيه- مسند احمد

                 شریک بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ نبی علیہ السلام کے کسی صحابی سے 

ملاقات ہو جائے اور وہ مجھ سے خوارج کے متعلق حدیث بیان کریں، چنانچہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت ابوبرزہ رضی

 اللہ عنہ سے ان کے چند ساتھیوں کے ساتھ میری ملاقات ہو گئی ، میں نے ان سے عرض کیا اے ابوبرزہ! خوارج کے حوالے

 سے آپ نے نبی علیہ السلام کو اگر کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو تو وہ حدیث ہمیں بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا میں تم سے وہ

 حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے کانوں نے سنی اور میری آنکھوں نے دیکھی۔ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام کے پاس کہیں سے

 کچھ دینار آئے ہوئے تھے، نبی علیہ السلام وہ تقسیم فرما رہے تھے، وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے

 ہوئے تھے، اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشانات

 تھے، وہ نبی علیہ السلام کے سامنے آیا، نبی علیہ السلام نے اسے کچھ نہیں دیا، دائیں جانب سے آیا لیکن نبی علیہ السلام

 نے کچھ نہیں دیا، بائیں جانب سے اور پیچھے سے آیاتب بھی کچھ نہیں دیا، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا بخدا اے محمد!

 صلی اللہ علیہ وسلم، آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں، آپ نے انصاف نہیں کیا، اس پر نبی علیہ السلام کو شدید غصہ

 آیا، اور فرمایا بخدا! میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤ گے، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا کہ مشرق 

کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے، غالباً یہ بھی ان ہی میں سے ہے، اور ان کی شکل وصورت بھی ایسی ہی ہوگی، یہ

 لوگ قرآن تو پڑھتے ہوںگے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر

 شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئںگے، یہ کہہ کر نبی علیہ السلام نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، ان کی

 علامت سر منڈانا ہوگی، یہ لوگ ہر زمانے میں نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص بھی نکل آئے گا، جب

 تم انہیں دیکھنا تو انہیں قتل کردینا، تین مرتبہ فرمایا اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔ مسند

 احمد:جلد نہم:حدیث نمبر21

It was narrated that Sharik bin Shihab said: “I used to wish that I could meet a man among the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and ask him about the Khawanj. Then I met Abu Barzah on the day of ‘Id, with a number of his companions. I said to him: ‘Did you hear the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم mention the Khawarij?’ He said: ‘Yes. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم with my own cars, and saw him with my own eyes. Some wealth was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he distributed it to those on his right and on his left, but he did not give anything to those who were behind him. Then a man stood behind him and said: “Muhammad! You have not been just in your division!” He was a man with black patchy (shaved) hair,t wearing two white garments. So Allah’s Messenger صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, became very angry and said: “By Allah! You will not find a man after me who is more just than me.” Then he said: “A people will come at the end of time; as if he is one of them, reciting the Qur’an without it passing beyond their throats. They will go through Islam just as the arrow goes through the target. Their distinction will be shaving. They will not cease to appear until the last of them comes with Al-MasIh Ad Dajjál. So when you 

meet them, then kill them, they are the worst of created beings.” (Hasan)


We see the person above is speaking Arabic so he is an Arab

In the following hadith this is told that the above mentioned person is from the Arab  tribe of Banu Tamim.

 

Narrated Abu Said Al-Khudri:

While we were with Allah's Apostle who was distributing (i.e. some property), there came Dhu-l-Khuwaisira, a man from the tribe of Bani Tamim and said, "O Allah's Apostle! Do Justice." The Prophet said, "Woe to you! Who could do justice if I did not? I would be a desperate loser if I did not do justice." 'Umar said, "O Allah's Apostle! Allow me to chop his head off." The Prophet said, "Leave him, for he has companions who pray and fast in such a way that you will consider your fasting negligible in comparison to theirs. They recite Qur'an but it does not go beyond their throats (i.e. they do not act on it) and they will desert Islam as an arrow goes through a victim's body, so that the hunter, on looking at the arrow's blade, would see nothing on it; he would look at its Risaf and see nothing: he would look at its Na,di and see nothing, and he would look at its Qudhadh ( 1 ) and see nothing (neither meat nor blood), for the arrow has been too fast even for the blood and excretions to smear. The sign by which they will be recognized is that among them there will be a black man, one of whose arms will resemble a woman's breast or a lump of meat moving loosely. Those people will appear when there will be differences amongst the people." I testify that I heard this narration from Allah's Apostle and I testify that 'Ali bin Abi Talib fought with such people, and I was in his company. He ordered that the man (described by the Prophet ) should be looked for. The man was brought and I looked at him and noticed that he looked exactly as the Prophet(Muhammad Salallaho alay hay wa sallam)had described him[19].


 Does the above Hadith only mean the Khwarijh?

If we read the above Ahadith we The above hadith clearly tells that

“These People will appear time again and again until their last person will appear”.

This shows that these ahadith points towards the end of times also and not just the Khawarijh.

Also in the hadith its told that Dajjal will be amongst them shows that that these ahadith points to the end of times of also and not only the Khwarijh.

The following hadith tells us that the person mentioned above was from Najd.

Does the “East” mean “Najad”?

In the following hadith Sahaba calls Yamama (part of Nejd) as the East:

حدثنا سريج حدثنا ملازم بن عمرو حدثني عبد الله بن بدر أنه خرج في نفر من أصحابه حجاجا حتى وردوا مكة فدخلوا المسجد فاستلموا الحجر ثم طفنا بالبيت أسبوعا ثم صلينا خلف المقام ركعتين فإذا رجل ضخم في إزار وردا يصوت بنا عند الحوض فقمنا إليه وسألت عنه فقالوا ابن عباس فلما أتيناه قال من أنتم قلنا أهل المشرق وثم أهل اليمامة قال فحجاج أم عمار قلت بل حجاج قال فإنكم قد نقضتم حجكم قلت قد حججت مرارا فكنت أفعل كذا قال فانطلقنا مكاننا حتى يأتي ابن عمر فقلت يا ابن عمر إنا قدمنا فقصصنا عليه قصتنا وأخبرناه ما قال إنكم نقضتم حجكم قال أذكركم بالله أخرجتم حجاجا قلنا نعم فقال والله لقد حج رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر كلهم فعل مثل ما فعلتم

مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1454      حدیث مرفوع           

  عبداللہ بن بدر کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ کر حرم شریف میں داخل ہوئے حجر اسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگا کر طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ، اچانک بھاری وجود کا ایک آدمی چادر اور تہبند لپیٹے ہوئے نظر آیا جو حوض کے پاس سے ہمیں آوازیں دے رہا تھا ، ہم اس کے پاس چلے گئے، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا تو پتہ چلاکہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تھے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگے کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا اہل مشرق، پھر اہل یمامہ ، انہوں نے پوچھا کہ حج کرنے کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے؟ ہم نے عرض کیا کہ حج کی نیت سے آئے ہیں ، وہ فرمانے لگے کہ تم نے اپناحج ختم کر دیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حج کیا ہے اور ہر مرتبہ اسی طرح کیا ہے؟ پھر ہم اپنی جگہ چلے گئے، یہاں تک کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے ساراواقعہ ذکر کیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ بھی ذکر کیا کہ تم نے اپناحج ختم کردیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں یہ بتاؤ کہ کیا تم حج کی نیت سے نکلے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما نے بھی حج کیا ہے اور ان سب نے اسی طرح کیا ہے جسے تم نے کیا۔

 

The following hadith also describes Yamama  as part of Nejd.

أخبرنا قتيبة حدثنا الليث عن سعيد بن أبي سعيد أنه سمع أبا هريرة يقول بعث رسول الله صلی الله عليه وسلم خيلا قبل نجد فجات برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن أثال سيد أهل اليمامة فربط بسارية من سواري المسجد مختصر

سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 716         حدیث مرفوع           مکررات 10  بدون مکرر

 قتیبہ، لیث، سعید بن ابوسعید، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد شہر کی جانب روانہ فرمایا وہ قبیلہ بنی حنیفہ میں سے ایک شخص کو لے کر آئے کہ جس کو حضرت ثمامہ بن اثال کہتے تھے اور وہ شخص یمامہ کا سردار تھا تو اس کو ایک ستون سے باندھ دیا گیا (مختصرا) یہ حدیث کافی طویل ہے۔

It was narrated from Saeed bin Abi Saeed that he heard Abu Hurairah say: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sent some horsemen toward Najd, and they brought back a man from Banu Hanifah who was called Thumamah bin Uthal, the chief of the people of Al-Yamamah. The he was tied to one of the pillars of the Masjid.” (Sahih)

Najad is the origin of Afflictions

حدثنا محمد بن المثنی قال حدثنا حسين بن الحسن قال حدثنا ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال قال اللهم بارک لنا في شامنا وفي يمننا قال قالوا وفي نجدنا قال قال اللهم بارک لنا في شامنا وفي يمننا قال قالوا وفي نجدنا قال قال هناک الزلازل والفتن وبها يطلع قرآن الشيطان- صحیح بخاری

                محمد بن مثنیٰ، حسین بن حسن، ابن عون، نافع، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ ہمیں ہمارے شام میں اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں، تو انہوں نے کہا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا گروہ بھی نکلے گا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 988 

Narrated Ibn 'Umar: (The Prophet) said, "O Allah! Bless our Sham and our Yemen." People said, "Our Najd as well." The Prophet again said, "O Allah! Bless our Sham and Yemen." They said again, "Our Najd as well." On that the Prophet said, "There will appear earthquakes and afflictions, and from there will come out the side of the head of Satan."[20]

Does Iraq means Najad?

This is wrong as the previous Ahadith its told that

·         Yamama is Nejd

·         East stands for Nejd

Also the following hadith proves that Iraq and Nejd are different from each other

أخبرني محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي قال حدثنا أبو هاشم محمد بن علي عن المعافی عن أفلح بن حميد عن القاسم عن عاشة قالت وقت رسول الله صلی الله عليه وسلم لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل الشام ومصر الجحفة ولأهل العراق ذات عرق ولأهل نجد قرنا ولأهل اليمن يلملم

سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 567         حدیث مرفوع           مکررات 3

 محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی، ابوہاشم محمد بن علی، معافی، افلح بن حمید، قاسم، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے لوگوں کامیقات ذدالحلیفہ مقرر فرمایا پھر اہل مصر کا حجفہ اور اہل عراق کا ذات عرق اور نجد والوں کا قرآن اور یمن کے لوگوں کا میقات یلملم مقرر کیا۔

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم designated Dhul-Hulaifah as the MIqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash Sham and Egypt, Dhat ‘Irq for the people of Al-’Iraq, Qarn for the people of Najd and Yalamlam for the people of Yemen.” (Sahih)

 

 

Who are these People reading Quran without Acting upon it?

It seems that the above Hadith is telling about Khwarijh but in the same hadith its told that this will happen in the end of times which means that this also implies to people other than the Kawarijh.

The Dajjal Army’s Eastern origin is Different from Imam Mahdi Army’s Eastern origin

The Dajjal army’s East will be a place will be different from the Imam Mahdi’s Army Eastern origin.

The following hadith tells that this East of affliction is in Arab area

It is clear from the following hadith which tells that some people from Arabs will come from the East,reading Quran but not acting upon it and Dajjal will come among them.

حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة أخبرنا الأزرق بن قيس عن شريك بن شهاب قال كنت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يحدثني عن الخوارج فلقيت أبا برزة في يوم عرفة في نفر من أصحابه فقلت يا أبا برزة حدثنا بشي سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله في الخوارج فقال أحدثك بما سمعت أذني ورأت عيناي أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بدنانير فكان يقسمها وعنده رجل أسود مطموم الشعر عليه ثوبان أبيضان بين عينيه أثر السجود فتعرض لرسول الله صلى الله عليه وسلم فأتاه من قبل وجهه فلم يعطه شيا ثم أتاه من خلفه فلم يعطه شيا فقال والله يا محمد ما عدلت منذ اليوم في القسمة فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم غضبا شديدا ثم قال والله لا تجدون بعدي أحدا أعدل عليكم مني قالها ثلاثا ثم قال يخرج من قبل المشرق رجال كان هذا منهم هديهم هكذا يقرون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية لا يرجعون إليه ووضع يده على صدره سيماهم التحليق لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم فإذا رأيتموهم فاقتلوهم قالها ثلاثا شر الخلق والخليقة قالها ثلاثا وقد قال حماد لا يرجعون فيه- مسند احمد

                 

 شریک بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ نبی علیہ السلام کے کسی صحابی سے ملاقات ہو جائے اور وہ مجھ سے خوارج کے متعلق حدیث بیان کریں، چنانچہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے چند ساتھیوں کے ساتھ میری ملاقات ہو گئی ، میں نے ان سے عرض کیا اے ابوبرزہ! خوارج کے حوالے سے آپ نے نبی علیہ السلام کو اگر کچھ فرماتے ہوئے سنا ہو تو وہ حدیث ہمیں بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے کانوں نے سنی اور میری آنکھوں نے دیکھی۔ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے ہوئے تھے، نبی علیہ السلام وہ تقسیم فرما رہے تھے، وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے، اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشانات تھے، وہ نبی علیہ السلام کے سامنے آیا، نبی علیہ السلام نے اسے کچھ نہیں دیا، دائیں جانب سے آیا لیکن نبی علیہ السلام نے کچھ نہیں دیا، بائیں جانب سے اور پیچھے سے آیاتب بھی کچھ نہیں دیا، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا بخدا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم، آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں، آپ نے انصاف نہیں کیا، اس پر نبی علیہ السلام کو شدید غصہ آیا، اور فرمایا بخدا! میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤ گے، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے، غالباً یہ بھی ان ہی میں سے ہے، اور ان کی شکل وصورت بھی ایسی ہی ہوگی، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوںگے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئںگے، یہ کہہ کر نبی علیہ السلام نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا، ان کی علامت سر منڈانا ہوگی، یہ لوگ ہر زمانے میں نکلتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص بھی نکل آئے گا، جب تم انہیں دیکھنا تو انہیں قتل کردینا، تین مرتبہ فرمایا اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔ مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر21

 

The East of Dajjal afflictions is a hot climate area

The following hadith tells that the East of Dajjal’s army is a desert area as Camels are mentioned with it.

حدثنا عبد الرزاق أخبرنا عقيل بن معقل عن همام بن منبه قال قدمت المدينة فرأيت حلقة عند منبر النبي صلى الله عليه وسلم فسألت فقيل لي أبو هريرة قال فسألت فقال لي ممن أنت قلت من أهل اليمن فقال سمعت حبي أو قال سمعت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول الإيمان يمان والحكمة يمانية هم أرق قلوبا والجفا في الفدادين أصحاب الوبر وأشار بيده نحو المشرق- مسند احمد:

ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ حاضر ہوا میں نے مسجد نبوی میں منبر کے قریب ایک حلقہ درس دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا حلقہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حلقہ ہے میں نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا وہ کہنے لگے کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں اہل یمن میں سے ہوں یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے ایمان اور حکمت یمن والوں کی بہت عمدہ ہے یہ لوگ نرم دل ہوتے ہیں جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا- مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 371 

The East of Imam Mahdi’s Army is a cold climate area

When the “East” of Imam Mahdi is mentioned,then the word ICE is also mentioned showing that it will be a cold climate area(and camels are not find in a place with snow fall)

The East of Imam Mahdi’s Army is Khurasan

The Imam Mahdi’s army will come from the East as told in the following Hadith but the other two ahadith clearly tells that this East is different from the East of Dajjalic army.

 

حدثنا محمد بن يحيى وأحمد بن يوسف، قالا: حدثنا عبد الرزاق عن سفيان الثوري، عن خالد الحذاء، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء الرحبي، عن ثوبان؛ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:((يقتيل عند كنزكم ثلاثة كلهم ابن خليفة. ثم لا يصير إلى واحد منهم. ثم نطلع الرايات السود من قبل المشرق. فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم)).ثم ذكر شيئا لا أحفظه. فقال ((فإذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج. فإنه خليفة الله، المهدي)).في الزوائد: هذا إسناده صحيح. رجاله ثقات. ورواه الحاكم في المستدرك، وقال. صحيح على شرط الشيخين

ترجمۃ۔ حضرت ثوبان سے روایت ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمھارے ایک خزانے کی خاطر تین شخص قتال کریں گے( اورمارے جائیں گے) تینوں آدمی حکمران کے بیٹے ھوں گے لیکن وہ خزانہ ان میں سے کسی کو نہیں ملے گا پھر مشرق کی جانب سے کالے جھنڈے نمودار ھوں گے وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ یس سے قبل کسی نے ایسا قتل نہیں کیا ھوگا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ باتیں ذکر فرمائں جو مجھے یاد نہیں پھر فرمایا ک جب تم ان کو دیکھو تو ان سے بیعت کر لو چاھے تمھیں گھٹنوں کے بل برف کے اوپر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ھوں گے (رواہ ابن ماجہ ۔رواہ حاکم مستد رک

 

Thawban (R.A) reported that Dear Propet(salallaho alayhay wa sallam) said, “ Three people will fight for your treasure (and get killed).All three of them will be sons of a Ruler but none of them will get the treasure. Then Black Flags will appear from the East & will kill you as no one (in History) has killed you before. Then Dear Prophet(salallaho alayhay wa alay hesallam) said soemthing that I didn’t remember. Then again Dear Prophet(salallaho alayhay wa alay he sallam) said if you see him then give him your allegiance, even if you have to crawl over ice, because he is the Khalifah of Allah, the Mahdi.[21]

 

Note again that the word “ICE” is used here in the above location of the East and we all know that there is no ICE in the East of Madinah in the Arabian Peninsula which shows that this “East” does not lie in the Arabian peninsula.

The following 2 authentic ahadith further proves that the “East” in the above hadith means “Khurasan”.

عن ثوبانؓ مولٰی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسّلم قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسّلم اذا رائتم الّرایات الّسود جائت من قبل خراسان فاتوھا ولو حبو علی الثّلج فانّ فیھا خلییفۃ اللہ المہدی۔ رواہمسند احمد(۵:۲۷۷) والبیقہی فی الّدلائل وسندہ صحیح کذا فی الاذعۃ۔ص ۶۸
حضرت ثو بان
ؓ جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسّلم کے آزاد کرد ہ غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسّلم نے فرمایا ہے کہ جب تم دیکھو کہ سیاہ جھنڈے خراسان کی جانب سے آرہے ہیں تو ان میں شامل ہوجانا اگرچہ برف کے اوپر گھٹنوں کے بل چلنا ہی کیوں نہ پڑے کیونکہ ان میں اللہ تعالی کا خلیفہ مہدی ھوگا ( حوالہ۔مسند احمد(۵:۲۷۷) اور البیقہی فی الّدلائل ) اس کے علاوہ سیّد بدرعالم میرٹھی کی کتاب الامام المہدی حدیث نمبر۵۵۲۵

Dear Prophet Muhammad(salallaho alayhay wa alay he wa  sallam) said that”When you hear the   news of Black Flags coming from the East, then, you must join them even if you have to crawl over ice(to reach them).[22]

 

 

حدثنا يحيى بن غيلان وقتيبة بن سعيد قالا حدثنا رشدين بن سعد قال يحيى بن غيلان في حديثه قال حدثني يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن قبيصة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يخرج من خراسان رايات سود لا يردها شي حتى تنصب بإيليا—

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1599

 Abu Hurairah (R.A.) says that Rasulullah (Sallallahu Alayhi Wa  alay he wa sallam) said: "(Armies carrying) black flags will come from Khorasan( Land of the Rising Sun meaning the East). No power will be able to stop them and they will finally reach Eela (Baitul Maqdas) where they will erect their flags."[23]

Famous Hadith scholar Ali Mutaqqi says about the above hadith that it is authentic and further says in the beginning of his book that:

‘ وکل ما کان فی مسند احمد فھو مقبول ، فان الضعیف الذی فیہ یقرب من الحسن ‘۔(کنز ا لعمال علی ھامش مسند احمد)

محدث علی متّقی نے مسند احمد کے حوالے سے لکھا ہے۔
‘ جو حدیث مسند احمد کی جو بھی حدیث ھوگی وہ مقبول ھوگی ، اس میں اگر ضعف بھی ہو تو بھی وہ درجہ حسن کے قریب ہوتی ہے‘(کنز ا لعمال علی ھامش مسند احمد) صفحہ نمبر ۶۸، کتاب عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں۔مصنف مفتی نظام الدین شامزی


[1] Saheeh Bokhari Volume 4, Book 52, Number 178.

[2] Sunan Ibn Majah,Chapter Kitab-al-fitan Hadith 4078 at http://www.iid-alraid.de/Hadeethlib/ .Also in Saheeh Trimdi.Also in Mishkat Hadith 5251.

[3] Sunan Ibn Majah,Chapter Kitab-al-fitan Hadith 4078 at http://www.iid-alraid.de/Hadeethlib/ .Also in Saheeh Trimdi.Also in Mishkat Hadith 5251.

[4] Saheeh Bokhari hadith 812 vol 2 (HADITH 3375)

[5] Musnad Ahmad hadith 1278 vol 4

[7] Olivier Roy. “The new Central Asia”, I.B. Tauris, 2007.Pg 7

[8] Richard Thomas, Roger East, Alan John Day,Political and Economic Dictionary of Eastern Europe , Routledge, 2002, pg 41

[9] Bukhari Volume No: 4Book No: 56No: 787

 

[10] Al-Tirmidhi Hadith 5487

[12] Saheeh Bokhari Volume 4, Book 52, Number 178.

[13] Muslim Book 041, Number 6958

[14] Sunan Abu Daud, Awwal Kitab-al-Malahim ,Hadith 4305 at http://www.iid-alraid.de/Hadeethlib/Books/05/book291.htm

[15] Muslim Book 041, Number 6957

[17] Book of the End by Ibn Katheer Page 88

[18] Fada'il al-Atrak, transl. C.T. Harley Walker, J.R.A.S., 1915, 687

[19] Bokhari,Volume 4, Book 56, Number 807

[20] Saheeh Bokhari,vol 1,Hadith 988.

[21] Hakim Mustadrak Hadith 4084 Kitab-al-Fitan,Also in Sunan Ibn-e-Majah.Can be checked at  http://www.iid-alraid.de/Hadeethlib/hadethb.html . Also in Sunan Ibn Majah & Ahamad’s Musnad & other books of hadith.

[22] Musnad Ahmad 5:177.Also in Sunan Ibn Majah

[23] Musnad Imam Ahmad volume 4,Hadith 1599.Sunan Tirimdi (Chapter of Kitab-al-Fitan) Hadith 2371 and can be checked at  http://www.iid-alraid.de/Hadeethlib/hadethb.html. Also Jamia Tirimdi Volumer 3,Chapter of Kitab-al-Fitan , Hadith 151 at http://www.quranurdu.com/Ahadith

Comments